Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / خلیجی ممالک میں برسر خدمت غیر مقیم ہندوستانیوں میں عدم اتحاد

خلیجی ممالک میں برسر خدمت غیر مقیم ہندوستانیوں میں عدم اتحاد

مسائل کی یکسوئی میں رکاوٹیں ، کیرالا کے ورکرس میں اتحاد کے باعث ہر محاذ پر کامیابی
حیدرآباد 16 اپریل (سیاست نیوز) دنیا بھر کے مختلف ممالک میں خدمات انجام دینے والے غیر مقیم ہندوستانیوں کی جو صورتحال ہوتی جارہی ہے اُس کی ذمہ داری خود اُن این آر آئیز پر عائد ہوتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی ملازمتیں اور کمپنیاں اُنھیں ہمیشہ وہی مراعات دیتی رہیں گی جو ابتداء میں اُنھیں حاصل رہی ہیں۔ علاوہ ازیں غیر مقیم ہندوستانیوں میں اندرون ملک علاقہ واریت کا رجحان بھی اُنھیں نقصان پہنچا رہا ہے اور بالخصوص خلیجی ممالک میں علاقہ واری اساس پر خود کو منقسم رکھنے کے سبب ایک کروڑ کے قریب غیر مقیم ہندوستانی جو خدمات انجام دے رہے ہیں اُنھیں کئی مشکلات درپیش ہیں۔ جبکہ مسائل کو بنیاد بناکر خلیجی ممالک میں جدوجہد کرنے والے ملیالی افراد یعنی جن کا تعلق کیرالا سے ہے وہ اپنی تنظیموں کے ذریعہ اُن کے حل کی کوشش کرتی ہیں اور بڑی حد تک اُن کی یہ کوششیں کامیاب بھی ہوتی ہیں۔ اِس کے برعکس ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے غیر مقیم ہندوستانی جو خلیجی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں اُن میں اتحاد کا فقدان پریشانیوں میں مبتلا کرنے کا موجب بنا ہوا ہے۔ ہندوستان کو مغربی ممالک سے ہونے والی آمدنی میں کچھ حد تک گراوٹ آئی ہے لیکن اِس کے باوجود سال 2015 ء کے ترسیل زر میں سرفہرست ملک ہندوستان رہا ہے۔ ہندوستان کو بیرونی ممالک سے جو آمدنی ہے وہ سال 2014 ء کے دوران 70 بلین امریکی ڈالر ہوا کرتی تھی لیکن 2015 ء میں یہ معمولی گراوٹ کے ساتھ 69 بلین امریکی ڈالرس تک پہونچ چکی ہے۔ ترسیل زر کے معاملہ میں ہندوستان نے میکسیکو، چین، فلپائن، نائجیریا کے علاوہ دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ترسیل زر 431.6 بلین تک پہونچ چکا ہے۔ اِس میں معمولی اضافہ ریکارڈ کئے جانے کے باوجود بھی حالات میں کوئی تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ہندوستان سے مغربی ممالک کے علاوہ خلیجی ممالک میں خدمات انجام دینے اور حصول روزگار کے لئے پہونچنے والوں کو فی الحال مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے چونکہ خلیجی ممالک میں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں اُس کا اندازہ بہ آسانی لگایا جانا انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔ اِسی طرح مغربی ممالک سے روزگار حاصل کررہے غیر مقیم ہندوستانیوں کو اُن ممالک میں حاصل مراعات کے سبب فوری طور پر کوئی مشکلات نظر نہیں آرہی ہیں لیکن مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کا اثر مغربی ممالک میں خدمات انجام دینے والوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔ حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آئی ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں تیل کی قیمتوں کی گراوٹ کے اثر کے سبب ترسیل زر میں جملہ 8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جس کے سبب بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اِس کے بعض اثرات نیپال پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ غیر مقیم ہندوستانی جو کہ خلیجی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں اُنھیں فی الفور قانونی دستاویزات کی تکمیل کے ساتھ حاصل ملازمتوں میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ وہ جس مقصد کے تحت مادر وطن سے دور روزگار کی تلاش میں پہونچے ہیں اُسے حاصل کیا جاسکے۔ اِسی طرح قومی سطح پر غیر مقیم ہندوستانیوں کی ایک منظم تنظیم کے ذریعہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے کیوں کہ ہندوستان کی کئی ریاستوں بالخصوص تلنگانہ، آندھراپردیش، کرناٹک، مہاراشٹرا، کیرالا ، گجرات، اترپردیش، مغربی بنگال، بہار سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد خلیجی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 15 لاکھ سے زائد ایسے غیر مقیم ہندوستانی ہیں جن کا تعلق ریاست آندھراپردیش و تلنگانہ سے ہے اور وہ مختلف شعبہ حیات میں بحیثیت پروفیشنل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اِسی طرح مختلف ہنر سے واقف نوجوان بھی خلیجی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں جنھیں صلاحیت کے اعتبار سے تنخواہیں ملا کرتی تھیں لیکن تیل کی قیمت میں گراوٹ کا اثر اُن کی تنخواہوں پر بھی مرتب ہونے لگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ہنرمند نوجوانوں کو خلیجی ممالک میں روزگار و ملازمتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں تلنگانہ اوورسیز میان پاؤر کمپنی لمیٹیڈ کی جانب سے رہبری و رہنمائی کی جارہی ہے۔ عہدیداروں کے بموجب اِس سرکاری ایجنسی کے ذریعہ نوجوانوں کو رہنمائی کرنے کی بنیادی وجہ اُنھیں کسی بھی طرح کی مشکلات اور غیر مجاز کمپنیوں کے جھانسہ میں آنے سے بچانا ہے لیکن تاحال تلنگانہ اوورسیز میان پاؤر کمپنی لمیٹیڈ نے سعودی عرب میں کسی بھی کمپنی سے کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے جبکہ سعودی عرب میں ہندوستان بھر سے 29 لاکھ افراد خدمات انجام دے رہے ہیں جوکہ مختلف کمپنیوں میں ملازمت اختیار کئے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT