Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / خلیجی ممالک ایرانی پالیسیوں میں نیوکلیئر تبدیلی کے منتظر

خلیجی ممالک ایرانی پالیسیوں میں نیوکلیئر تبدیلی کے منتظر

مناما ۔یکم ؍ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور خطے میں دہشت گرد گروپوں کی مدد کے بعد تہران اور خلیجی ریاستوں میں پائی جانے والی حالیہ کشیدگی کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ کویت کی جانب سے ایران اور خلیجی ملکوں میں مفاہمت کی کوشش کے بعد امریکی صدر باراک #اوباما نے بھی خلیجی ملکوں پر زور دیا ہے وہ ایران کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت تعلقات کے قیام کے لیے مساعی تیز کریں۔ مگر اس مقصد کے لیے پہلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔ عرب ممالک تہران سے تعلقات بہتر بنانے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے، مگر ایران کو پہل کرتے ہوئے خلیجی ملکوں سے متعلق اپنی پالیسیوں میں نیوکلیئر تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ خلیجی ریاست بحرین کے وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ ایران خلیجی ملکوں کے ساتھ بات چیت بحال کرنے کے لیے کوششیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی کوشش ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرے اور اس مقصد کے لیے تعطل کا شکار ہونے والی بات چیت کو بحال کیا جائے۔ کویت کی جانب سے خلیجی ملکوں اور تہران میں بات چیت کی بحالی کی مساعی کے بعد امریکی صدر باراک اوباما بھی دونوں فریقوں پر امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ چند ماہ قبل ایرانی دارالحکومت تہران میں قائم سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر شرپسندوں نے حملہ کرکے انہیں نذرآتش کردیا تھا جس کے بعد ریاض نے ایران سے سفارتی تعلقات منطقع کرلیے تھے۔ سعودی عرب سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے بحرین اور پھر دوسرے خلیجی ملکوں نے بھی تہران سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور خلیجی ملکوں کے درمیان بات چیت کی بحالی میں ایران کی خطے کے بارے میں اختیارکردہ معاندانہ پالیسیاں ہیں۔ اگر ایران خلیجی ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے اپنی پالیسیوں میں نیوکلیئر تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ایران کی جس طرح دوسرے ملکوں کے حوالے سے پالیسی ہے اسی طرح کی پالیسی خلیجی ملکوں کے حوالے سے بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایران کی جانب سے عرب خطے بالخصوص لبنانی حزب اللہ اور دوسرے ملکوں میں سرگرم ملیشیاؤں کی حمایت اور مدد ختم کرنا ہوگی۔ بہ ظاہر لگتا ہے کہ تنظیمیں بھی ایران کو خلیجی ملکوں کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT