Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / خواتین کے خلاف جرائم پر مرکزی حکومت سنجیدہ

خواتین کے خلاف جرائم پر مرکزی حکومت سنجیدہ

بروقت مقدمات کا اندراج اور تحقیقات میں پیشرفت ضروری : وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا خطاب

نئی دہلی 18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے مسئلہ پر سنجیدہ ہے اور اس نے اس لعنت سے نمٹنے کیلئے دستوری اور قانونی دائرہ کار کو مستحکم کیا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے دہلی بار اسوسی ایشن کی 125 سالہ تقاریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری قانون ( ترمیمی ) بل ایک سنگ میل قانون کی اہمیت رکھتا ہے جس کے نتیجہ میں خواتین کے خلاف مختلف جرائم پر سزا میں اضافہ کیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ جو ریاستیں خواتین کے خلاف جرائم کی تحقیقات کیلئے یونٹیں قائم کرنا چاہتی ہیں انہیں بھی مدد فراہم کرنے کا مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونٹیں انتہائی عصری رہیں گی اور ان میں ایک تہائی خواتین کو شامل کیا جائیگا جنہیں مرکزی حکومت اور ریاستوں کی جانب سے مساوی فنڈز فراہم کئے جائیں گے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم کی تحقیقات میں اگر کوئی عہدیدار اور میڈیکل عملہ بھی اپنے فرائض سے کوتاہی برتنے کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائیگی ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک ملک گیر سطح کا ایمرجنسی ریسپانس سسٹم بھی تیار کیا گیا ہے اور اس کیلئے بہت جلد قومی سطح کے ایمرجنسی نمبر 112 کو کارکرد کردیا جائیگا ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ ریسپانس سسٹم ایسا ہے جس سے ملک میںکسی بھی مقام سے رابطہ کیا جاسکتا ہے جسے پولیس کی مدد کی ضرورت ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں بروقت اور کسی رکاوٹ کے بغیر مقدمات کا اندراج بھی اہمیت کا حامل ہے اور وزارت داخلہ کی جانب سے عوام کو سٹیزن پورٹل کے ذریعہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے ۔ یہ کرائم اینڈ کریمنل ٹراکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹم کے تحت کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجہ میں عوام کو خواتین کے خلاف جرائم کا پتہ چلانے اور پھر اس کے بعد کی جانے والی کارروائی پر نظر رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔ وزیر داخلہ نے تیزابی حملوں کے متاثرین کی باز آبادکاری کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔

TOPPOPULARRECENT