Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / خواتین کو بااختیار بنانے تعلیم نسواں کو عام کرنے کی ضرورت

خواتین کو بااختیار بنانے تعلیم نسواں کو عام کرنے کی ضرورت

شاداں گروپ آف تعلیمی ادارہ جات میں امریکی قونصل جنرل مس کیتھرین و محترمہ زہرا شاہ عالم رسول خاں کا خطاب
حیدرآباد۔ 15مارچ۔ ( پریس نوٹ ) ۔ امریکی قونصل جنرل متعینہ حیدرآباد مس کیتھرین بی ہڈا نے خواتین کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اسی وقت بااختیار ہوسکتی ہیں جبکہ زیور تعلیم سے آراستہ ہوں۔ وہ آج یہاں شادان گروپ آف تعلیمی ادارہ جات، خیریت آباد  میں امریکہ میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق معلوماتی سیشن سے خطاب کررہی تھیں۔  مس کیتھرین نے بتایا کہ امریکہ میں تعلیم نسواں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔  انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلہ میں وسیع مواقع فراہم کئے جاتے ہیں ۔ جبکہ امریکہ میں معیار تعلیم دیگر ممالک کے بہ نسبت بہتر ہے اور دنیا بھر میں یہاں کے اسناد قبول کئے  جاتے ہیں۔ انہوں نے طالبات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ امریکہ کے تعلیمی اداروں میں ہندوستانی طلبہ کا تناسب 16 فیصد  ہے۔ تعلیمی سال 2016-17ء کے لئے ہندوستان سے جملہ 166,000 طلبہ امریکہ روانہ ہوئے ہیں جن میں 62 فیصد طلبہ نے پوسٹ گریجویشن کی غرض سے امریکہ کا رخ کیا۔ امریکہ میں تعلیم سے فراغت حاصل کرنے والے  مختلف ممالک کے بڑی بڑی کمپنیوں اور دیگر اہم اداروں میں روزگار سے مربوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ انہیں اگر امریکہ جانے کا موقع فراہم نہ ہو تو غلط راستے اختیارکرتے ہوئے امریکہ جانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ انکا  یہ عمل  کریئر کو متاثر کرسکتا ہے۔ مس کیتھرین نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں امریکہ۔ہندوستان کے تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی ایک معاہدے بشمول  سائنس و ٹکنالوجی اور ترقیاتی پروگرام شامل ہیں۔ امریکہ کی  یونیورسٹیز کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اور مسیچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آ ف ٹکنالوجی بھی ISRO کے ساتھ تحقیقی شراکت دار جس کے نتیجہ میں  دونوں ممالک میں عالمی قیادت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ امریکہ میں خواتین کے حقوق کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اسٹوڈنٹس کیمپس کی علیٰحدہ سیکیوریٹی کے علاوہ طالبات کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ مسٹر گیبرئیل پبلک افیرس آفیسر امریکن قونصلیٹ  اور دیگر امریکی ویزا آفیسرس بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر زہرا شاہ عالم رسول خان جوائنٹ سکریٹری شاداں ایجوکیشن سوسائٹی نے کہا کہ لڑکیاں کافی ذہین ، با صلاحیت اورہنر مند ہوتی ہیں۔ لڑکیاں اپنے آپ کو والدین پر بوجھ نہ سمجھے بلکہ اپنے خاندان اور قوم کا اثاثہ بننے کے لئے تعلیمی مواقع سے استفادہ کریں۔ ڈاکٹر زہرا نے ڈاکٹر محمد وزارت رسول خان مرحوم بانی و چیف پروموٹر شاداں گروپ آف تعلیمی ادارے جات کی تعلیمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تعلیم نسواں کے فروغ کے لئے لڑکیوں اور خواتین کے لئے ابتدائی تعلیم سے لے کرانجینئرنگ‘ مینجمنٹ ، فارمیسی اور میڈیکل کالجس کا قیام عمل میں لایا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد وزارت رسول خان نے جنوبی ہند میں تعلیمی انقلاب کے ذریعہ ملت اسلامیہ کے ہونہار طلبا و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے انکی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کیا اور الحمد للہ یہاں کے فارغ طلبہ و طالبات آج دنیا کے کونے کونے میں روزگار سے مربوط ہوکر خود اپنی اور اپنے افراد خاندان ہی کی نہیں بلکہ ملک کی معیشت کے لئے اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔جبکہ مختلف کورسس میں شاداں سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کی بڑی تعداد امریکہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے طالبات سے خواہش کی کہ وہ ڈاکٹر محمد وزارت رسول خان کے خواب  کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے سخت محنت و جستجو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور آنے والی نسلوں کے لئے بہترین سرمایہ حیات بنیں۔ آخر میں امریکن قونصلیٹ کے ویزا آفیسرس نے طالبات کو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کی اہمیت اور ویزا حاصل کرنے کے طریقہ کار سے واقف کروایا ۔ شہ نشین پرڈاکٹر مسعودپرنسپل شاداں انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر اسٹڈیزتھے۔ اس موقع پر جناب محمد محی الدین گھٹالہ ، جناب محمد شمیم الدین ، جناب رحمن شریف  اور محمد اعظم  کے علاوہ شاداں گروپ آف تعلیمی ادارہ جات کی طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT