Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / خطبہ سننے کے آداب

خطبہ سننے کے آداب

مرسل : ابوزہیر نظامی

(۱) جس وقت امام خطبہ کے ارادے سے منبر کی طرف چلے اسی وقت سے ذکر ‘ تسبیح ‘ کلام وغیرہ ترک کرکے ہمہ تن خطیب کے طرف متوجہ ہوجائیں ۔
(۲) جب خطبہ شروع ہوجائے تو تمام حاضرین کو خطبہ کا شروع سے آخر تک سننا واجب ہے خواہ حاضرین خطیب کے نزدیک بیٹھے ہوں یا خطیب سے دور اور خواہ خطبہ سنائی دے یا نہ سنائی دے  (۳) حالت خطبہ میں ایسا کوئی فعل کرنا جو خطبہ سننے میں خلل انداز ہو مکروہ تحریمی ہے یعنی کھانا ‘ پینا ‘ چلنا‘ پھرنا ‘ بات چیت کرنا‘ سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا ‘ ذکر ‘ تسبیح ‘ قرآن مجید یا نفل پڑھنا ‘ یا کسی کو شرعی مسئلہ بتانا وغیرہ امور جس طرح نماز میں منع ہیں اسی طرح حالت خطبہ میں بھی منع ہیں اورجو امور نماز کے اندر مکروہ ہیں وہ خطبہ کے وقت بھی مکروہ ہیں ۔ (۴) اگر حالت خطبہ میں کوئی شخص چھینک کر الحمدﷲ کہے یا مسجد میں داخل ہو کرسلام کرے تو ( چھینک اور سلام کا ) جواب دینا واجب نہیں یعنی جواب نہ دیں ۔ (۵) اگر کوئی شخص سنت پڑھ رہا ہو اور اس حالت میں خطبہ شروع ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ سنت اختصار کے ساتھ پورا کرلے ۔ (۶) خطبہ سننے والوں کو چاہئے کہ قبلہ رو بیٹھیں اور خطیب کی طرف متوجہ رہیں ۔ (۷) خطبہ سننے کے وقت دو زانو یعنی جس طرح نماز میں بیٹھتے ہیں اسی طرح بیٹھنا مستحب ہے ۔ (۸) اگر خطبہ کی آواز نہ آتی ہو یعنی خطبہ سنائی نہ دے تب خطبہ ہی کی طرف کان لگائے رہیں ( آواز نہ آنے کی وجہ سے بات چیت یا ذکر ‘ تسبیح وغیرہ میں مشغول نہ ہوں ) ۔ (۹) خطبہ کے وقت کسی کو کچھ پڑھنے یا بات کرنے سے منع بھی نہ کریں ( البتہ اشارہ سے خاموش کر دیں تو مضائقہ نہیں) ۔ (۱۰) جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک خطبہ میں آئے تو سامعین اپنے دل میں درود شریف پڑھ لے سکتے ہیں ۔ (۱۱) جب آیت کریمہ ’’ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ‘‘ پڑھی جائے تو دل ہی دل میں درود وسلام بھیجیں ۔( ۱۲) خطبہ میں صحابہ ؓ و خلفاء ؓ کا نام آئے تو بآواز بلند رضی اللہ عنہ کہنایا جب بادشاہ کانام آئے تو خلداللہ ملکہ یاکوئی کلمہ دعاء پکار کر کہنا (سامعین ‘موذن ‘ مکبرسب کے لئے ) مکروہ ہے ۔ (۱۳) خطبہ کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اگلی صفوں میں پہنچنا درست نہیں ۔ (۱۴) خطبہ ثانیہ پوری طرح ختم ہونے سے پہلے نماز کیلئے کھڑے نہ ہوں ۔
(تنبیہ ) بہتر یہ ہے کہ خطبہ ہر مرتبہ نیا پڑھا جائے اور لوگوں کو وقتاً فوقتاً جن مسائل کی ضرورت ہو وہ خطبہ میں بیان کئے جایاکریں ۔ اگرہر جمعہ میں ایک ہی خطبہ پڑھا جائے تب بھی درست ہے لیکن ہمیشہ ایک ہی خطبہ پر التزام مناسب نہیں ۔
(نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصہ پنجم)

TOPPOPULARRECENT