Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / خواتین ۔ملک میں جنسی ہراسانی کا شکار

خواتین ۔ملک میں جنسی ہراسانی کا شکار

 

خواتین اس وقت تعلیم،سیاست اورمعاشی سرگرمیوں میں مردوں کے شانہ بشانہ مصروف عمل ہیں،مغربی ممالک نے سماجی ،سیاسی اورمعاشی سطح پر خواتین کو’’ آزادی نسوان ‘‘کے عنوان سے گھرکی چہاردیواری سے باہر کیاہے، اس طرح وہ اب محفوظ حصارسے باہر آگئی ہیں جس کی وجہ خاندانی نظام درہم برہم ہوگیاہے۔ اسکے جو نتائج مغربی ملکوں میں رونما ہوئے ہیں بتدریج اسکے اثرات ہمارے ملک میں بھی دیکھے جارہے ہیں،بلا لحاظ مذہب وملت مشرقی تہذیب میں خواتین کی عزت وآبرو محفوظ تھی ، سیاسی،سماجی ومعاشی سرگرمیوںمیں مردوں کے ساتھ بے حجابانہ وبے باکانہ شریک کارنہیں تھیں۔ خاندان کی نگرانی اوراہل خانہ کی فلاح وبہبودانکا نصب العین تھا،گھر کے محفوظ حصار میں رہتے ہوئے بہت سی خواتین معاشی تگ ودو میں ضرورۃً شامل ہوا کرتیں،انسانیت کی صلاح وفلاح اورخلق خداکی خدمت کا فرض بھی اسی محفوظ حصارمیں رہتے ہوئے انجام دیتیں۔ تعلیم ،معاش ،خدمت خلق کے میدانوں میں خواتین نے ہر دورمیں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے لیکن تعلیم وتحصیل معاش وغیرہ کا نظام بھی خواتین کیلئے غیر مخلوط اورپوری طرح محفوظ تھا،ملک کی آزادی کے بعد بھی کئی برسوں تک ہمارا ملک قدیم مشرقی نہج پر قائم رہا جس کے مفیداثرات کی برکت سے امن وآمان کی فضا بنی رہی۔ملک میں خواتین کے ساتھ چھیڑچھاڑ،جنسی استحصال اوربے دردی وجارحیت کے ساتھ ان کے قتل وخون کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہے،نربھے ایکٹ کے تحت بنائے گئے سخت قوانین بھی خواتین کے تحفظ میں نا کام ثابت ہورہے ہیں۔انسانیت ،شرافت ،رواداری ومروت ،کمزوروں اورضعیفوں کی حمایت بالخصوص خواتین کے احترام اوران کی حفاظت جیسے اعلی اقدارکے لئے یہ ملک سارے عالم میں احترام وقدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتاتھا ،اب وہی ملک مغربی تہذیب کے دلدل میں بتدریج دھنستا چلاجارہاہے۔مخلوط تعلیم کی درسگاہوں نے اس کلچرکو فروغ دینے میں نمایاں رول اداکیا ہے،دفاتر،کارخانوں اورمعاشی اداروں میں مردوخواتین کے مخلوط نظام نے رہی سہی کسرپوری کردی ہے۔تعلیم گاہوں میں خاص طورپر چھٹی جماعت کے بعد والے درجات میں کچی عمرکے لڑکے لڑکیوں کا اختلاط جو گل کھلاسکتاہے اسکے اثرات بدسے مشرقی تہذیب شرمسارہے، مخلوط معاشی سرگرمیوں میں حصہ دارمردوخواتین باوجود یہ کہ پختہ عمرکے اوران میں سے اکثرشادی شدہ ہوتے ہیں ،نکاح کا بندھن مذہبی ،سماجی واخلاقی ہراعتبارسے انکی وفاداری اپنے رفیق زندگی ہی سے مخصوص رکھنے کا تقاضہ کرتا ہے لیکن مخلوط نظام معیشت نے ان وفاداریوں پر بھی سوالیہ نشانات لگادئے ہیں ،نیزاخلاقیات کو نصاب تعلیم میں جگہ نہ دینے کی وجہ غیر انسانی وغیر اخلاقی کلچرفروغ پا رہا ہے ۔ قومی کمیشن برائے خواتین کی رکن سکریڑی ستبیربیدی کا کہنا ہے کہ خواتین کو کام کے مقام پر جنسی ہراسانی کا سامنا ہوتاہے ،ان میں ستر فیصد خواتین ایسی ہوتی ہیں جو اسکی شکایت درج نہیں کرواتیں جبکہ خواتین کے استحصال وجنسی ہراسانی سے نمٹنے کیلئے قوانین موجودہیں ،یہ بھی انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض خواتین بلیک میل کرنے کے لئے ان قوانین کا بیجا استعمال کرتی ہیں،جسٹس جی یتیی راجولوسابق ہائی کورٹ جج نے خاتون ملازمین کواجتماعی طورپر جنسی ہراسانی کے خلاف جدوجہد کرنے کا مشورہ دیا ،تلنگانہ کمیشن برائے خواتین کی صدرٹی ونکٹ رتنم نے کہا کہ ان قوانین کو مزید سخت بنانے کیلئے مرکز کو سفارشات روانہ کرنے کی غرض سے اس اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا گیا،

ڈاکٹرتریپورنا نے افتتاحی خطا ب میں سرکاری وغیر سرکاری سطح پر کام کے مقامات پر جنسی زیادتی یا ہراسانی کے واقعات پر اپنی ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ لعنت کالجوں اوریونیورسیٹیوں میں بھی جاری ہے‘‘ (سیاست ۶؍اگست۲۰۱۷) یہ تو ملک کی موجودہ صورتحال ہے ،مستقبل میں مزید مخلوط تعلیمی اداروں کے قیام کے رجحان میں اضافہ ،سرکاری سے زیادہ غیر سرکاری اداروں میں روزگارکے بڑھنے کے امکانات اوران میں مردوں کے ساتھ خواتین کی شراکت داری سے جہاں معاشی فوائد کے امکانات روشن ہیں وہیں اخلاقی سطح پر اسکے مضرات ونقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ملکی قانون لڑکا لڑکی بالغ ہوجانے کے باوجود نکاح کی اجازت نہیں دیتا جب تک کہ لڑکی ۱۸؍سال اورلڑکا ۲۱؍سال کا نہ ہوجائے،اس عمر سے پہلے اگرنکاح کا بندھن قائم کیا جاتاہے تو یہ قانونا جرم ہے ،افسوسناک بات یہ ہے کہ قانون نے جو عمر طے کردی ہے اس عمر کے لڑکا ۔لڑکی ناجائز تعلق قائم رکھتے ہیں تو قانون ان کو سند جواز عطا کرتاہے ،جرم وگناہ کے اس قانونی جواز نے اخلاقیات کے تاروپودبکھیردیئے ہیں۔مشرقی تہذیب جس بے راہ روی کو ہر گز کبھی گوارہ نہیں کر سکتی تھی اب مغربی تہذیب کے زیر اثراس کو’’روشن خیالی اورنئی تہذیب وکلچر ‘‘کے عنوان سے تسلیم کرلیاگیاہے۔مخلوط تعلیمی و معاشی سرگرمیوں کی وجہ سماج انتشار کے دوراہے پر کھڑاہے،نکاح کے بغیر رضامندی سے جنسی اختلاط کا رجحان فروغ پا رہا ہے ،دہلی اوراحمدآباد جیسے شہروں میں مغربی تہذیب جڑپکڑتی جارہی ہے ،اس صورتحال کے نتیجہ میں والدکی حقیقی نسبت کے بغیرماں کی نسبت سے بچے متعارف ہورہے ہیں،چنانچہ ہمارے ملک کے اسکولس میں والدکے نام کے بجائے ماں کا نام درج کروانے کی قانوناً اجازت حاصل ہوچکی ہے،مغرب کی دیکھا دیکھی ملازم جوڑے اولاد کی پیدائش کو اپنے شاندارمستقبل کی تعمیر میں رکاوٹ جان کر مانع حمل تراکیب اختیارکررہے ہیں اورعمل تولید کو مؤخرکرنے کے مادی اسباب ووسائل سے استفادہ کررہے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملازم پیشہ خواتین ’’ آزادی نسوان‘‘ کے خوبصورت نعرہ کے زیر سایہ دوہری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبورکردی گئی ہیں،دن بھر ملازمت کے فرائض انجام دیکر تھکی ہاری جب گھر پہنچتی ہیں تو گھریلو ذمہ داریاں انکا استقبال کرتی ہیں، آرام کا موقع نہیں ملتا بلکہ شوہراور بچوں وغیرہ اورخود اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے مصروف بکارہوجاتی ہیں ، نوکرچاکر ہوں تب بھی وہ کام کاج سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں کیونکہ گھریلونظام میں نوکروں پر پوری طرح انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ دوہری ذمہ داریوں کو نبھانے کے باوجودنا قدری وبے توقیری کے کڑوے گھونٹ پی رہی ہیں،مشرقی تہذیب میں جو عظمت ومرتبت اورقدرومنزلت خواتین کو حاصل تھی وہ رخصت ہوچکی ہے، مغربی افکار کو گلے لگانے سے عورتوں کو راحت کے بجائے مصیبت جھیلنے کا تجربہ حاصل ہورہاہے ، ان جیسے عوامل نے ڈپریشن کے مرض کو عام کردیاہے ،مردوں سے زیادہ خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے ،اسکے سارے احکام سلیم الفطرت افرادکے دلوں کو اپیل کرتے ہیں،اسلام تعلیم کا اولین داعی ہے ،مردوں کے ساتھ خواتین کی تعلیم کو بھی ضروری قرار دیتاہے ،لیکن مخلوط تعلیم ، مخلوط کلچر اورمخلوط نظام معاش ومعیشت جہاں سے بدی کے سوتے پھوٹتے ہیں سخت قدغن لگاتاہے۔اسلام رفاہی خدمات کا حامی ہے ،خدمت خلق کو عباد ت کا درجہ دیتاہے ،خواتین مردوں سے زیادہ انسانی جذبات واحساسات رکھتی ہیں اسلئے اسلامی احکامات کے دائرہ میں رہتے ہوئے رفاہی امورانجام دے سکتی ہیں اورمعاشی مسائل کے حل کیلئے مختلف ذرائع اختیارکرسکتی ہیں۔چنانچہ بعض صحابیات جہاد میں شریک رہتیں ،پانی پلاتیں اوردیگرضروری خدمات انجام دیا کرتیں،اورزخمیوں کو مدینہ پاک واپس لے جاتیں (صحیح البخاری: ۲۸۸۲) ام عطیہ رضی اللہ عنہا سات غزوات میں شریک رہیں ، فوجیوں کے لئے کھانا بناتیں ،زخمیوں کی مرہم پٹی اورمریضوں کو تیمارداری کیا کرتی تھیں(صحیح مسلم:۱۸۱۲)حضرت آدم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے اور حوا علیہا السلام دھاگہ کاتتی اوراپنی اولاد کیلئے لباس تیارکیا کرتیں (کتاب الکسب للامام محمد۷۶)بعض انصاری خواتین سے عطر کی تجارت کرنا ثابت ہے(موسوعۃ حیاۃ الصحابیات۱؍۵۱)ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا تجارت کیا کرتی تھیں ،چنانچہ رسول پاک ﷺنبوت سے قبل بطورمضاربت ان سے مال تجارت حاصل فرمایا کرتے تھے (السیرۃ لابن حبان : ۱؍۵۸) اس خصوص میں ان حدود کی رعایت بڑی اہمیت رکھتی ہے جو اسلام نے مردوخواتین کے درمیان قائم کی ہیں، بحیثیت انسان گوکہ دونوں برابرہیں لیکن صنفی اعتبارسے دونوں کے درمیان جو تفریق خود ان کے خالق نے رکھی ہے وہ مقتضی ہے کہ ان کی ذمہ داریاں بھی مختلف ہوں،یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے اسلئے اس میں مساوات کو پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔موجودہ سائنسی تحقیقات نے مردوں کے اندرموجود ہارمون کی وجہ انکی مضبوطی ،توانائی اورجفاکشی کو تسلیم کیا ہے،جبکہ خواتین کے ہارمون کی تجزیاتی تحقیق کے بعد ان کی جسمانی ساخت میں نزاکت ،جذباتیت اورشرم وحیا کی مزاجی کیفیات کو ماناہے۔اس تناظر میں اسلام کا نظام حیات ہی اس مصیبت کا مداوا کرسکتا ہے جو مغربی لادینی افکار وغیر انسانی تہذیب واقدار کواپنا نے کی وجہ گلے کا ہار بن گئی ہے،سخت سے سخت قوانین ملک سے جنسی ہراسانی کا خاتمہ نہیں کرسکتے،بھیڑیوں کی کثرت ہوش مندگلہ بان کے بغیر بکریوں کے ریوڑکی حفاظت کو ناکام بنا دیتی ہے ،انسان نما بھیڑیوں کی درندگی سے خواتین کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جبکہ وہ اسلام کی فطری یقینی حفاظت کی حصار میں آجائیں ۔حصول تعلیم ومعاش وغیرہ جیسے اموراسلامی حدودوقیود میں رہتے ہوئے انجام دیں،نیز اخلاقیات کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ انسان نما بھیڑئے بھی حقیقی معنی میں انسان بن سکیں۔

TOPPOPULARRECENT