Friday , March 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / خلع میں شوہر کی رضامندی لازم

خلع میں شوہر کی رضامندی لازم

۱۰؍ فروری ۲۰۱۷؁ ء بروزجمعہ میں آن لائن اردو اخبار پڑھ رہا تھا ، یکایک میری نظر ایک اشتہار پر پڑی جو صدائے حق شرعی کونسل کی جانب سے شائع کیاگیا تھا جس کاعنوان تھا ’’خلع میں شوہر کی رضامندی لازم‘‘ جس کے تحت دو سطر کی عبارت درج تھی ’’فردون جی ملّا کا محمڈن لاء میں (بلادلیل شرعی) شاخسانہ ، جو ہمارے معاشرہ میں رواج پاگیا ، جس کی وجہہ خلع کی طالب خواتین کو ہمارے قاضی صاحبان شوہر کی رضامندی کی شرط لگاتے ہیں‘‘ ۔
متذکرہ بالا اشتہار پڑھ کر دلی تکلیف ہوئی ، علم و حکمت اور علماء دین و مفتیان کرام کے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں لاعلمی پر مبنی غیراسلامی و قطعی ناجائز امر کو شرعی ثابت کرنے کا دعویٰ کرنا قابل صد افسوس ہے ۔ مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ ایک شخص خود کو حاکم اسلام اور قاضی وقت باور کرتے ہوئے یکطرفہ بیوی کی کہانی سنکر فسخ نکاح کرتا ہو اور ایک شخص کی بیوی کو قید نکاح سے آزاد کرکے دوسرے شخص کے حوالے کررہا ہو کسی حد تک قابل گرفت ہے ۔ گرچہ یہ کلمات سخت ہیں لیکن شریعت اسلامی میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، ائمہ اربعہ کے نزدیک متفقہ مسئلہ کو ’’فردون جی ملا‘‘ کی طرف منسوب کردینا اور اس کو ( بلا دلیل شرعی) قرار دینا ناقابل فہم ہے ۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ آج بے شمار مسلم لڑکیاں شوہروں اور سسرال والوں کے ظلم و ستم کے شکار ہیں، شوہروں نے ان کو ان کے مانباپ کے گھر چھوڑ دیا ہے ، نہ ان کو طلاق دیتے ہیں ، نہ خلع قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے نان و نفقہ کا انتظام کرتے ہیں بلکہ بعض کو معصوم اولاد بھی ہے اور ایسے بے رحم باپ بھی ہیں جو خود اپنی اولاد کو نہیں دیکھے اور نہ ان کا کبھی ایک دن کا نفقہ ادا کئے ، ایسی مظلوم خواتین مانباپ ، بھائی بہنوں کے سہارے اپنی زندگی بسر کررہے ہیں، ان کی خلاصی کے لئے جدوجہد کرنا ، کوئی لائحہ عمل تیار کرنا اور ان کو نجات دلانا ہم سب کا فریضہ ہے ۔ افسوس کہ ہم ان مظلوم خواتین کو شرعی و قانونی طورپر خلاصی دلانے سے قاصر ہیں۔ بلاشبہ ملت کا ہر طبقہ بطور خاص دینی مدارس اور سرکردہ مذہبی تنظیمیں اس اہم ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتیں۔ شریعت میں مالی معاوضہ کے بدل بیوی کی علحدگی کی خواہش کو قبول کرنے کا نام خلع ہے ۔ خلع کی مشروعیت قرآن و سنت سے ثابت ہے ۔
ارشاد الٰہی ہے : اگر تمہیں اندیشہ ہوکہ وہ دونوں اﷲ تعالیٰ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو بیوی کے فدیہ دینے ( معاوضہ دیکر علحدگی حاصل کرنے ) میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (سورۃ البقرہ ۲؍۲۲۹)
حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیں یارسول اﷲ ! میں ثابت بن قیس پر دینداری اور اخلاق و کردار پر کوئی عیب نہیں لگارہی ہوں بلکہ میں اسلام میں (شوہر کی) ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا : کیا تم ان کا باغ اُن کو واپس لوٹا دو گی ؟ ‘‘ ۔
انھوں نے عرض کیا : ہاں !
تو رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے حضرت ثابت سے فرمایا : تم باغ قبول کرلو اور ان کو ایک طلاق دیدو ۔
( بخاری و نسائی)
متذکرہ بالا حدیث شریف سے ثابت ہے کہ جب ایک صحابیہؓ علحدگی کے لئے بارگاہ رسالتؐ میں حاضر ہوئیں اور علحدگی کی درخواست کیں ، تو نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے باغ کی واپسی کے معاوضہ پر شوہر کو طلاق دینے کا حکم فرمایا اور یہی خلع کا مفہوم ہے ۔
حضور پاک صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم کی حیثیت حاکم اسلام کی ہے اور اگر شوہر طلاق دینے آمادہ نہ ہو تو حاکم اسلام کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہے ۔
ہندوستان جیسے غیراسلامی ملک میں حاکم اسلام کا تصور نہیں اس لئے فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ مقامی حکومت سے مسلمان حاکم و جج کو مقرر کرنے کامطالبہ کریں تاکہ وہ فسخ نکاح جیسے اُمور کو انجام دے سکے ۔ موجودہ صورتحال میں مسلمان جج کا تقرر ہی سب سے محفوظ راستہ ہے ۔ تاحال کسی دینی ادارہ یا مذہبی تنظیم نے اس ضمن میں پیشرفت نہیں کی ہے ۔ اس ضمن میں پیشرفت کی ضرورت ہے یا کم از کم وقف بورڈ کے تحت ایک ایسی کمیٹی یا جماعت تشکیل دی جائے جو ان مظلوم خواتین کی قانونی امداد کرسکے اور اگر مسلم جج کے ذریعہ فسخ ہوجائے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں اور اگر غیرمسلم جج نے فسخ کیا ہو تو بعدہٗ وقف بورڈ کے تحت قائم ادارہ یا جماعت فسخ نکاح کا اعلان کردے تو نہ قانونی پیچیدگی لازم آئیگی اور نہ شرعی رکاوٹ رہیگی ۔
میری دانست میں اس حساس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے صدر مجلس علماء دکن کو آگے آنا چاہئے کیونکہ اس کے فیصلے کے مطابق تمام مسلمان بلالحاظ مکتب و مسلک رمضان کا آغاز و اختتام کرتے ہیں، اور مقامی حکومت اس کے فیصلے کے مطابق عید و برأت کی تعطیل کااعلان کرتی ہے ، بلاشبہ اس کادرجہ مسلمانوں کے حق میں نائب سلطان کا ہے ، اگر وہ پیشقدمی کرے تو مثبت نتائج برآمدہونے کے توقعات زیادہ ہیں۔
آخر میں صدائے حق شرعی کونسل کے ذمہ داروں سے پرخلوص اپیل ہے کہ وہ متعلقہ دفتر کے تحت فسخ نکاح یا شوہر کی رضامندی کے بغیرخلع کے واقع ہونے کا نظریہ فی الفور ترک کردیں کیونکہ اس میں شرعاً کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں إلّا یہ کہ اگر لڑکا لڑکی دونوں اپنی طرف سے حکم بنائیں اور آپ کے فیصلے پر برضاو رغبت راضی ہوں تو ایسی صورت میں تفریق کا فیصلہ بربناء حَکَمْ و ثالث درست ہوسکتا ہے اور اگر شرعی کونسل سے صرف بیوی رجوع ہو اور شوہر رجوع نہ ہو تو ایسی صورت میں شرعی کونسل کو فسخ نکاح کرنے کا شرعاً و قانوناً کوئی اختیار حاصل نہیں ۔ اور اگر وہ فسخ کردیں تب بھی شرعاً وہ ناقابل نفاذ ہے ۔                            … (جاری )

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT