Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / خواتین رمضان کیسے گزاریں

خواتین رمضان کیسے گزاریں

محترمہ ناظمہ عزیز مؤمناتی

اسلامی مہینوں میں صرف رمضان المبارک کے مہینہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ جس کا نام ہمیں قرآن مجید میں ملتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’رمضان کا مہینہ وہ ہے، جس میں قرآن اُتارا گیا‘‘۔ ماہ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر روزے فرض کئے ہیں، اس میں مرد و عورت کی تخصیص نہیں، روزہ جس طرح مردوں پر فرض ہے، اسی طرح عورتوں پر بھی فرض ہے، البتہ وہ عورتیں جو حالت حیض و نفاس میں ہوں تو وہ روزہ نہ رکھیں، بعد میں اس کی قضا کرلیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے بحالت ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جس نے رمضان کی راتوں میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کی، اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں‘‘۔ (مشکوۃ)
’’رمضان‘‘ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اسی لئے اس کے احترام کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ مت کہو کہ رمضان آیا اور رمضان گیا، بلکہ کہو رمضان کا مہینہ آیا، کیونکہ رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے‘‘ (روح البیان) اسی لئے اس کو شہر اللہ (اللہ کا مہینہ) کہا جاتا ہے۔
رمضان المبارک بے انتہاء رحمتوں کے نزول کا مہینہ ہے، ان رحمتوں سے فائدہ اہل ایمان مسلم مرد و خواتین کو نصیب ہوتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں روزوں کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت وارد ہوئی ہے، جس میں مردوں کے ساتھ عورتوں کے لئے بھی وہی فضیلت رکھی گئی ہے۔ مسلم خواتین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کی قدر کرتے ہوئے اس ماہ مبارک کے روزے رکھیں اور عبادتوں کے ذریعہ تقرب الہی حاصل کریں۔ گھر میں کام کاج یا دیگر بہانے بناکر رمضان کے فرض روزے ہرگز ترک نہ کریں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر اور بیماری کے ایک دن کا روزہ نہ رکھے، پھر وہ عمر بھر روزہ رکھے، لیکن رمضان کے روزہ کا ثواب نہ پائے گا‘‘ (ابن ماجہ) اس حدیث شریف سے یہ اندازہ لگتا ہے کہ رمضان کے روزوں کی کس قدر اہمیت اور کتنا ثواب ہے۔

مسلم خواتین اس حدیث شریف پر غور و فکر کریں اور روزوں کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی صورت میں روزہ نہ چھوڑیں۔ بہت ساری مسلم خواتین بازاروں میں خرید و فروخت کے لئے نکلتی ہیں اور علی الاعلان بازاروں اور ہوٹلوں میں کھاتی پیتی ہیں، ایسا کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ ہمیشہ صحت مند رہتی ہیں، مگر جب روزہ رکھنے کے لئے کہا جاتا ہے تو بہانے بناتی ہیں۔ کبھی یہ عذر پیش کرتی ہیں کہ میرا بچہ چھوٹا ہے، کبھی کہتی ہیں کہ میں حاملہ ہوں اور کبھی کہتی ہیں کہ مجھے گھر میں بہت کام ہے، پکوان کرنا ہے اور کپڑے وغیرہ دھونا ہے۔ حالانکہ ان مصروفیات کا بہانہ روزِ قیامت کام آنے والا نہیں ہے، البتہ قابل قبول شرعی عذر ہو تو کوئی بات نہیں۔
روزہ اسلام کا چوتھا رکن ہے اور ماہ شعبان المعظم سنہ ۲ہجری میں مدینہ منورہ میں فرض ہوا۔ روزہ کا انکار کرنے والا کافر ہے اور بلاعذر چھوڑنے والا سخت گنہگار ہے۔
حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ کا نام ’’باب الریان‘‘ ہے، جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے‘‘۔ (مشکوۃ)
ہر نیکی کے عوض حساب مقرر ہے، یہاں تک کہ بعض نیکیوں کا بدلہ سات سو گنا تک ہو جاتا ہے، لیکن روزہ سے خدائے تعالیٰ کو اتنا پیار ہے کہ وہ روزہ دار کو اس کا بدلہ خصوصی طورپر عطا فرمائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بندہ روزہ میرے لئے رہتا ہے، لہذا اس کا بدلہ میں خود دوں گا‘‘۔

روزہ کے علاوہ ہماری مائیں بہنیں نماز تراویح کی ادائیگی کے لئے بھی بہانے بناتی ہیں اور کہتی ہیں کہ بیس رکعات تراویح کس طرح ادا کروں؟ جب کہ گھنٹوں ٹھہرکر ایک دوسرے سے بلاوجہ بات چیت کرتی ہیں، یہاں تک کہ فرض نمازیں بھی بیٹھ کر پڑھتی ہیں، جب کہ بلاعذر شرعی فرض نماز بیٹھ کر پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی۔ نماز تراویح بالاجماع سنت مؤکدہ ہے، جیسا کہ مصباح الفقہ حصہ اول میں مذکور ہے کہ رمضان المبارک میں نماز تراویح ادا کرنا مردوں اور عورتوں کے لئے سنت مؤکدہ ہے۔ اور خواتین اپنے گھروں میں تنہا نماز تراویح پڑھیں اور ماہ رمضان المبارک میں دن کے اوقات میں تلاوت قرآن کریں یا سماعت قرآن برائے خواتین کی محفل میں پردہ کے ساتھ شریک ہوں۔ قرآن مجید کا پڑھنا، دیکھنا اور سننا سب عبادت میں شامل ہے۔ دن کے اوقات میں چند خواتین کا جمع ہوکر غیبتوں اور دیگر برائیوں میں مبتلاء ہونے کی بجائے قرآن مجید کی تلاوت یا سماعت کریں، تاکہ ان تمام برائیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’قرآن مجید کی تلاوت افضل ترین عبادت ہے‘‘۔
مسلم خواتین کو چاہئے کہ مردوں کی طرح عبادتوں میں مشغول ہوکر وہ بھی قرب خداوندی حاصل کریں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھنے کی ترغیب دیں اور صاحب استطاعت ہوں تو زکوۃ بھی ادا کریں۔ یہ بہانہ ہرگز نہ کریں کہ میرے شوہر زکوۃ ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں دیتے۔ زکوۃ، اللہ تعالیٰ کی مفروضہ عبادتوں میں سے اہم ترین مالی عبادت ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی خصوصی ترغیب دی ہے، جس میں ان کے مزاج، نفسیات اور ماحول کی پوری رعایت رکھی گئی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں مذکورہ ہے، حضرت جابر اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عید کے موقع پر رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے الگ خطاب فرمایا، جس میں آپ نے ان کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دی۔ اس خطاب مبارک سے صحابیات رضی اللہ عنہن بے حد متاثر ہوئیں، اپنے قیمتی زیورات اور دیگر اہم چیزیں اللہ کے نام پر خدمت اقدس میں پیش کردیں۔
ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف سنت مؤکدہ کفایہ ہے۔ جس طرح مرد حضرات مساجد میں معتکف ہوتے ہیں، اسی طرح خواتین کو اپنے گھروں میں معتکف ہونا چاہئے۔ نورالایضاح میں ہے کہ ’’عورت کے لئے درست یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کے اس حصہ میں معتکف ہو، جس گوشہ کو نماز پڑھنے کے لئے مختص کر رکھی ہو‘‘۔
مردوں کی طرح صاحب استطاعت عورتوں پر بھی صدقۂ فطر کا ادا کرنا واجب ہے۔ شب قدر کی طاق راتوں میں عبادات کا اہتمام مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی کرنا چاہئے۔ بہرحال مسلم خواتین کو چاہئے کہ وہ ماہ رمضان المبارک کی قدر کرتے ہوئے عبادتوں اور ریاضتوں میں اپنے اوقات گزاریں، تاکہ انھیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلم خواتین کو ماہ رمضان المبارک عبادات میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT