Tuesday , May 30 2017
Home / مذہبی صفحہ / خطبات بھا ولپورمیں سیرت پاک کے نورانی گوشے

خطبات بھا ولپورمیں سیرت پاک کے نورانی گوشے

ڈاکٹرمحمد حمیداللہ رحمہ اللہ کے عظیم خطبات جو ’’خطبات بھاولپور‘‘کے نام سے شائع ہوئے ہیں،یہ خطبات مختلف علمی موضوعات پر مشتمل ہیں اورجو اسلامیہ یو نیورسٹی بھاولپورمیں مسلسل بارہ روز تک دئیے گئے تھے۔یہ تمام خطبات کسی تحریری یاد داشت کے بغیرڈاکٹرصاحب مرحوم نے اپنے حافظہ کے بنیادپر پیش فرمائے تھے،عبدالقیوم قریشی جو اس یونیورسٹی کے سن ۱۹۸۱ء میں وائس چانسلررہے ہیں نے اپنے تعارف میں اس بات کا برملہ اظہارکیا ہے کہ اس یونیورسٹی کے قیام اوراسکے ایک اسلامی یونیورسٹی کی حیثیت سے اپنا نام روشن کرنے میں ڈاکٹرصاحب مرحوم کے رہنمایانہ مشورے شامل حال رہے ہیں۔ان خطبات میں ایک اہم موضوع’’قانون بین الممالک ‘‘ہے ،اوریہ پانچواں خطبہ ہے ڈاکٹرصاحب مرحوم نے ابتداء میں     بین الممالک کا لفظ استعمال کئے جانے کی حکمت پر بحث کی ہے،پھر مختلف مملکتوں اورانکے خاندانوں اورکنبوں میں تعلقات پر بحث کرتے ہوئے اسلام سے قبل عربوں کے قبائل کا اپنی اپنی جگہ خود مختارہونے اورحالت امن وحالت جنگ میں انکی خودمختاری اورانکے آپسی صلح کرنے اورآپس میں معاہد ہ طے کرنے کے نظام کی صراحت کرتے ہوئے بتا یا ہے وہ ایسے ہی تھا جیسے آج کل بڑی بڑی سلطنتوں میں اس طرح کے معاہدات کا نظام رائج ہے۔قدیم یونان کی تاریخ بتاتی ہے کہ شہری مملکتوں کے تعلقات کی نوعیت انٹرنیشنل لاء کہے جانے کے قابل نہیں تھی بعدازاں فرنگی مصنفین کے نزدیک انٹرنیشنل لاء کے ضمن میں رومی دورکا قابل ذکرہونے کا تذکرہ کیا ہے، اس بحث کے ضمن میں مختلف ادوار کا تحقیقی جائز پیش کرتے ہوئے اس حقیقت پر روشنی ڈالی ہے کہ اس قانون کا آغاز اسلام کی دین ہے۔آگے بیان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کا خودبخود یا بہ استحقاق خود ممبربننا کسی سلطنت کے لئے ممکن نہیں جب تک دواورممبر سلطنتیں اس کی سفارش نہ کریں،اوراسکی ذمہ داری نہ لیں کہ واقعی یہ ایک متمدن سلطنت ہے ،اسکے برعکس اسلامی قانون میں اس فرق وامتیاز کی گنجائش نہیں کہ کوئی ملک مسلمانوں کے معیار کے قواعد پر عمل کرتا ہے یا نہیں کرتا ،یہاں تک کہ اسلام کا قانون اگرکوئی دشمن ہمارے ساتھ غیرانسانی برتاؤبھی کرے تب بھی ہم اسکے ساتھ اپنے قواعد کے مطابق انسانیت کا برتاؤکریں گے ان حالات میں مجھے یہ کہنے میں یہ تامل نہیں کہ قانون بین الممالک جو حقیقت میں بین الممالک بھی ہو اورقانون بھی ہو مسلمانوں سے شروع ہوتاہے ۔اس کا آغاز کس طرح ہوا ؟اورچیزوں کی طرح یہ بھی رسول اکرم ﷺ کی سیرت پر مبنی ہے ،آگے لکھتے ہیں اسلام کے آغاز پر شہر مکہ واقعی ایک شہری مملکت کی حیثیت رکھتی تھی،بعدازاں ڈاکٹرصاحب موصوف نے شہر مکہ میں اسلام کے آغاز ا ورمسلمانوں کی حیثیت کو ایک مملکت در مملکت قراردیتے ہوئے ہجرت کے بعد مستحکم اسلامی مملکت کے قیام اوراسکے دستورکا ذکرفرماتے ہوئے کہاہے کہ وہ دستوربھی ہم تک پہونچا ہے ۔مختلف احوال پر روشنی ڈالتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ غرض اس طرح رسول اللہ ﷺ کی دس سالہ مدنی زندگی اسلامی انٹرنیشنل لاء کے اکثرقواعد کو معین ومدون کرنے کا باعث بنی،اسلامی قانو ن کی افادیت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی قانون کی ہمہ گیری کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اس قانون کو کسی بھی مغربی قانون سے زیادہ جامع بنا نے کے لئے پہلے ہی دن سے اس کو دین ودنیا دونوں کا حامل بنایا گیا ہے۔اسلامی قانون میں نماز،روزہ،حج ،زکوۃ جیسی عبادتوں کا بھی ذکرکیا۔تجارتی معاملات اوروراثت کا ذکربھی کیا اوراس میں انٹرنیشنل لاء کا بھی ذکرکیا۔اسلامی قانون کے مدون کرنے والوں کا تفصیلی جائزہ کتب کے حوالہ کے ساتھ پیش فرمایا ہے جو اس موضوع پر ایک مفصل اورجامع خطاب کہا جاسکتاہے۔اس موقع پر کئے گئے سوالات کے ڈاکٹرصاحب موصوف نے جو جوابات دئیے ہیں وہ علمی وتحقیقی حیثیت سے سیرت طیبہ کا ایک مبسوط جائزہ ہے ۔ایک اورخطاب ’’دین (عقائد ،عبادات اورتصوف)‘‘کے عنوان پر مشتمل ہے جو خطبات بھاولپورکا چھٹا خطاب ہے،اس موضوع پر علم وعرفان کے جوموتی ڈاکٹرصاحب نے بکھیرے ہیں اسکا چند لفظوں میں احاطہ ممکن نہیں،نزول وحی الہی کی کیفیات کا تذکرہ کرتے ہوئے عقائد اسلامی وعبادات اسلامی کی تفصیلی معلومات بہم پہونچائی ہیں۔یہ مبسوط مقالہ اسلامی اعتقادات وعبادات کا ایسا احاطہ کرتا ہے کہ اس کے مطالعہ سے انسانی ذہن کے دریچے کھلتے ہیں،اوراسلامی اعتقادات وعبادات پر حرف رکھنے والوں کو بھی اس میں شافی وکافی جواب مل جاتا ہے اوروہ اپنے نا روا اعتراضات سے باز رہنے اور اپنے اعتراضات سے دستبردارہونے پر مجبورہوجاتے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرصاحب مرحوم کی عملی زندگی اورانکی اسلامی افادات کی وجہ مغربی تہذیب کے دلدادہ ہزاروں ہزارافرادکے سینے اسلام کے نورسے روشن ومنور ہوگئے ۔

ایک موضوع ’’عہدنبوی میں مملکت اورنظم ونسق ‘‘پر مبنی ہے۔یہ ساتواں خطاب ہے ،اس خطاب میں ڈاکٹر صاحب مرحوم نے قرآن مجید کی آیت کریمہ پارہ دو آیت ۲۰۱؍پیش کرتے ہوئے بتا یا ہے کہ اسلام دین ودنیا دونوں جہانوں کی کامیابی چاہتا ہے،دونوں عالم کے لئے کوشش کرنے کی اجازت دیتا ہے اوردونوں جہانوں میں کامیاب بننے کا راستہ بتا تاہے ،پھر لکھا ہے کہ نبی دنیا اوردنیوی اقتدارکا طالب نہیں ہوتا اسکے باوجودپیغمبراسلام ﷺ کے ایک مملکت قائم کرنے اوراس مملکت کے حاکم اعلی کی حیثیت سے بامقصدوکامیاب حکمرانی کرنے کا ایک بسیط جائزہ پیش کیا ہے، اوراس حکمرانی کے عظیم مقصد اعلی کی طرف توجہ دلائی ہے ، کیسے انبیاء کرام علیہم السلام نے یہ کارجہاں بانی انجام دئیے،اورکیسے آپ ﷺ نے اس گوشہ میں اعلی نظم ونسق کے عملی جلوے چھوڑے ۔اورکیسے حیرت انگیز کارنامے اس بنیاد پر انجام پائے ،اسکا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے ۔مکۃ المکرمہ کی جغرافیائی اہمیت واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب کے شمال وجنوب کے لوگ جب تجارت کے لئے جاتے تھے تو انہیں مکہ سے گزرنا پڑتا تھا، یورپ کی تجارت ہندوستا ن سے مکہ کے راستہ سے ہواکرتی تھی۔مدینۃ المنورہ میں اسلا می حکومت کے قیام کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بتا یا ہے کہ یہ مملکت مختلف قبائل اورمذاہب کے ماننے والوں پر مشتمل رہی ہے،مدینۃ المنورہ کے وہ باشندے جواہل کتا ب سے تھے وہ بھی اوروہ سارے مختلف عناصرجو شہر مدینہ کی آبادی کے تھے سبھوں نے اس حکومت کے قیام کو قبول کیا اورحکمران اوررعایہ کے جو حقو ق وفرائض ہونگے انکو تحریری طوپر مرتب کیا گیا ،اس دستورکے مرتب ہونے میں سب کے مشوروں کی شمولیت کا ذکرکرتے ہوئے اسکی تاریخی دستاویز ہونے کی اہمیت کا تذکرہ کیا ہے، اس دستورکی ایک دفعہ کے الفاظ کا تذکرہ کیا ہے جو ’’للمسلمین دینہم وللیہود دینہم‘‘ یعنی مسلمانوں کے لئے مسلمانوں کا دین اوریہودیوں کے لئے انکا دین ہے ۔کی صراحت پر مبنی ہے،نیز دینی ،عدالتی اورقانونی آزاد ی اسی طرح دفاعی نظام کی تفصیلات ذکرکرتے ہوئے بتا یاہے کہ سارے قبائل آپ ﷺ پر اعتمادرکھتے آپ ﷺ کی غیرجانب داری آپ کی عدل گستری ،آپ کا تحمل وتدبراورآپ کی فیاضی بلکہ آپ کے نبی ہونے کے اعتراف کا سب کے لئے دل کی گہرئیوں سے قابل قبول ہونے کے تجربہ کو ہونا ثابت کیا ہے۔اس معلومات افزا خطاب میں امورمملکت اوراسکے نظم ونسق کے اس گوشے میں نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے کمالات نبوت اورجہاںبانی کے اسرار ورموز سے آپ ﷺ کے پر دہ ہٹا نے اوراسکو اس کرہ ارض پر اسکے قابل عمل ہونے اوراسی میں انسانیت کی دارین میں کامیابی ونجات کا راز مضمرہونے جیسے حقائق کو پیش کیا ہے۔ظاہرہے آپ ﷺ پر اللہ سبحانہ نے جوکتاب ہدایت نازل فرمائی ہے اورجو تشریحات آپ ﷺ کی احادیث پاک اورسیرت مبارکہ کی روشنی میں واضح ہے وہ اسلام کا ایک جامع تصور پیش کرتے ہیں ،دنیا اوردنیا گزار نے کا طریقہ کار کتاب وسنت سے کوئی الگ شئی نہیں ہے بلکہ یہ امرہی انسان کو اللہ کے ہاں کامیاب بنا تا ہے بشرطیکہ اس دنیا اوردنیا کی زندگی کو اللہ کی مرضیات پر چلتے ہوئے گزارا جائے ،نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت پاک کی مبارک گوشے اسی بات کی رہبری کرتے ہیں،اسلام کی پاکیزہ ہدایات زندگی کے سارے گوشوں کو شامل ہیں، امورمملکت کا تعلق گوکہ دنیا سے ہے لیکن اسکا رشتہ آخرت سے مربوط ہے،اسی لئے نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں حکومت وسلطنت اوراسکے نظم ونسق کا عملی جامع تصورملتا ہے،آپ ﷺ ہی نے زندگی گزارنے کے نظم ونسق کا ابدی دستورعطا فرمایا ہے، انسانو ںکے بنا ئے ہوئے نظم ونسق کے اصول وضوابط نہ انسانی زندگی کا پورے طورپر احاطہ کرسکتے ہیں نہ ہی وہ انسانوں کو کسی اورنظم ونسق سے بے نیاز کرسکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر اسلامی نظام حکومت دنیا میں بڑی حد تک ناکام ہے،نظام حکومت چلانے کے وہ قواعد وضوابط آپ ﷺ نے پیش فرمائے ہیں وہیں جامع اورابدی ہیں ،جامعیت ایسی کہ کتاب وسنت اورسیرت کے سواکسی اورکے بنائے ہوئے نظم ونسق کے اصول اپنا نے کی چنداں ضرورت نہیںرہتی،ابدیت ایسی کہ قیامت تک اسی اسلامی نظم ونسق کی پابندی ہی میں کامیابی کا راز مضمرہے۔اوریہ ہر دورکے لئے قابل عمل ہے جو انسانوں کے بنائے ہوئے دستوراسکی جگہ نہیں لے سکتے۔ اس ضمن میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات کا حصہ اس خطاب کے ساتھ شامل ہے جوایک علمی وتحقیقی سرمایہ ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT