Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی خبریں / خلیفہ اول حضرت ابو بکرؓ صدیق کو تدوین قرآن مجید کا منفرد اعزاز

خلیفہ اول حضرت ابو بکرؓ صدیق کو تدوین قرآن مجید کا منفرد اعزاز

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب
حیدرآباد ۔۲۷؍مارچ( پریس نوٹ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاص رفیق حضرت ابو بکرؓ صدیق کی حیات شریف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت و اطاعت اور حضور انورؐ  کی ذات اطہر سے عشق و وارفتگی اور حضورؐ  کی فرمانبرداری واتباع سے معنون تھی۔ سبقت اسلام کا شرف پایا ۔ نہایت ناموافق حالات میںنصرت دین کا فریضہ انجام دیا۔اشاعت اسلام میں سرگرم مشغولیت کا ثبوت ا شراف قریش میں سے اکثر کا آپ کی تبلیغ و ترغیب کے نتیجہ میں مشرف بہ ایمان ہونا ہے۔غرباء و مساکین کی اعانت اور غلاموں کی آزادی کے لئے مالی ایثار، تصدیق واقعہ معراج میں اولیت،غار ثور میں جاں نثاری اور سفر ہجرت میں ہمرکاب ہونے کا اعزاز حضرت ابوبکرؓ صدیق کے خصائص سے ہے۔مسجد قباء اور مسجد نبوی شریف کی تعمیرات میں شرکت،مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ میں حق رفاقت، رسول اللہؐ کے خسر ہونے کی عزت ، غزوات مقدسہ میں فریضہ محافظت اورجملہ امور میں خیر خواہانہ راے دینا حضرت ابو بکرؓ صدیق کی کتاب حیات کے منور ابواب ہیں۔ ان حقائق کے اظہار کے ساتھ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور ۳۰:۱۱ بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) کے زیر اہتمام منعقدہ ’۱۱۹۲‘ویں تاریخ اسلام پر مبنی لکچر دیئے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوے بتایا کہ رسول اللہ ؐ کی فرمائی ہوئی ترتیب کے موافق قران مجید کی تدوین کا مقدس کام حضرت صدیق اکبرؓ  کا نہایت اہم اور عظیم الشان کارنامہ ہے۔آپ نے ہمیشہ ہر ممکن طریقہ سے اسلام اور مسلمانوں کے لئے بے مثال قربانیاں دیں ، ہر نازک وقت مسلمانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے آگے آے اور اپنے مبارک مقصد میں کامیاب رہے۔ حضور انورؐ کے رحلت پاک کے موقع پر اپنے موثر خطبہ کے ذریعہ مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی اور صبر اور استقامت کا حوصلہ دیا۔رسول اللہ ؐکے جانشین اول کی حیثیت سے آپ نے دینی قیادت اور خلافت اسلامیہ کی ذمہ داریوں کو حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا۔ خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی اطراف و اکناف پیدا ہونے والے مسائل نے موانعات کھڑے کر دیئے تھے لیکن حضرت ابو بکر صدیق  ؓ نے غیر معمولی تحمل اور حوصلہ و تدبر سے کام لیا اور ہر رکاوٹ کو بحسن و خوبی دور کیا۔ کاذبوں کی شرانگیزیوں کا استیصال، مانعین زکاۃ کے فتنے اور ارتداد کی وباء کا مکمل خاتمہ کر دینا آپ کے بے مثال کارنامے اور اقامت دین ونفاذ شریعت کے ضمن میں بے حد مخلصانہ اور کامیاب ترین کوششیں تھیں۔ حضرت ابو بکرؓ صدیق کو محبت حق، رفاقت رسولؐاللہ اور سکینہ الٰہی کی دولتیں نصیب ہو ئیں قران مجید نے ’’صاحب‘‘ اور’ ’دو میں دو سرے‘‘ کے خصوصی خطابات سے نوازا  یہ سارے حقائق ان کے دستارِ فضیلت کو طرہ ہاے امتیاز سے مزین کرتے ہیں۔ ڈاکٹرحمید الدین شرفی نے بتایا کہ حضرت ابو بکر صدیق  ؓکا اسم شریف عبد اللہ بن عثمان تھا لیکن کنیت ابو بکر سے معروف و مقبول ہیں آپ کا خاندان بنو تیم ہے اور آپ کے والد اپنی کنیت ابو قحافہ سے مشہور تھے حضرت ابو بکرؓ  کی ولادت واقعہ فیل کے ڈھائی سال بعد ہوئی مولد شریف مکہ مکرمہ ہے خاندانی مناصب خوں بہا اور دیتوں کی وصولی تھے آپ کو عربوں کے انساب اور احوال ازبر تھے۔ابتداء ہی سے عمدہ اخلاق کے حامل تھے تاہم اسلام اور رسول اللہ ؐ  کی صحبت و توجہات نے خوب نکھارا اور جلا بخشی۔حضرت ابو بکرؓ صدیق نہایت ذی وجاہت حسین و جمیل تھے  اسی بناء پر عتیق کہلاتے تھے۔ ہمدردی اور غمگساری، مروت ورحمدلی کے باعث اواہ سے بھی مخاطب کئے جاتے تھے  پیشہ تجارت سے وابستہ تھے مکہ کے کامیاب تاجروں میں نمایاں تھے حسن معاملت کی بناء پر لوگ آپ کے گرویدہ تھے حضرت ابو بکرؓ صدیق اپنی بلند نگاہی، پاکیزہ کردار، شرافت نقس، نرمی اور عاقبت اندیشی کی وجہ سے ممتاز تھے گمراہ کن عادتوں اور لایعنی مشاغل سے یکسر بے گانہ تھے اسلام لانے کے بعد سے حضور انور ؐ کے پردہ فرمانے تک سفرحضر، امن و جہاد، ہر وقت ،ہر جگہ حق رفاقت ادا کیا۔انھیں بشارت جنت عطا فرمائی گئی۔ حضرت ابو بکرؓ صدیق زائد از سوا دو سال مسند خلافت پرمتمکن رہے اور ۶۳ سال کی عمر شریف میں وفات پائی آخری آرام گاہ حضوراقدس  ؐکے پہلوے انور میں بنی۔

TOPPOPULARRECENT