Thursday , June 29 2017
Home / شہر کی خبریں / خطیب مسجد عزیزیہ معطل، متنازعہ تقریر پر وقف بورڈ کی کارروائی

خطیب مسجد عزیزیہ معطل، متنازعہ تقریر پر وقف بورڈ کی کارروائی

5 دینی اداروں سے رائے طلبی ،مسلمانوں کی دل آزاری پر اعجاز محی الدین وسیم کی معذرت خواہی
حیدرآباد۔/9فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے مسجد عزیزیہ مہدی پٹنم کی منیجنگ کمیٹی کے صدر اعجاز محی الدین وسیم کو ان کی متنازعہ تقریر پر معطل کردیا ہے اور مسجد اور اس کے احاطہ میں انہیں کسی طرح کی تقاریر سے روک دیا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ کی جانب سے اس سلسلہ میں آج احکامات جاری کئے گئے۔ وقف بورڈ نے صدر کمیٹی اور خطیب مسجد کی جانب سے 27 جنوری کو جمعہ کے موقع پر کی گئی متنازعہ تقریر کے سلسلہ میں 5 دینی درسگاہوں سے رائے حاصل کی ہے۔ ان درسگاہوں کی رائے حاصل ہونے کے بعد وقف بورڈ مزید کارروائی کرے گا۔ اس وقت تک اعجاز محی الدین وسیم کو عارضی طور پر کمیٹی کی صدارت سے معطل اور تقاریر سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جامعہ نظامیہ، دارالعلوم حیدرآباد، المعہد العالی اسلامی، درالقضات الافتاء اور جامعہ انوارالھدیٰ کو وقف بورڈ کی جانب سے متنازعہ تقریر کی سی ڈی حوالے کی گئی ہے اور انہیں اس سلسلہ میں اپنی رائے پیش کرنے کی خواہش کی گئی۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ 6 فبروری کو اعجاز محی الدین وسیم کی تقریر کی سی ڈی کے ساتھ وقف بورڈ میں شکایت درج کرائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کرام کے بارے میں گستاخانہ ریمارک کئے گئے۔ وقف بورڈ نے اس سلسلہ میں انسپکٹر آڈیٹر وقف سے طلب کی۔ انسپکٹر آڈیٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تقریر کے بعض حصے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں لہذا اس سلسلہ میں علماء کی رائے حاصل کی جانی چاہیئے۔ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز سید عمر جلیل سے اس معاملہ کو رجوع کیا گیا اور انہوں نے 5 دینی اداروں سے رائے حاصل کرنے کا مشورہ دیا اور اس وقت تک معطل کرنے اور تقاریر سے روکنے کی ہدایت دی تاکہ مسجد اور اس کے اطراف کے ماحول کو بگڑنے سے روکا جاسکے۔ عہدیدار مجاز کی منظوری کے بعد چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے احکامات جاری کردیئے۔ اسی دوران خطیب مسجد عزیزیہ اعجاز محی الدین وسیم نے آج جماعت اسلامی کے دفتر میں امیر حلقہ آندھرا پردیش و اڑیسہ حامد محمد خاں کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے ریمارکس پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور معذرت خواہی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس، صحابہ کرامؓ کی عظمت اور اولیاء کرام کا احترام ان کے دل کی گہرائیوں میں ہے، یہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ان عظیم ہستیوں کی شان میں کسی بھی طرح کے ناشائستہ و گستاخانہ جملے استعمال کئے جائیں۔ اگر بعض الفاظ سے کچھ افراد کو غلط فہمی اور دل آزاری ہوئی ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتا ہوں۔ ملت کے وسیع تر مفاد اور اتحاد کے خاطر اور ملت کو انتشار سے بچانے کیلئے مولانا حامد محمد خاں نے مجھے دفتر حلقہ طلب کیا تاکہ اس مسئلہ کو مناسب انداز میں ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد عزیزیہ ابتداء ہی سے ملت میں اتحاد و اتفاق، محبت و بھائی چارگی کا پیغام پہنچاتی رہی ہے۔ نئی نسل کو اسلام کی تعلیمات سے واقف کرانے کیلئے جو انگریزی الفاظ استعمال کئے گئے اس سے بعض حضرات کو غلط فہمی ہوئی اور دل آزاری بھی ہوئی جس کا مجھے شدید افسوس ہے، نیتوں کا جاننے والا اللہ رب العزت ہے۔ امیر حلقہ جماعت اسلامی جناب حامد محمد خاں نے اعتراف کیا کہ اعجاز احمد وسیم کی تقریر میں جو الفاظ استعمال کئے گئے وہ مناسب نہیں تھے جس کے باعث انہیں توجہ دلائی گئی اور غلطی کا احساس ہوچکا ہے۔ احساس دیر سے ہی سہی تاہم ’ دیر آید درست آید ‘ کے مصداق اس معاملہ کو خوشگوار انداز میں ختم کرنے کیلئے وہ معذرت خواہ ہیں اور اللہ تعالیٰ سے رجوع ہورہے ہیں۔ خطیب مسجد عزیزیہ نے کہا کہ وقف بورڈ ان کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرے گا اسے قبول کریں گے۔ معذرت خواہی سے متعلق وضاحت مسجد کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کی جائے گی۔ اسی دوران خطیب مسجد عزیزیہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کو وضاحت نامہ حوالے کرنے کیلئے پہنچے تو مسلم نوجوانوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی کوشش کی۔ وقف بورڈ کے دفتر میں اچانک ماحول کشیدہ ہوگیا اور وہاں مہدی پٹنم اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے نوجوانوں نے قابل اعتراض تقریر پر برہمی ظاہر کی۔ وقف بورڈ کے ملازمین نے فوری مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو بگڑنے سے بچالیا اور مسجد عزیزیہ کے نمائندوں کو بحفاظت روانہ کردیا گیا۔ حج ہاوز میں پولیس کو طلب کرلیا گیا تھا تاکہ صورتحال بگڑنے نہ پائے۔ دوسری طرف غلامان مصطفی کمیٹی جس نے وقف بورڈ میں شکایت کی تھی اس نے جمعہ کے موقع پر پرامن احتجاج اور جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT