Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / خواتین کی ڈرائیونگ تارکین وطن میں تشویش

خواتین کی ڈرائیونگ تارکین وطن میں تشویش

 

کے این واصف
مملکت سعودی عرب کے فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز نے ایک اور چونکا دینے والا فیصلہ کرکے پچھلے ہفتہ سعودی خواتین کو کار چلانے کی اجازت دے دی۔ اس شاہی فرمان پر شوال 1439ھ سے عمل آوری ہوگی۔ مملکت نے اس شاہی حکم کو نہ صرف سعودی خواتین کو سہولت فراہم کی بلکہ اس فیصلے کو ملک اور عوام کیلئے اقتصادی طور پر فائدہ مند بھی بتایا۔ یہ بات درست بھی ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں خواتین ہیں جو محکمہ تعلیم، صحت اور کچھ دیگر شعبوں میں ملازمت کرتی ہیں اور انہیں اپنے دفاتر جانے آنے کیلئے گاڑی کے ساتھ ڈرائیور رکھنے کا خرچ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے اور جو گاڑی رکھنے کے متحمل نہیں انہیں ٹیکسی پر انحصار کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ بہت محدود ہے اور اس سے خواتین استفادہ نہیں کرسکتیں۔ لہذا سعودی عرب میں خواتین کیلئے تنہا اپنی ملازمت یا دیگر کاموں کیلئے باہر نکلنا مشکل اور مہنگا ہوا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے نے خواتین میں خوشی کی لہر دوڑادی۔ لیکن دوسری طرف تارکین میں اس اعلان نے تشویش پیدا کردی۔ وہ اس لئے کہ یہاں 12 لاکھ سے زائد تارکین وطن ہاؤز ڈرائیور کے طور پر ملازمت کرتے ہیں، ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ شوہر ڈرائیور ہے اور بیوی گھر میں خادمہ۔ دونوں کی ملازمت بھی چلتی ہے اور میاں بیوی ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اب جبکہ خواتین کو عنقریب گاڑی چلانے کا لائسنس حاصل ہوجائے گا تو یہ ہاؤز ڈرائیور اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ان ہاؤز ڈرائیورز میں ہندوستان اور خصوصاً ریاست کیرالا سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق 13 لاکھ سے زیادہ ڈرائیورز گھروں میں کام کرتے ہیں۔ انھیں شاہی فرمان کے بعد ان کی ملازمت ختم ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ’’ آؤٹ لُک انڈیا ‘‘ ویب سائیٹ نے کیرالا کے ڈرائیوروں کے خدشات کی ترجمانی پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں باور کرایا گیا کہ شاہ سلمان کے تاریخی فیصلے نے سعودی خاندانوں کے یہاں بحیثیت ڈرائیور کام کرنے والے ہندوستانیوں کے دلوں میں خدشات پیدا کردیئے ہیں کہ اب ان کی چھٹی کا وقت آن پہنچا ہے اور کسی بھی لمحے انھیں فارغ کردیا جاسکتا ہے۔ ویب سائیٹ پر کہا گیا ہے کہ نئے فیصلے کے بعد بہت سارے سعودی شہری ان ڈرائیوروں کو فارغ کردیں گے جو شاپنگ، ملازمت، کالج اور اسکول اپنی خواتین اور بچیوں کو لانے لے جانے کا کام کرتے ہیں۔ سمندر پار موجود ہندوستانیوں کے حقوق کی محافظ ایک تنظیم کے سربراہ نے شاہی فرمان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاہ سلمان کا فیصلہ سعودی خواتین کیلئے فتح عظیم ہے تاہم ہندوستانی ڈرائیوروں کیلئے ضرب کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ ویب سائیٹ پر یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ تقریباً ہر ہفتے ہندوستانی کارکن سعودی عرب کو خیرباد کہہ کر مستقل بنیادوں پر وطن واپس ہونے لگے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کی خانگی کمپنیوں کے خراب اقتصادی حالات اور خارجی باشندوں پر فیملی فیس کا عائد کیا جانا ہے۔ اس کے علاوہ دس تا بارہ مہینوں بعد لاکھوں خارجی باشندے ان کی ملازمت سے خارج کردیئے جائیں گے۔ یہ لوگ دوسری ملازمت تلاش کرکے نقل کفالہ بھی نہیں کرواسکتے کیونکہ لیبر قوانین کے مطابق فیملی ڈرائیور کے ویزے کا نقل کفالہ نہیں ہوسکتا۔ لہذا ان لوگوں کو مملکت چھوڑ کر جانا ہوگا۔

دریں اثناء سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن جن کا قیام کسی وجہ سے غیر قانونی ہوگیا تھا انھیں بغیر سزا یا جرمانہ ادا کئے بغیر مملکت سے نکل جانے کیلئے حکومت نے تیسری مہلت کا اعلان کیا۔ متواتر یہ تیسری مہلت دینے کا مطلب یہی ہے کہ حکومت نے اس کے اچھے نتائج ریکارڈ کئے ہیں۔ پچھلے دو مہلت کے وقفے میں 6 لاکھ سے زائد تارکین مملکت چھوڑ کر اپنے اپنے وطن لوٹ گئے۔ تارکین بھی مہلت سے فائدہ اٹھانے کیلئے بڑی تعداد میں اپنی ایمبیسی پر جمع ہورہے ہیں اور ایگزٹ سرٹیفکیٹ حاصل کررہے ہیں۔ اس لئے کہ حکومت ان کو بہت زیادہ آسانیاں اور سہولتیں فراہم کررہی ہے۔ یعنی اس مہلت سے تارکین وطن اور مملکت دونوں کو فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ ورنہ ان کو غلطیوں کی سزائیں بھگتنا اور جرمانے ادا کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔ تارکین وطن کی مزید ایک ماہ کی مہلت کا آغاز 16 ستمبر سے ہوا۔ پہلی مہلت کی مدت 90 دن کی تھی جس میں بعد کو 30 دن کا مزید اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ 120 دن کی مہلت کا اختتام 24 جولائی 2017 کو ہوا۔

ہندوستان سمیت مختلف سفارت خانوں نے اپنے تارکین پر زور دیا کہ وہ اس نئی توسیع سے فائدہ اٹھائیں اور بغیر کسی سزا اور جرمانے کی ادائیگی کے اپنے وطن لوٹ جائیں۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ نئے ویزا پر پھر سے مملکت آسکتے ہیں۔
سفارت خانہ ہند میں ایک خصوصی اجلاس کا اہتمام کیا جس میں سفیر ہند احمد جاوید نے صحافیوں، کمیونٹی لیڈرز اور سماجی کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انڈین کمیونٹی میں مملکت کی جانب سے دی گئی اس مہلت کی مدت کے بارے میں آگہی مہم چلائیں تاکہ مملکت کے دور دراز علاقوں میں موجود ہندوستانی باشندے اس سے فائدہ اٹھاسکیں۔ احمد جاوید نے یہ بھی کہا کہ سفارت خانہ ہند ریاض ، جدہ قونصلیٹ کے علاوہ دیگر 4 سنٹرز پر ایمبیسی کی ٹیم ہندوستانی تارکین وطن کی مدد کرے گی۔ یہ ٹیم ایمرجنسی خروج (Exi Certificate) کیلئے درخواستیں حاصل کرے گی۔ جس کا پروگرام اس طرح ہوگا۔ ہر جمعہ کو دمام، ہفتہ کو الخبر، جبیل اور اتوار کو بریدہ، وادی الدوسر میں کام کرے گی۔

جدہ قونصلیٹ کے مطابق پہلی مہلت کی مدت میں 31600 ہندوستانیوں کو EC جاری کیا گیا۔ قونصلیٹ نے یہ بھی کہا کہ جن ہندوستانیوں نے پہلی یا دوسری مہلت کی مدت میں EC حاصل کیا اور مملکت سے واپس نہیں جاسکے وہ اب اپنی EC کی تجدید کرواسکتے ہیں جس کیلئے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ سفیر ہند نے بتایا کہ جو لوگ سعودی عرب کی مطلوب (Wanted) کی فہرست میں ہیں یا کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں وہ مہلت کی مدت سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ہندوستانی جو ایمبیسی سے کسی بھی قسم کی مدد یا تعاون چاہتے ہیں حاصل کرسکتے ہیں۔

مہلت سے فائدہ اٹھانے والوں کیلئے حکومت سعودی عرب غیر قانونی مقیم افراد کو جرمانے معاف کرنے، سزاؤں سے بری کرنے کے علاوہ کئی قسم کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ متعلقہ سرکاری دفاتر نے تارکین وطن کیلئے خصوصی کاؤنٹرز قائم کئے ہیں۔ اپنی ڈیوٹی کے علاوہ زائد اوقات میں دفاتر کام کرتے ہیں جس سے مہلت کی مدت سے فائدہ اٹھاکر مملکت سے نکل جانے والے تارکین وطن کو کافی سہولت حاصل ہے۔ دوسری جانب ان غیر قانونی مقیم افراد کے علاوہ خارجی باشندوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے بھی خروج Exit حاصل کرتے ہوئے مملکت کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اس کی وجہ فیملی ٹیکس ہے۔ واضح رہے کہ یکم جولائی 2017 سے مملکت میں تمام تارکین وطن پر فیملی ٹیکس لاگو ہوا ہے جس کے مطابق پہلے سال ہر تارک وطن کو اپنی فیملی کے ہر ممبر پر سو ریال ماہانہ فیملی ٹیکس یا فیملی فیس ادا کرنا لازم قرار دے دیا گیا جس کی ادائیگی یہاں اپنی فیملی کے ساتھ رہنے والوں کی اکثریت کیلئے ناقابل برداشت تھا جس کی وجہ سے خارجی باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے مملکت کو خیرباد کہہ دیا۔ یہ فیملی ٹیکس اگلے سال بڑھ کر ماہانہ 200 ریال فی کس ہوجائے گا اور تیسرے سال 400 سو ریال فی کس ہوجائے گا۔ پہلے سال تو کچھ افراد نے یہ فیس ادا کردی لیکن اگلے سال اگر فیملی فیس کی ادائیگی کا قانون برقرار رہا تو پھر شاید ہی کوئی خارجی باشندہ اپنی فیملی کو یہاں رکھ پائے گا۔ اس بات کے اندیشے ہیں کہ اگلے چند ماہ میں کچھ اور نئے قوانین آئین کے آنے والے ہیں جس سے یہاں کے خارجی باشندوں کے اطراف مزید گھیرا تنگ ہوگا اور خارجی باشندے مملکت چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ یہاں آئے ہوئے نئے اور کم عمر افراد کیلئے نئی منزل کی تلاش شاید بڑا مسئلہ نہ ہو مگر وہ جنہوں نے ایک لمبا عرصہ یہاں گزارا اور وہ معاشی طور پر مستحکم نہیں تو ان کیلئے نہ نئی منزل تلاش کرنا آسان ہے اور نہ اپنے وطن واپس جاکر قدم جمانا آسان ہے۔ ہماری مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ان واپس آنے والے تارکین وطن کی بازآبادکاری سے متعلق سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT