Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / خواتین کو تعلیم کے ذریعہ ہی با اختیار بنایا جاسکتا ہے

خواتین کو تعلیم کے ذریعہ ہی با اختیار بنایا جاسکتا ہے

معاشی طور پر خود مکتفی بنانا بھی ضروری ۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کا خطاب
حیدرآباد 24 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج کہا کہ خواتین کو تعلیم کے ذریعہ ‘ انہیں معاشی طور پر خود مکتفی بناتے ہوئے اور انہیں مواقع فراہم کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں با اختیار بنایا جاسکتا ہے صدر جمہوریہ نے بنسی لال ملانی کالج آف نرسنگ میں یہاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو تعلیم سے بہرہ ور کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں با اختیار بنایا جاسکتا ہے ۔ انہیں معاشی طور پر خود مکتفی بنانے کی ضرورت ہے اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ خواتین میں موجود صلاحیتوں کو ظاہر ہونے کاموقع دیا جانا چاہئے ۔ صدر جمہوریہ نے نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج جبکہ ہندوستان میں خواندگی کی اوسط شرح 74 فیصد ہے خواتین میں خواندگی کی شرح کم ہے ۔ یہ 65 فیصد سے بھی کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا سماج جو اپنی خواتین کو با اختیار نہیں بناتا وہ خسارہ میںرہتا ہے اور انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا ۔ پرنب مکرجی نے ملک میں نگہداشت صحت کے انفرا اسٹرکچر کے فقدان پر تشویش کا اظہار بھی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا واحد دیرپا حل یہی ہے کہ صرف باہمی تعاون والا ڈھانچہ تیار کیا جائے جو حکومت اور خانگی حصہ داروں کے علاوہ سماج پر مشتمل ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ در حقیقت صحت ‘ تعلیم ‘ اور معیار زندگی میں ترقی کے نشانوں کی تکمیل صرف حکومت کے ذریعہ ممکن نہیں ہوسکتی ۔ اس طرح کے امداد باہمی ڈھانچوں کی ضرورت ہر شعبہ میں محسوس کی جاتی ہے ۔ صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ ملک میں نرسوں کی شدید قلت ہے ۔ یہ قلت تقریبا 24 لاکھ نرسوں کی ہے ۔ اس کے باوجود نرسوں کی تعداد میں کمی بھی واقع ہوئی ہے ۔ جب ملک میں 2009 میں 1.65 ملین نرسیں موجود تھیں تو یہ تعداد گذشتہ سال گھٹ کر 1.56 ملین رہ گئی تھی ۔ اس سے صورتحال تشویشناک محسوس ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی ہمارا انفرا اسٹرکچر صرف 1.53 لاکھ ہیلت سب مراکز 85,000 عوامی صحت مراکز اور 5000 کمیونٹی ہیلت مراکز پر مشتمل ہے جبکہ ہندوستان میں 130 کروڑ عوام رہتے بستے ہیں۔ یہاں 5000 ٹاؤنس اور 6.4 لاکھ گاوں ہیں۔ انہوں نے کوئی ایسا ماڈل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جہاں صرف حکومت کی بجائے تمام حصہ دار اپنا رول ادا کرتے ہوئے نظر آئیں۔

TOPPOPULARRECENT