Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / خلق خداکے ساتھ احسان وسلوک

خلق خداکے ساتھ احسان وسلوک

خلق خداکے ساتھ حسن سلوک اللہ سبحانہ کو بہت پسند ہے،اللہ سبحانہ نے انسانوں کو جداجدانعمتوں سے نوازاہے،کسی کو علم کی دولت دی،توکسی کو عقل ودانش اور فہم وذہانت دی،کسی کو مال ودولت کی نعمت عطاکی، تو کسی کو حسن وجمال کی ۔اوربھی بیش بہانعمتیں ایسی ہیں جومتفرق طورپر متفرق انسانوں کو بخشی گئی ہیں ۔ان نعمتوں کا حقیقی شکرانہ یہ ہے کہ جونعمت اللہ سبحانہ نے جس کسی انسان کودی ہے اس کا فائدہ اس کی ذات وخاندان کے ساتھ دیگرافراد انسانیت کو پہنچے ،مال ودولت ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیرخلق خداکی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں،غریب کو بھی اس کی ضرورت ہے اورمالدارکوبھی۔مالدارکو جوکچھ مال اللہ نے بخشاہے اس میں اس کی صلاحیتوں کا کوئی خاص دخل نہیں ،محنت تو سبھی کرتے ہیں لیکن اس کا پھل اوراس کا ثمرہ اللہ کی دین ہے ،جس کو جتنا چاہے دے۔ہوسکتاہے بہت محنت کرنے والے کو کم ملے اورمعمولی محنت کرنے والے کو زیادہ،یہ قسام اجل کی تقسیم کا مسئلہ ہے ۔یہ دراصل امتحان وآزمائش کی غرض سے ہے ، اس امتحان میں کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے،جو جذبہ شکرگزاری سے معموردل کے ساتھ اس نعمت کاعملی شکرانہ اداکریں،مال کا عملی شکرانہ یہی ہے کہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اس کانفع پہونچے۔اللہ کی رضا کیلئے صاحب مال دادودہش کو اپنا وطیرہ بنائے،قارون کواللہ سبحانہ نے مال ودولت کے بے نہایت خزانے دے رکھے تھے، ان کی کثرت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ اس کے خزانوں کے قفلوں کی کنجیاں اتنی وزنی اوربھاری تھیں کہ جس کو بڑے مضبوط اورطاقت ورکئی افراد اٹھاتے تب بھی ان کے وزن کی تاب نہیں لاسکتے تھے اوران کے بوجھ سے ان کی کمرجھک جاتی تھی۔ قرآن پاک میں اس کو نصیحت فرمائی گئی ہے کہ’’ اللہ سبحانہ نے جوکچھ تجھے دیا ہے اس سے دارآخرت کی کامیابی کا خواہش مند بن اوردنیاسے ملنے والے اپنے حصہ کو فراموش نہ کر،اورجیسے اللہ سبحانہ نے تجھ پر احسان فرمایاہے توبھی دوسروں پر احسان کر‘‘(القصص ۷۷)۔

اللہ نے کسی پر احسان کیا ہے تو اس کا شکرانہ یہ ہے کہ وہ بھی خلق خداکا محسن بن جائے ، اللہ سبحانہ  اوراس کے احکام پر ایمان انسان کی سیرت میں نمایاں انقلاب برپاکرتاہے ،مال ومتاع اس کی نظرمیں ہیچ ہوجاتے ہیں،رب تبارک وتعالی کی مرضی اس کو عزیزہوجاتی ہے ،دنیا میں رہتے ہوئے اس کی نگاہیں دنیاکی نہیں بلکہ آخرت کی نعمتوں کی متلاشی رہتی ہیں ، دنیا سے آنکھیں موندھ کر وہ ہرآن آخرت کی زندگی میں جھانکتاہے ،مال ودولت کو اپنے عیش وعشرت کی چیزنہیں سمجھتا بلکہ غربت کے سایہ میں زندگی کے دن بتانے والوں کے دردوکسک کو محسوس کرتاہے ،مصیبت زدہ انسانیت کی ضرورتوں کو پوری کرکے روحانی مسرت محسوس کرتاہے ، خلق خداپر احسان کرنے والے ہر دورمیں رہے ہیں،قرآن پاک کی جب یہ آیت نازل ہوئی’’جب تک تم اپنے پسند دیدہ چیز اللہ کے راہ میں خرچ نہیں کروگے ہرگزبھلائی کو نہیں پاؤگے ‘‘(آل عمران۳)۔تو حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اورعرض کیا یا رسول اللہ میراوہ باغ جس میں ’’بیرحاء‘‘ ہے مجھے بہت زیادہ محبوب ہے میں چاہتاہوں کے اسے اللہ سبحانہ کی رضا کیلئے صدقہ کردوں،آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ باغ تو بڑانفع بخش ہے ،تم ایسا کرو کہ اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو،حسب ہدایت انہوں نے اپنے رشتہ داروں میں اسے تقسیم کردیا۔حضر ت سیدنا عمرابن الخطاب رضی اللہ عنہ کو ایک بڑی عمدہ زمین خیبرمیں ملی تھی ، حضرت نبی پاک ﷺ کی خدمت اقد س میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! اتنا زیادہ عمدہ اورنفیس مال مجھے اب تک نہیں ملا ،آپ ﷺ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اگرتم چاہو تو اصل مال کو روکے رکھواوراس کے منافع کو صدقہ کردو،آ پ نے اس پر ایساہی عمل کیا اوراس کو وقف کردیا۔حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ’’بیررومہ‘‘جو یہودی کی ملک تھا کوخرید کر وقف فرما دیا تھا،مدینہ پاک کے باشندے پانی کو ترس رہے تھے۔عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بے نہایت شیریں پانی کا کنواں خرید کر ان کی ضروریا ت کی تکمیل اور ا ن کی تشنگی بجھانے کا سامان کیا۔معاشرہ کی صلاح وفلاح انسانیت کا درداوران کے ساتھ حسن سلوک اورمصیبت میں اس کے مداواکیلئے خلق خداکے ساتھ دل بستگی اورعملی تعاون بڑی اہمیت رکھتے ہیں،انسانیت کا اعلی مرتبہ یہی ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے کام آئے،اپنے لئے تو ہر کوئی جیتاہے لیکن انسانیت کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے لئے جیتے ہوئے دوسروں کیلئے جینے کا حوصلہ پیداکرے ۔
الغرض کتب احادیث میں کئی ایک نظائرہیں جوخلق خداکی نفع رسانی کی فکرکرنے کا پیغام دیتے ہیں،اسلام کے بعد ہردورمیں خاصان خداکا ایک ایسا قافلہ تاریخ انسانیت کا ایک زرین باب رقم کرتا رہاہے ،جو خدمت خلق اورانسانیت کے دردوکسک کے احساس پر مشتمل رہا ہے ۔

حیدرآباد فرخندہ بنیاد بھی اپنے دامن میں انسانیت کے ایسے نایاب دُرراوراخیار گہربار رکھتاہے، جو انسان ہوکردوسرے انسانوں کے کام آئے،اوراپنے شبستانوں کو روشن رکھنے کے ساتھ کاخ غریباں کو بھی روشن رکھنے کاکام کیا۔اس غرض کیلئے اپنی محبوب اورقیمتی املاک نیک مقاصد کیلئے وقف کیں ، خیرواحسان کے پیکربن کر اوقافی جائیداوں کی شکل میں احسان وسلوک کا ایک ایسا سائبان دردمند انسانیت کیلئے چھوڑاکہ جس کے سایہ میں خلق خدااپنی بنیادی ضرورتوں کو پوری کرتے ہوئے چین سے زندگی بسرکرسکے ۔اوقافی جائیدادیں گویا ایک ایسا ہی سائبان رحمت ہیں جوقیامت تک آنے والی انسانیت کیلئے رحمت کا سایہ فراہم کرتی رہیں گی ،ملت اسلامیہ کے غریب غرباء ،محتاج ومساکین اس سے مقاصد وقف کے مطابق مستفیدہوتے رہیں گے۔کھانے پینے ،رہنے سہنے اورتعلیم وصحت جیسے کئی ایک بنیا دی مسائل ان کیلئے کوئی بہت بڑاچیلج نہیں بنیں گے بلکہ ان کی ان جیسی ساری ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی۔ہمارے نیک اورمخیر،دیدئہ بینا ودل درد مندرکھنے والے افرادنے مستقبل میں درپیش مسائل کا ادراک کرکے کار خیرکی ایسی راہ بنائی جوہردورمیں آنے والوں کیلئے مشعل راہ ہونے کے ساتھ انسانیت کی بہی خواہی پر مبنی ہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اوقاف کی پوری دیانتداری کے ساتھ حفاظت کی جائے ،اورمقاصد وقف اورمنشاء واقف کابھرپورلحاظ رکھتے ہوئے ان سے استفادہ کی کوئی ایسی یقینی صورت بنائی جائے کہ جس سے مقاصد وقف کی حفاظت ہوتی رہے۔ان جیسے محسنین کویاد کیا جانا چاہئے تاکہ ان کے اخلاص عمل کی روشنی سے دوسرے سبق حاصل کرسکیں،اوران کے اخلاص عمل اورخلق خداکیلئے ان کی طرف سے کی جانے والی کاوشوں سے دوسروں کو روشناس کیا جاسکے۔

موجودہ احوال بڑے پیمانہ پر اوقافی جائیدادوںکی اتلاف کے ہیں،کئی ایک اوقافی جائیدادیں ہیں جن پر حکومتیں قبضہ جمائی ہوئی ہیں،جس سے مقاصد وقف کو بڑانقصان پہنچاہے،سنا جاتا ہے کہ کئی ایک اوقافی جائیدادیں غیرمسلم برادران وطن کے تصرف میں ہیں، اوران کا استعمال مقاصد وقف کے خلاف ہورہا ہے اورافسوسناک پہلویہ ہے کہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں کئی ایک اوقافی املاک تباہ وتاراج ہورہی ہیں۔اورکئی ایک دینی مدارس و تنظیمیںاورمساجد جن کی اوقافی جائیدادیں کڑوڑہا روپیہ کی ہیں ان پر ناجائزقابضین قبضہ جمائے ہوئے ہیں ،اوروہ ادارے اورمساجد بالکلیہ مفلس وقلاش ہیں،ان موقوفہ جائیدادوں سے کوئی فائدہ ان اداروں کو حاصل نہیں جن کیلئے وہ وقف کی گئی ہیں۔
اوقافی جائیداوں میں جوکچھ ناجائزتغلب وتصرف ہورہا ہے بڑے پیمانہ پر اس کی اصلاح ہونی چاہئیے،حکومت ،قائدین ،نانشوران ملت ،علماء وصلحاء ہر ایک کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اس میں آگے آنے کی اوراوقافی جائیداوں کو تباہی وبربادی سے بچانے میں اپنا حصہ اداکرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT