Wednesday , August 16 2017
Home / مضامین / خشک سالی کا اعلان کب کیا جاتا ہے ؟

خشک سالی کا اعلان کب کیا جاتا ہے ؟

راکیش دوبدو
آج ملک کے کئی علاقے شدید خشک سالی سے متاثر ہیں ۔ حکومت ہند کی متعدد وزارتوں نے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں راحت کاری شروع کی ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک میں خشک سالی کا اعلان کب کیا جاتا ہے ؟ اور وہ کیا پیمانے ہیں جن پر غور و خوض کیا جاتا ہے ؟
خشک سالی کیا ہے ؟
خشک سالی کی عالمی سطح پر کوئی جامع تعریف موجود نہیں ہے کیونکہ جغرافیائی طورپر دنیا کے ہر ملک میں مختلف حالات کے تحت خشک سالی ہوتی ہے جس کے اثرات بھی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں ۔ ’’ڈراٹ مینجمنٹ مینوئل‘‘ کی اجرائی وزارت زراعت کی جانب سے جاری کی گئی ہے ، کے مطابق خشک سالی دراصل موسم کا ہی ایک حصہ ہے اور ہر موسم میں رونما ہوسکتا ہے ۔ خشک سالی کیلئے گرما کے موسم کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ خصوصی طورپر جہاں بارش اوسط سے کم ہو اُن علاقوں میں خشک سالی رونما ہونے کے امکاات زائد ہوتے ہیں۔ دیگر آفات سماوی کے برعکس خشک سالی کچھ مختلف ہے جیسے
l خشک سالی کے آغاز اور خاتمہ کے بارے میں کوئی پیش قیاسی نہیں کی جاسکتی ۔
l یہ کچھ مہینوں سے لیکر کچھ سالوں تک بھی جاری رہ سکتی ہے ۔
l خشک سالی کتنی سنگین ہوگی اس کے بارے میں اور اس کے اثرات کے بارے میں کوئی پیش قیاسی یا میکانزم موجود نہیں ۔
l البتہ ہمہ جہتی انڈیکیٹرس زیادہ موثر ہوتے ہیں۔
خشک سالی کے اثرات :
خشک سالی کے بالراست اور بالواسطہ متعدد اثرات ہیں جو منفی نوعیت کے ہیں اُن اثرات کو معاشی ماحولیاتی اور سماجی میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
معاشی : خشک سالی کی وجہ سے پیداوار میں کمی اور زرعی شعبہ میں زبردست نقصان جس کی وجہ سے آمدنی بھی متاثر ہوتی ہے اور قوت خرید پر بھی اس کا منفی اثر مرتب ہوتا ہے خصوصی طورپر ایسے لوگ جن کا گزارہ صرف زراعت پر منحصر ہے اور ایسے لوگ جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔
ماحولیاتی : آبی ذخائر جیسے نہریں اور تالاب میں پانی کی سطح میں کمی جس کی وجہ سے پانی کی دستیابی مشکل ہوجاتی ہے ۔پینے کے پانی کو ترجیح دی جاتی ہے اور دیگر مقاصد کیلئے پانی کے استعمال کو روک دیا جاتا ہے جیسے نہانا اور کپڑے دھونا ، پانی کی کمی کی وجہ سے جنگلات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
سماجی : جب کسی مقام پر پانی کی قلت ہوجاتی ہے تو لوگ دوسرے مقامات کو نقل مکانی کرتے ہیں ۔ جب دوسرے مقام کو جاتے ہیں تو آمدنی میں کمی ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے مصارف کو کم کرلیتے ہیں جیسے اسکولوں سے بچوں کو نکال لینا (ترک تعلیم ) شادیاں ملتوی کردینا اور اپنے املاک فروخت کردینا۔ علاوہ ازیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آمدنی میں کمی کی وجہ سے غذا کی مقدار بھی متاثر ہوتی ہے اور کبھی کبھی ناقص غذا کے استعمال سے صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔
خشک سالی کا اعلان کب کیا جاتا ہے؟
چارانڈیکیٹرس بنام ناکافی بارش ، وہ علاقے جہاں بوائی کی گئی ہو ، نباتیاتی اختلافی انڈیکس اور مائسچرایڈیکوئیسی انڈیکس ایسے پیمانے ہیں جنھیں خشک سالی کا اعلان کرنے کیلئے زیرغور لایا جاتا ہے ۔ ان انڈیکٹیرس سے متعلق معلومات تعلقہ ؍ تحصیل ؍ بلاک سطح پر دستیاب رہتی ہے اور ان ہی سطحوں پر ریاستی حکومت خشک سالی کا اعلان کرتی ہے ۔
بارش میں کمی : بارش ہی خشک سالی کی کلیدی انڈیکیٹر ہے ۔ خشک سالی کا اعلان کرنے کے لئے گزشتہ کئی سالوں کی بارش کے اوسط کا تقابل موجود سال کی بارش کے اوسط سے کیا جاتا ہے جس میں اگر نمایاں کمی ہو تو حالات خشک سالی کی جانب گامزن تصور کئے جاتے ہیں ۔ بارش میں کمی یا زیادتی کیلئے کسی مخصوص مہینہ یا پورے موسم کا تقابل کیا جاتا ہے ۔ کبھی جون میں شدید بارش ہوتی ہے اور جولائی خشک رہتا ہے اس طرح اگست میں بارش ہوتی ہے تو ستمبر میں ندارد ۔ بارش کاڈیٹا آسانی سے دستیاب ہے جس کا اطلاق دو طریقوں سے کیا جاتا ہے
l ریاستی حکومت خشک سالی کا اعلان اُس وقت کرتی ہے جب جون اور جولائی میں اوسط بارش نہیں ہوتی یا پھر ان دو مہینوں میں ہوئی بارش 50% سے بھی کم ہو جس کے بعد مٹی اور نباتیات پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بارش کی زیادتی بھی کھیتوں اور فصلوں کیلئے نقصان دہ ہے اور کم بارش بھی ۔
l ریاستی حکومت خشک سالی کا اعلان اُس وقت کرتی ہے جب بارش کے پورے موسم میں یعنی جون سے ستمبر ( جنوب ۔ مغربی مانسون ) اور ؍ یا ڈسمبر تا مارچ ( شمال ۔ مشرقی مانسون ) 75% سے بھی کم بارش ریکارڈ کی گئی ہو ۔
بوائی کے علاقے :
بوائی بھی خشک سالی کے پھیلنے یا اُس کی سنگینی کا ایک انڈیکٹر ہے ۔ خشک سالی کے امکان سے اُس وقت تک انکار نہیں کیا جاسکتا ہے جب تک بوائی جولائی اور اگسٹ کے اختتام تک کاشتکاروں کے لئے مختص علاقہ سے 50% سے بھی کم ہو ۔ ربیع کی فصل کے موقع پر خشک سالی کے امکاات سے اُس وقت انکار نہیں کیا جاسکتا جب نومبر اور ڈسمبر کے اختتام تک بھی کاشتکاری کیلئے مختص علاقوں میں بوائی 50% سے بھی کم ہو ۔
نارملائزڈ ڈفرنس ویجیٹشن انڈیکس (NDVI)
دی نیشنل ایگریکلچرل ڈراٹ اسیسمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (NADAMS) جس کی تشکیل نیشنل ریموٹ سینسنگ سنٹر (NRSC) کی جانب سے کی گئی ہے ۔ دو ہفتہ میں ایک بار خشک سالی سے متعلق بلیٹن جاری کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ فصلوں سے متعلق اور خریف کے موسم کے حالات کے بارے میں ماہانہ بلیٹن جاری کرتا ہے اس طرح نارملائزڈ ڈفرنس ویجیٹیشن انڈیکس اور نارملائزڈ ڈفرنس ویٹینس کو پیش کیا جاتا ہے ۔ اس رپورٹ کے ذریعہ بوائی ۔ زمینی سطح پر پانی کے پھیلاؤ سے متعلق اُن کی مقدار اور ڈسٹرکٹ ؍ تعلقہ ؍ تحصیل ؍ بلاک سطح پر فصلوں کی صورتحال کی پوری تفصیل پیش کی جاتی ہے ۔ موجودہ طورپر آندھراپردیش ، بہار ، گجرات ، ہریانہ ، کرناٹک ، مہاراشٹرا ، مدھیہ پردیش ، اڈیشہ ، راجستھان ، تملناڈو ، تلنگانہ اور اُترپردیش جیسی 12 ریاستوں کا ان رپورٹس کے ذریعہ احاطہ کیا جاتا ہے ۔
مائسچر ایڈیکوئسی انڈیکس (MAI) :
مائسچر ایڈیکوئسی انڈیکس (MAI) دراصل ہفتہ وار پانی کی بچی ہوئی مقدار کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے ۔ وہ تناسب کے مماثل ہے ۔ (جسے فیصد کے مطابق پیش کیا جاتا ہے ) جو ایکچوئل ایواپوٹرانسپائریشن کو پوٹیشنل ایوایوٹرانسپائریشن کے مطابق کیا جاتا ہے جس کے بعد مٹی اور پانی کا توازن فصل کے زمانے میں دیکھا جاتا ہے ۔ خشک سالی کے اعلان سے قبل دیگر پہلوؤں پر بھی غور و خوض کیا جاتا ہے ۔
مابعد ازادی خشک سالی کے 15 سال
ہندوستان نے 1947 ء میں آزادی حاصل کی اور اُس کے بعد سے 15 سال ایسے آئے جو خشک سالی کے سال تھے جس کا احاطہ 1951 ء سے 2002 ء تک کیا گیا ہے ۔ جیسے 1951 ء 1952، 1965، 1966، 1968، 1969، 1971، 1972، 1974، 1979،1982 ، 1985، 1986، 1987 اور 2002 ۔ خشک سالی کا تناسب ایسا بھی رہا کہ 1950 ء کے دہے میں دو سال اور 1960 ء کے دہے میں چار سال ایسے آئے جو خشک سالی والے سال تھے ۔ 1970 ء اور 1980 ء کے دہے میں بھی چار چار سال ایسے آئے جو خشک سالی والے سال تھے ۔ 1990 ء کی دہائی میں ایک بھی سال ایسا نہیں تھا جو خشک سالی سے متاثر ہوا جبکہ اگلی خشک سالی 2002 ء میں آئی ۔ مابعد آزادی 1967 ء کی خشک سالی بدترین تھی جس سے فصلوں کو 69 تا 70% نقصان پہنچا اور 285 ملین آبادی متاثر ہوئی ۔ 2002 ء میں بھی 18 ریاستوں کے 300 ملین افراد خشک سالی سے متاثر ہوئے جو کہیں زیادہ تھی اور کہیں کم ۔ پانی اور چارہ کی کمی کی وجہ سے 150 ملین مویشی بھی متاثر ہوئے جبکہ اناج کی پیداوار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی جس کی مقدار 29 ملین ٹن تھی ۔ ماضی میں آئی کسی بھی خشک سالی میں اناج کی پیداوار میں اس قدر گراوٹ کبھی نہیں دیکھی گئی ۔
راحت رسانی کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ؟
حکومت ہند کی متعدد وزارتوں جیسے زراعت ، دیہی ترقی ، پینے کا پانی ، مویشی پالن ، غذا و عوامی تقسیم ، آبی وسائل ، اُمور داخلہ مالیات اور ریلویز نے راحت رسانی کے اقدامات کی منصوبہ بندی اور اُس پر عمل آوری کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ ریاستی حکومتیں خشک سالی سے متعلق تمام متعلقہ معلومات کے ساتھ اپنی رپورٹس پیش کرتی ہیں او رحکومت ہند اُن ہی رپورٹس کی بنیاد پر اپنا دست تعاون دراز کرتی ہے ۔ راحت رسانی کے اقدامات میں ریاستوں کو مالی تعاون ، کنٹجینسی فصلوں کی منصوبہ بندی ، راحت کیلئے روزگار ، غذائی تحفظ اور منفی اثرات کو زائل کرنے پیشرفت کرنا شامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT