Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / خواتین تحفظات بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش

خواتین تحفظات بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش

بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ اسکیم کا تذکرہ، بااختیار بنانے کی وکالت، بین الاقوامی یوم خواتین پر وزیراعظم نریندر مودی کا پیام
نئی دہلی 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر خواتین کے کارناموں کو سلام کرتے ہوئے کہاکہ اُن کی حکومت خواتین کی فلاح و بہبود کی پابند ہے۔ اُنھوں نے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ جیسی اسکیموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ تمام خواتین کے عالمی یوم خواتین کے موقع پر کارناموں کو سلام کرتے ہیں اور اُن کے سماج کے لئے ناگزیر کردار کے لئے شکر گذار ہیں۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ جیسی اسکیمیں خواتین کی صحت اور تعلیمی حالت بہتر بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ہیں۔ خواتین کی ترقی کا حکومت کا موقف غیر متزلزل ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ خواتین کو ہندوستان کی ترقی میں دین کے لئے بااختیار بنانے کے ترقیاتی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ہماری مالیاتی پالیسیوں میں مہارت کی ترقی کے اقدامات اور ردرا بینک ناری شکتی کو ہندوستان کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے بااختیار بنائیں گی۔

خواتین تحفظات بِل کی منظوری کے مطالبات کے دوران حکومت نے آج لوک سبھا میں کہاکہ وہ خواتین تحفظات بِل کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اُنھوں نے یاد دہانی کی کہ سابق یو پی اے حکومت اتفاق رائے پیدا کرنے کی 10 سال تک کوشش کرکے ناکام رہ چکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 2010 ء میں یہ بِل راجیہ سبھا میں منظور ہوگیا تھا لیکن لوک سبھا میں رُک گیا کیوں کہ کئی سیاسی پارٹیاں اِس کی سختی سے مخالفت کررہی تھیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت جلد از جلد اِس قانون کی منظوری کے لئے کوشاں ہے۔ اِس قانون کے تحت لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں اور دیگر قانون ساز اداروں میں خواتین کے لئے 33 فیصد نشستیں محفوظ کی جائیں گی۔ جب اپوزیشن کے ایک رکن نے اُن سے ٹھوس تیقن کا مطالبہ کیا تو ایم وینکیا نائیڈو نے جوابی وار کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے کئی اسکیمیں شروع کی ہیں جن میں بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ جیسی اسکیم بھی شامل ہے۔ تاہم سابق یو پی اے حکومت 10 سال کوشش کرنے کے باوجود خواتین تحفظات بِل پر اتفاق رائے پیدا کرنے سے قاصر رہی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ تعلیم کے بعد لڑکیوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ملازمتوں کے بغیر خواتین کے خلاف تعصب کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ خواتین کی بااختیاری کو یقینی بنانا ہاؤزنگ فار آل اسکیم کے تحت بھی ضروری ہے۔

مکانوں کی ملکیت خواتین کے نام پر ہی رجسٹر کروائی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ غیر قانونی اور غیر سماجی عوامل جیسے جہیز کے لئے اموات، بچپن کی شادی اور خواتین پر تشدد ہنوز جاری ہے۔ وینکیا نائیڈو نے سماج کو خود احتسابی کا اور ذہنیت تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تاکہ صنفی انصاف کو یقینی بنایا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمیں اِن تبدیلیوں پر غور کرنا چاہئے۔ یہ کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اِس مسئلہ کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، اگر اس کا الزام کسی پر عائد کیا جاسکتا ہے تو تمام پارٹیوں کو مساوی طور پر اس کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہئے اور اُن کے دور اقتدار کے متناسب ذمہ داری عائد کی جانی چاہئے۔ نامولود بچیوں کی ہلاکت کے کلچر کے بارے میں اُنھوں نے کہاکہ یہ مادر وطن کی توہین ہے۔

TOPPOPULARRECENT