Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / خلیفۂ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

خلیفۂ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ابوزہیر سید زبیر ہاشمی نظامی

شہادت غـرہ محرم الحرام ۲۴ھ
خلیفۂ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نسب کے اعتبار سے قریشی تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلۂ نسب آٹھویں پشت میں آقائے نامدار حضور پاک صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔ آپ کے والد کا نام خطاب تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آپ کے ماموں زاد بھائی اور ہشام بن مغیرہ آپ کے نانا تھے۔ دور جاہلیت میں آپ کے خاندان کے ذمہ عرب کی سفارت کا کام تھا۔ آپ نے نسب، پہلوانی، خطابت اور شہسواری میں بہترین کمال حاصل کیا اور پڑھنا لکھنا بھی سیکھ لیا۔ آپ کے معاش کا ذریعہ تجارت تھی اور اسی مناسبت سے آپ دور دراز کے ممالک کا سفر کرتے۔
خلیفۂ دوم حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام و مرتبہ خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد تمام خلفائے راشدین اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سب سے افضل و اعلیٰ ہے۔ آپ کی شان میں قرآن مجید کی کچھ آیات بھی نازل ہوئی ہیں، تقریباً بیس آیات ایسی ہیں، جو آپ کی رائے اور آپ کی تمنا کے موافق اُتری ہیں، ان میں سے چند آیتیں جن کو حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مایۂ ناز کتاب ’’تاریخ الخلفاء‘‘ میں درج فرمائی ہیں۔ ان آیات کو ’’موافقات عمر‘‘ کہا جاتا ہے، چند آیات بینات کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو:
٭ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بنالو‘‘ (سورۃ البقرہ۔۱۲۵) بخاری شریف اور مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حرمِ کعبہ میں مقام ابراہیم کو دیکھ کر بارگاہِ رسالت میں عرض کیا کہ ’’کاش! ہم لوگ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لیتے‘‘ تو اس کے بعد ہی یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں آپ کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ آپ کو جو خیال آیا اور آپ کے دل میں جو تمنا پیدا ہوئی، ٹھیک اسی کے موافق و مطابق قرآن پاک کی آیت نازل ہو گئی۔
٭ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور جب تم (امہات المؤمنین) سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو‘‘  (سورۃ الْاحزاب ۔۵۳) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے حد خواہش و تمنا تھی کہ عورتوں کے لئے پردہ کا حکم قرآن مجید میںنازل ہو جائے۔
٭ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اسلام قبول کئے تو حضور پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے سینہ پر تین دفعہ اپنا دست اقدس مارا اور (ہر مرتبہ) آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اے اللہ! عمر کے سینہ میں جو ’’سابقہ عداوتِ اسلام کا اثر ہے‘‘ اسے نکال دے اور اس کی جگہ ایمان ڈال دے‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ دُہرائے۔ (حاکم ، طبرانی)
٭ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام کو جس قدر ترقی دی، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ نے مقاصدِ اسلام کی اشاعت میں کوشش کا کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا۔ آپ نے مسلمانوں کی اعانت و امداد میں مال بھی خرچ کیا۔ نہ صرف یہ کہ ہر طرح کی مدد پہنچائی، بلکہ ان کی حفاظت میں اپنی جان تک کی بھی پرواہ نہیں کی۔ زمانۂ خلافت میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی کوششوں سے اسلام کو وہ مقام اور عروج حاصل ہوا، جو اب تک نہ ہوسکا تھا۔
٭ امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ منورہ کے انصار و مہاجرین اور اربابِ حل و عقد سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ منتخب فرمایا۔ دس سال چھ ماہ اور چار دن تخت خلافت پر رونق افروز رہ کر آپ نے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی جانشینی کی تمام ذمہ داریوں کو بہترین طریقہ سے انجام دیا اور آپ ہی کے مقدس عہد میں قیصر و کسریٰ، شاہِ روم و شاہِ ایران کی سلطنتیں فتح ہوئیں۔ آپ ہی کے حکم سے مدارس دینیہاور مساجد کا نظام بہترین ہوا۔ آپ نے مسجد نبویﷺ کی مرمت اور توسیع کرائی اور ملک بھر میں امن و امان اور عدل و انصاف کا پرچم لہرایا۔
٭ ۲۶؍ ذوالجۃ الحرام سنہ ۲۳ھ کو جب آپ نماز فجر میں مصروف تھے، ابولولو فیروز مجوسی بدبخت نے آپ کے شکم میں خنجر اُتاردیا۔ آپ نے یہ زخم کھاکر غرہ محرم الحرام سنہ ۲۴ہجری کو جام شہادت نوش فرمایا۔ بوقت شہادت آپ کی عمر شریف ۶۳ برس تھی۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی اور آپ روضہ منورہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک پہلوئے میں مدفون ہوئے۔ (تاریخ الخلفاء اور ازالۃ الخلفاء)

TOPPOPULARRECENT