Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / خلیجی ممالک میں پانچ لاکھ ہندوستانیوں کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ

خلیجی ممالک میں پانچ لاکھ ہندوستانیوں کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ

عقیل احمد
تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک میں ہندوستان پہلے ہی پانچ لاکھ روزگار کے مواقع کھوچکا ہے اس طرح بیرونی ممالک سے ہندوستان منتقل ہونے والی رقموں پر کافی منفی اثرات مرتب ہوا ہے۔ مزید ایک لاکھ ملازمتوں کے ویزے خطرہ کا شکار ہیں۔
وجہ : وزارت برائے بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے اُمور نے روزگار کے متلاشی ہندوستانیوں کے لئے ایک نیا ترک وطن نظام متعارف کروایا ہے جس کی بنیاد غیر ضروری مفروضے ہیں۔ اس کی وجہ سے خلیجی ممالک کے آجر پڑوسی ممالک جیسے پاکستان سے افرادی طاقت کے حصول کا رجحان رکھنے لگے ہیں۔ لیکن بار بار وزارت سے ربط پیدا کرنے کی کوششیں ثمرآور ثابت نہیں ہوئیں کیوں کہ ہمیشہ ایک غیر واضح جواب حاصل ہوا ’’ہم اس معاملہ کا جائزہ لے رہے ہیں‘‘۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزارت کے نئے ای مائیگریٹ نظام نے عملی اعتبار سے نعرہ ’’اچھے دن آنے والے ہیں‘‘ کو مذاق کا موضوع بنادیا ہے کیوں کہ ہندوستانی خلیجی ممالک کی منافع بخش ملازمتوں سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں محروم ہورہے ہیں جبکہ حکومت ملک میں روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم مودی نے جو بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے کہا کرتے تھے کہ اگر بی جے پی برسر اقتدار آجائے تو یہ ابنائے وطن کے لئے روزگار کے لاکھوں مواقع فراہم کرے گی۔ دوسری طرف اس نے بیرون ملک تقررات کو ہندوستانی کارکنوں کے تحفظ کے بہانے بند کروادیا ہے۔
یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ وزارت برائے بیرون ملک ہندوستانی اُمور حکومت ہند نے حال ہی میں اپنا ای مائیگریٹ پراجکٹ تمام پی او ای دفاتر میں شروع کردیا ہے۔ اس نے اس کے نتائج اور اثرات پر غور نہیں کیا۔ نتیجہ یہ کہ پانچ لاکھ سے زیادہ ملازمتیں جو ہندوستانیوں کی تھیں پہلے ہی ختم ہوچکی ہیں۔ یہ ملازمتوں کے مواقع پڑوسی ممالک جیسے بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا منتقل ہوچکے ہیں۔ جہاں ای مائیگریٹ نظام کی طرح کی پیچیدہ کارروائیاں موجود نہیں ہیں۔ اقل ترین ریفرل اجرتوں جیسی کوئی شرط بھی نہیں ہے۔ اگر یہ پالیسی تبدیل نہ ہو تو ہندوستان کو 10 ارب امریکی ڈالر مالیتی بیرونی زرمبادلہ سے سالانہ محروم ہونا پڑے گا۔ یہ ہماری متحرک معیشت کے استحکام کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ دوسری طرف ایک لاکھ ہندوستانیوں کی ملازمتیں فوری خطرہ سے دوچار ہیں۔

خلیج کے آخر عام طور پر ٹیکنک کے مداح نہیں ہیں چنانچہ وہ ایسے طولانی رسومات اور ای مائیگریشن عمل کی تکمیل سے قاصر ہیں۔ ملازمت کے ویزے دیگر ممالک کو منتقل کرنے کی دوسری بڑی وجہ نو متعارف اقل ترین ریفرل اجرتوں کا نظام ہے جس میں 800 سعودی ریال میں اضافہ کرکے اسے 1500 سعودی ریال کردیا گیا ہے۔ (یہ 100 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے) حالانکہ اقل ترین ریفرل اجرتوں کا نظام لازمی نہیں ہے پھر بھی خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک میں ہندوستانی سفارت خانے اسے لازمی سمجھ رہے ہیں۔ اس طرح آجرین کے لئے غیر ضروری مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
اس سلسلہ میں ایم او آئی اے کے انڈر سکریٹری بکاش آر مہتو نے 21 مئی 2015 ء کو ایک مراسلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 01/07/2015 سے ہر ہندوستانی کارکن کی پی او ای سے ربط پیدا کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ نقل وطن کی منظوری اسی صورت میں حاصل ہے جبکہ اس مطالبہ کو آن لائن منظوری حاصل ہوجائے ساتھ ہی مخصوص روزگار سرٹیفکٹ بھی ہو۔

