Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / خلیجی بحران کی یکسوئی کیلئے ترک صدر کی امیرکویت سے بات چیت

خلیجی بحران کی یکسوئی کیلئے ترک صدر کی امیرکویت سے بات چیت

قطر کیخلاف سعودی عرب اور حلیفوں کی پابندیوں کو ختم کرنے کی مساعی

کویت سٹی ۔24جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے قطر اور دیگر چار ممالک کے مابین اختلافات سے پیداشدہ سفارتی بحران کو حل کرنے کی کوششوں میں تین ملکی مصالحتی دورہ کے ایک حصہ کے طورپر سعودی عرب میں شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد کویت پہونچے ہیں۔ جہاں وہ خلیجی ممالک کے مابین پیداشدہ تعطل کو ختم کرنے کے مختلف امکانات پر امیر کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح سے گفت و شنید کریں گے ۔ شیخ صباح ابتداء سے مصالحتی مساعی میں مصروف ہیں جس کی قطر اور سعودی عرب کے علاوہ امریکہ نے بھی ستائش کرتے ہوئے ان کوششوں کو سازگار قرار دیا ہے ۔ رجب طیب اردوغان گزشتہ روز خلیج میں وہ پانچویں اعلیٰ سطحی بیرونی قائد بن گئے جو بحران کی یکسوئی کیلئے اس علاقہ کا دورہ کررہے ہیں۔ برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور امریکہ کے اعلیٰ سفارتی عہدیدار پہلے ہی اس علاقہ کا دورہ کرچکے ہیں ، جن کا کہنا تھا کہ خلیجی بحران پر پیداشدہ تشویش اب اس علاقہ سے کہیں دور پہونچ چکی ہے ۔ بحران کو حل کرنے کی کوششوں میں ترکی کو اس کے ناٹو حلیفوں کے مقابلے زیادہ سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ حالیہ عرصہ کے دوران قطر کے ساتھ اس کے تعلقات میں غیرمعمولی گرمجوشی پیدا ہوئی ہے اور ترکی نے قطر میں اپنی فوج بھی متعین کیا ہے ۔ قطر کے مخالف چار عرب ممالک سعودی عرب ، بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر کے بھی ترکی سے اگرچہ مضبوط تجارتی تعلقات ہیں لیکن قطر سے اس کی قربت نے ان کی نظروں میں مساعی کے محرکات کو مشکوک و مشتبہ بنادیا ہے ۔ ترکی اور قطر نے 2015 ء کے دوران خلیج فارس میں ترکی کے پہلے فوجی اڈہ کے قیام کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا ۔ اس اڈہ کا گزشتہ سال قیام عمل میں آیا اور خلیجی بحران پیدا ہونے کے بعد وہاں ترکی کی فوج بھی پہونچ چکی ہے جس سے قطر کو پڑوسی برادری میں سب سے الگ تھلگ کرنے کی کوششوں میں مصروف خلیجی ملکوں میں خوف و اندیشے پیدا ہوگئے ہیں ۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے دو دن قبل ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بحران پر خلیجی ممالک سے بات چیت کیلئے تیار ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے امیر قطر کے اس بیان کا خیرمقدم کیا تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے بھی امیر قطر کے تبصروں کا خیرمقدم کیالیکن کہا کہ ان کا ملک اس بحران کا حل تلاش کرنے کی کوششیں بدستور جاری رکھے گا ۔ جانسن نے کہا کہ ’’ہم اُمید کرتے ہیں ہیں کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین قطر کے خلاف عائد پابندیوں کو اُٹھاتے ہوئے مثبت ردعمل کا اظہار کریں گے ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT