Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / خواتین تحفظات بل کی عاجلانہ منظوری کا مطالبہ

خواتین تحفظات بل کی عاجلانہ منظوری کا مطالبہ

لوک سبھا میں صدر کانگریس سونیا گاندھی کا خصوصی خطاب
نئی دہلی۔/8مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج عالمی یوم خواتین کے موقع سے استفادہ کرتے ہوئے عرصہ دراز سے معرض التواء خواتین تحفظات بل کو عاجلانہ منظوری پر زور دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین کے جائز اور منصفانہ حقوق فراہم کئے جائیں۔ لوک سبھا میں اسپیکر سمترا مہاجن نے آج  صرف خاتون ارکان کو خطاب کی اجازت دی تھی۔ اس موقع پر سونیا گاندھی نے بعض بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مجالس مقامی کے انتخابات میں مقابلہ کیلئے تعلیمی لیاقت کو لازمی قرار دینے کے ایک قانون پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس قانون کی پابندیوں سے خواتین انتخابی مقابلہ سے محروم ہوجائیں گی۔ حکومت کے اقل ترین حکمرانی کے نعرہ پر تنقید کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں کو معمولی خامیوں کی بناء کالعدم کردیا گیا ہے جنہیں بیشتر خواتین چلاتی  ہیں۔ بی جے پی کی زیر اقتدار ہریانہ اور راجستھان میں مجالس مقامی کے انتخابات میں مقابلہ کیلئے تعلیمی قابلیت کو لازمی قرار دینے کے قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے قانون سے ایس سی، ایس ٹی گروپس سے وابستہ خواتین کثیر تعداد اپنے دستوری حقوق سے محروم ہوگئی ہے اور اس قانون کو فی الفور برخاست کردینے کا مطالبہ کیا۔ اگرچیکہ انہوں نے بعض رضاکارانہ تنظیموں ( این جی اوز ) کے خلاف حکومت کی کارروائی کا راست حوالہ نہیں دیا لیکن انہوں نے سیول سوسائٹیز این جی اوز اور سرگرم کارکنوں کی آزادی کے حق میں آواز بلند کی۔ صدر کانگریس نے لڑکیوں کے ساتھ امتیازات ، دختر کشی، جہیز جیسی سماجی لعنتوں کے خلاف جدوجہد کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔

اکثریت کے باوجود مودی حکومت خواتین کی بااختیاری سے قاصر
نئی دہلی ۔8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام)کانگریس نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ تاریخی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود خواتین کو بااختیار بنانے سے قاصر رہے اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حکومت کے خواتین تحفظات بل کے بارے میں موقف پر اپنی خاموشی توڑ دیں۔ کانگریس کی ترجمان سشمیتا دیو نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ وہ بحیثیت ایک خاتون پالیسی سازوں کے سامنے کھڑی ہیں تاکہ پارٹی وزیراعظم پر زور دے سکے کہ وہ اس مسئلہ پر اپنی خاموشی توڑ دیں۔ مجھے یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوتی ہیکہ وزارتی کابینہ کی بیشتر خاتون ارکان لوک سبھا سے غیر حاضر رہتی ہیں۔ جب بھی لازمی بحث ہوتی ہے آج بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر بحث کے دوران بھیاسی واقعہ کا اعادہ ہوا۔ انہوں نے اظہار افسوس کیا کہ وزیراعظم کی خاموشی ایک ایسے وقت بھی برقرار ہے جبکہ اتفاق رائے کیلئے تمام ارکان نے بہ یک آواز بلند آہنگ کے ساتھ اتفاق رائے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تاریخی اکثریت حاصل ہے اس کے باوجود وہ خواتین کو بااختیار بنانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلہ پر بیان دیں اور حکومت کا موقف واضح کریں۔

TOPPOPULARRECENT