ایسی ناقابل عمل، ناواجبی شرائط اور تحدیدات اگر ہم ایم او آئی اے کی جانب سے غیر ملکی آجروں پر عائد کی جائیں تو ہندوستان سے معمولی کاموں کے لئے کارکنوں کی خدمات حاصل کرنا، خاص طور پر مذکورہ بالا مراسلہ کے پیش نظر کم از کم ایک لاکھ ملازمتیں فوری طور پر خطرہ کا شکار ہوجائیں گی۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران جو جاب ایک لاکھ ویزے جاری کئے گئے ہیں جو آئندہ چند ماہ میں ناکارہ ہوجائیں گے کیوں کہ آجرین کی جانب سے شرائط کی تکمیل نہیں ہوسکے گی۔ جاب ویزا عموماً صرف تین ماہ کارآمد ہوتا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بیشتر جاب ویزے مذکورہ مراسلہ کے اجراء سے پہلے ہی جاری کردہ ہیں۔
ذرائع ابلاغ میں یہ خبر بھی آچکی ہے کہ مملکت قطر پہلے ہی دو لاکھ جاب ویزے پاکستان منتقل کرچکی ہے۔ اس کی وجہ ای مائیگریٹ نظام ہے۔ اندیشہ ہے کہ دیگر خلیجی ممالک بھی اس کی تقلید کریں گے۔
اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کئے جائیں تو اندیشہ ہے کہ ہندوستان کو غیر ملکی زرمبادلہ کا بھاری نقصان ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے بموجب مملکت قطر دو لاکھ پاکستانی کارکنوں کی فیفا (فٹ بال) ورلڈکپ کے لئے خدمات حاصل کرنے کا خواہاں ہے جو 2022 ء میں مقرر ہے۔ نئے ای مائیگریٹ قواعد کے نتیجہ میں یہ ہندوستان کا عظیم نقصان ہے۔

ہندوستان کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ سالانہ تقریباً 70 ارب امریکی ڈالر مالیتی وصول ہوتا ہے۔ یہ ہندوستان میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی تین گنا رقم ہے۔ سب سے زیادہ رقم خلیجی ممالک قطر، بحرین، عمان، سعودی عرب اور کویت سے آتی ہے جو ہندوستان کو 32ارب 70 کروڑ ڈالر مالیتی زرمبادلہ سالانہ روانہ کرتے ہیں۔ عالمی بینک نے جو اعداد و شمار مرتب کئے ہیں۔
خانگی رقومات کی (2001 ء سے 2013 ء) میں منتقلی ارب امریکی ڈالرس میں

ذریعہ : عالمی بینک رقموں کی سالانہ منتقلی کی معلومات اکٹوبر 2013 ء تک تازہ ترین
چنانچہ ہم بہ آسانی تصور کرسکتے ہیں کہ ہمارے ملک کو کتنی رقم کا نقصان ہوگا اگر یہ نئی پالیسی بیرون ملک برسرکار ہندوستانیوں کے مفادات کے نام پر نافذ کی جائے۔ اگر اس اقدام پر نظرثانی نہ کی جائے کیوں کہ ایم او آئی اے نے اسے لازمی قرار دیا ہے کہ ایمگریشن کی تمام منظوریاں صرف ای مائیگریٹ سسٹم کے ذریعہ ہی دی جائیں گی۔
جی سی سی ممالک میں کام کرنے کے خواہشمند  ہندوستانی کارکنوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ ذیل میں گزشتہ پانچ سال کے اعداد و شمار دیئے جائیں گے۔
گزشتہ دس سال کے دوران روزگار کے لئے امیگریشن

ذریعہ : وزارت برائے بیرون ملک ہندوستانی اُمور
جی سی سی ممالک ایک برا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے کہ ہندوستانی معیشت کو رقموں کی منتقلی میں اضافہ کرتے اور ہندوستانی شہریوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔

خود وزارت کے اپنے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً 50 لاکھ بیرون ملک ہندوستانی کارکن ہیں جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ کارکن خلیجی ممالک اور جنوب مشرقی ایشیاء کے ہیں۔ 2007 ء کے دوران تقریباً 8.09 لاکھ کارکن ہندوستان سے ترک وطن کرچکے ہیں جن کی امیگریشن کی منظوری باقی ہے۔ ان میں سے تقریباً 3.12 لاکھ ، 1.35 لاکھ ، 95000 ، 88000 اور 48000 کارکن علی الترتیب متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت جاچکے ہیں۔
گزشتہ چند سال سے ہندوستان سے تارکین وطن کارکنوں کی خلیجی ممالک کو روانگی عمل میں آرہی ہے۔ جہاں تقریباً 40 لاکھ کارکن ایک تخمینہ کے بموجب برسرکار نہیں ہیں۔ تارکین وطن کثیر تعداد میں مشرق وسطیٰ بشمول خلیجی ممالک میں ہیں۔ یہ نیم ہنرمند اور بے ہنر لوگ ہیں۔ ان میں سے بیشتر عارضی تارکین وطن ہیں جو اپنے ملازمت کے معاہدے کے ختم پرہ ندوستان واپس آجاتے ہیں۔ 2003 ء کے بعد سے ملازمت کے لئے ترک وطن کرنے والوں کی تعداد میں مستقل اور مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ امیگرنٹس کے تحفظ کے 8 دفاتر جو امیگریشن کی منظوری دیتے ہیں وہاں 2003 ء میں 4.66 لاکھ درخواست گذار تھے جن کی تعداد 2014 ء میں 8.09 لاکھ ہوگئی۔
متحدہ عرب امارات ہندوستانی کارکنوں کی اہم منزل ہے۔ اس کے بعد سعودی عرب کا مقام ہے۔ خلیج کے باہر ہندوستانیوں کی افرادی طاقت ملایشیا میں 2006 ء تک نمایاں طور پر بڑھتی رہی۔ 2006 ء اور 2007 ء میں نمایاں انحطاط دیکھا گیا۔ ان ممالک میں ہندوستانی کارکنوں کے روزگار کے عظیم امکانات ہیں۔
ہندوستان کو منتقل کی جانے والی رقومات اور خلیج میں ہندوستانیوں کے لئے ملازمتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا۔ توقع ہے کہ مستقل اسی رفتار سے رقومات کی منتقلی میں اضافہ ہوتا رہے تو 2020 ء تک رقومات کی منتقلی 100 ارب امریکی ڈالر مالیتی ہوجائے گی۔ تعداد میں اضافہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ عام طور پر آجر ملازمین سے منصفانہ سلوک کرتے ہیں۔
ہمارے وطن میں ہماری حکومت اب بھی خانگی شعبہ میں اقل ترین اجرتیں نافذ نہیں کرسکی۔ پھر وزارت کیسے توقع کرسکتی ہے کہ غیر ملکی خانگی آجرین اجرتوں کے قواعد و ضوابط کی پابندی کریں گے۔
ہندوستانی کارکن جو خلیجی ممالک میں خوشی سے ملازمتیں کرنا چاہتے ہیں، عام طور پر ماہر فن نہیں ہیں۔ نہ ہی نیم ماہر اور ماہر ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے غیر ملکی آجرین کی پیش کردہ تنخواہ قبول کرلیتے ہیں۔ یہ ان کے لئے ایک پُرکشش سودا ہے کیوں کہ ہندوستان میں یہی کام کرکے وہ اتنا پیسہ نہیں کماسکتے۔
مسلم مرر سے بات چیت کرتے ہوئے ہندوستان کے تقررات کے ایجنٹس نے کہاکہ انھوں نے ایم او آئی اے کے کئی متعلقہ عہدیداروں سے ربط پیدا کیا بشمول ٹی کے منوج کمار (پروٹیکٹر جنرل آف امیگرینٹس اینڈ جوائنٹ سکریٹری ای پی) اور ان سے عاجلانہ معاملہ پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی مثبت جواب حاصل کرنے سے قاصر رہا۔ ان تمام (عہدیداروں) نے کہاکہ ’’وہ صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔

ہم سب تقریباً بیکار بیٹھے ہیں کیوں کہ ای مائیگریٹ نظام پر عمل آوری جاری ہے۔ خلیجی آجرین کو کئی مسائل کا سامنا ہے کیوں کہ وہ ٹیکنالوجی کے مداح نہیں ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ اقل ترین ریفرل اجرتوں کو شرط نہیں ماننا چاہئے چنانچہ وہ ملازمتوں کے ویزے پڑوسی ممالک کو منتقل کررہے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ سے کوئی بھی ویزا جاری نہیں کیا گیا۔ ہزاروں ویزوں کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ رمیش مشرا منی (صدر فروغ کونسل برائے افرادی طاقت) نے کہاکہ میں وزارت کے سکریٹری سے ملاقات کرچکا ہوں۔ وہ مسلم مرر سے بات چیت کررہے تھے۔ انل اگروال نے کوئی دو ماہ قبل ایک یادداشت پیش کی تھی اور یہ تاثر ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو نئی امیگریشن پالیسی کا نتیجہ ہے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
یہاں یہ تذکرہ بھی بے محل نہ ہوگا کہ اترپردیش، بہار، ٹاملناڈو، آندھراپردیش اور کیرالا وہ ریاستیں ہیں جہاں سے کثیر تعداد میں لوگ خلیج جاتے ہیں۔ چنانچہ ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو اس معاملہ پر مرکزی حکومت سے بات کرنی چاہئے۔
یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ بے روزگاری کا نتیجہ جرم اور نظم و قانون کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ تاہم اس مراسلہ کے ذریعہ وزارت برائے بیرون ملک ہندوستانی اُمور نے اس امکانی روزگار کی ’’ایلڈویڈو‘‘ یعنی خلیجی ممالک کے لئے غیر ضروری مسائل پیدا کردیئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT