Tuesday , July 25 2017
Home / شہر کی خبریں / خطیب مسجد عزیزیہ کو وقف بورڈ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت

خطیب مسجد عزیزیہ کو وقف بورڈ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت

وقف بورڈ ازروئے قانون 2 ہفتے میں کارروائی کرے ، ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت
حیدرآباد۔ 7 مارچ (سیاست نیوز) مسجد عزیزیہ ، مہدی پٹنم کے خطیب کی متنازعہ تقریر کے سلسلے میں حیدرآباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت دی ہے کہ وہ اندرون دو یوم وقف بورڈ کو جواب داخل کرے۔ وقف بورڈ کی جانب سے صدر کمیٹی اور خطیب اعجاز محی الدین وسیم کو معطل کئے جانے کے احکامات کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس سیشا سائی نے اپنے فیصلے میں درخواست گزار کو ہدایت دی کہ وقف بورڈ کے احکامات ِ معطلی کو وجہ نمائی نوٹس تصور کرتے ہوئے اندرون 2 یوم اپنا جواب داخل کریں۔ وقف بورڈ کو ہدایت دی گئی کہ درخواست گزار کے جواب پر ازروئے قانون 2 ہفتے میں کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ خطیب مسجد عزیزیہ کی جانب سے متنازعہ تقریر کے بعد مختلف گوشوں سے احتجاج اور نمائندگی کے بعد وقف بورڈ نے صدر اور خطیب کو عارضی طور پر معطل کیا تھا اور پانچ دینی اداروں سے اس مسئلہ پر رائے طلب کی تھی۔ قبل اس کے کہ دینی مدارس اپنی رائے دیتے اور وقف بورڈ قطعی فیصلہ کرتا، اعجاز محی الدین وسیم نے بورڈ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ وقف بورڈ مکمل کمیٹی کو معطل کرنے کا اختیار رکھتا ہے جبکہ اس معاملے میں صرف ایک عہدیدار کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ وقف بورڈ نے خطیب کو مسجد میں تقاریر سے بھی روک دیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق درخواست گزار کو اندرون دو یوم وقف بورڈ میں اپنا موقف داخل کرنا ہے۔ اسی دوران وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ جن پانچ دینی مدارس سے تقریر کے متن کے بارے میں رائے طلب کی گئی تھی، ان میں سے دو مدارس نے اپنی رائے روانہ کردی ہے۔ دونوں مدارس نے خطیب کے ریمارکس کو ناقابل قبول اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔ باقی تین اداروں سے رائے حاصل ہونے کے بعد وقف بورڈ مزید کارروائی کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خطیب کو تقاریر کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں دی ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے اسٹانڈنگ کونسل ایم اے مجیب نے پیروی کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT