Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / خلیجی ممالک کے معاشی انحطاط کا رئیل اسٹیٹ پر منفی اثر

خلیجی ممالک کے معاشی انحطاط کا رئیل اسٹیٹ پر منفی اثر

جائیدادوں کی خریدی میں شدید گراوٹ ، حیدرآباد کی بھی مارکٹ متاثر
حیدرآباد۔17مئی(سیاست نیوز) خلیجی ممالک کے معاشی انحطاط کے اثرات ہندستان کے رئیل اسٹیٹ شعبہ پر مرتب ہونے لگے ہیں اور غیر مقیم ہندستانیوں کی جانب سے جائیدادوں کی خریدی میں شدید ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ ہندستانی رئیل اسٹیٹ مارکٹ کے کلیدی گاہکوں میں خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندستانی ہیں لیکن ان ممالک میں آئے معاشی انحطاط کے اثرات حیدرآباد کے رئیل اسٹیٹ شعبہ پر بھی مرتب ہونے لگے ہیں۔ سعودی عرب ‘ دبئی ‘ شارجہ ‘ کویت ‘ قطر ‘ عراق ‘ بحرین و دیگر ممالک میں خدمات انجام دے رہے غیر مقیم ہندستانی اپنی ملازمتوں کو بچانے کی فکر میں ہیں چونکہ ان ممالک میں بڑی کمپنیاں بھی تیل کی قیمت میں آرہی گراوٹ سے پریشان ہیں۔ غیر مقیم ہندستانی جو بیرون ملک محنت کرکے جائیداد کی خریدی کے ذریعہ محفوظ سرمایہ کاری کیا کرتے تھے انہیں ان کے پاس اب سرمایہ کاری جتنی جمع پونجی ہی مشکل ہو چکی ہے۔ ہندستان میں سب سے زیادہ متاثر ہونا والا شعبہ رئیل اسٹیٹ سمجھا جا رہا ہے اور کیرالہ کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ کیرالہ کے رئیل اسٹیٹ شعبہ میں 50فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر مقیم ہندستانی شہریوں کی آمدنی پر ہونے والے اثرات سے حیدرآباد کا رئیل اسٹیٹ شعبہ بھی محفوظ نہیں رہا بلکہ حیدرآباد اور احمدآباد کے علاوہ ممبئی میں 20فیصد سے زیادہ گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور مزید دو سال تک یہ صورتحال برقرار رہے گی ۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال پر جلد قابو پائے جانے کے کوئی حالات نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ آئندہ دنوں میں رئیل اسٹیٹ شعبہ میں غیر مقیم ہندستانیوں کی سرماکاری میں مزید گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے۔ غیر مقیم ہندستانیوں کو معاشی انحطاط کے سبب مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو دوسری جانب رئیل اسٹیٹ شعبہ سے وابستہ تاجرین کو غیر مقیم ہندستانیوں کی اس حالت پر تشویش پیدا ہونے لگی ہے کیونکہ کئی ایسے پراجکٹس زیر تعمیر ہیں جن میں غیر مقیم ہندستانیوں کی سرمایہ کاری موجود ہے لیکن وہ ان پراجکٹس میں اپنے سرمایہ کے کو اقساط کے طور پر ادا کیا کرتے تھے۔ خلیجی ممالک میں آئے اچانک انحطاط سے اقساط کی وصولی پر اثر ہونے کی وجہ سے پراجتٹ کی تکمیل میں تاخیر ہو سکتی ہے اور پراجکٹ میں ہونے والی تاخیر پراجکٹ کی قیمت میں اضافے کا سبب بنتی ہے جس کا نقصان بلڈر کو ہو سکتاہے۔ شہر حیدرآباد کے اطراف و اکناف میں جاری پراجکٹس میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر مقیم ہندستانیوں کی جانب سے سرمایہ کاری روک دئے جانے کی صورت میں تیزرفتار ترقی پر ایک مرتبہ پھر اثر پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے بموجب ریاست تلنگانہ میں غیر مقیم ہندستانیوں کی رئیل اسٹیٹ شعبہ میں سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے تو اس کے منفی اثرات ریاست کی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔دو برسوں کے دوران پیدا ہوئے ان حالات کو دیکھتے ہوئے بلڈرس کی جانب سے اب بڑے پراجکٹس یا بھاری سرمایہ کاری کے بجائے اوسط پراجکٹس کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے چونکہ ان پراجکٹس کی تکمیل کیلئے غیر مقیم ہندستانیوں کا سرمایہ درکار نہیں ہوتا بلکہ ہندستانی تجارت پیشہ یا ملازم طبقہ بھی ان پراجکٹس میں دلچسپی دکھا سکتا ہیچونکہ ان پراجکٹس کی قیمتیں اتنی زیادہ نہیں ہوا کرتی۔

TOPPOPULARRECENT