Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / خوبصورت بیوی کے ذیلی اثرات

خوبصورت بیوی کے ذیلی اثرات

پروفیسر شمیم علیم

جب بھی کوئی مرد شادی کرنے کے بارے میں  سوچتا ہے تو اس کے تصور میں ایک 17 سال کی نازنین آجاتی ہے ۔ لمبا قد ، چھریرا بدن ، پتلی کمر ، دودھ کی طرح سفید رنگ ، گالوں پر قندھاری سیب ، بڑی بڑی نشہ آور نیلی آنکھیں ۔ لیکن خود بھول جاتا ہے اپنے ڈامر کے جیسے رنگ کو ، ساڑھے چار فٹ کے قد کو ، فٹ بال کی طرح نکلتی توند کو ۔
ہماری ایک قریبی دوست کا بیٹا ، پتہ نہیں کونسی چکی کا پسا آٹا کھاتا تھا ۔ جب اماں نے اس کے لئے لڑکیاں دیکھنا شروع کیا تو اس کی بس ایک ہی ضد تھی ۔ لڑکی بالکل نازک اور چھریرے بدن کی ہو ۔ اماں باوا بار بار اسے آئینہ کے سامنے لے جاتے (وزن کرنے کی مشین پر کھڑا کرتے ، ڈرتے تھے کہ کہیں وہ ٹوٹ نہ جائے) مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ جن کا رنگ کوئلہ کی طرح ہو ان کے دل ودماغ میں ہمیشہ نہایت گوری بیوی کی آرزو ہوتی ہے ۔ ہمارے ملنے والوں میں کئی ایسے جوڑے ہیں جو ہنس اور کوّے کی جوڑی کہلاتے ہیں ۔
لڑکیاں تو بیچاری مجبور ہوتی ہیں ۔ ماں باپ کہتے ہیں کہ مرد کا رنگ روپ نہیں ، بینک بیلنس دیکھنا چاہئے ۔ رنگ روپ تو عورتوں کے لئے ہوتا ہے ۔ ایک بیچاری لڑکی جو ساری عمر اپنے تصور میں ایک حسین شہزادہ کا انتظار کرتی رہی ۔ جب شادی کی رات اس نے اپنے شوہر کو دیکھا تو پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔ شوہر نامدار سمجھے کہ اسے اپنا مائیکہ چھوڑنے کا غم ہے ۔ وہ اسے سمجھاتے رہے کہ دیکھو تمہارا مائیکہ زیادہ دور نہیں ہے ۔ جب دل چاہے ملنے جاسکتی ہو میں تمہیں کبھی منع نہیں کروں گا ۔ بہرحال آٹھ دس دن تک رونے کا یہ سلسلہ جاری رہا ۔ پھر لڑکی نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا ۔ جب میاں پاس آتے تو وہ آنکھیں بند کرکے اپنے شہزادہ کے تصور میں کھوجاتی ۔
ہم نے تو جتنی خوبصورت بیویاں دیکھی ہیں ، ان کے مردوں کو انکے گرد چکر لگاتے دیکھا ہے ۔ لوگ انہیں جورو کا غلام کہتے ہیں ۔ خوبصورت بیویاں اپنے شوہروں کے دماغوں کو اس طرح ہپنٹائز کردیتی ہیں کہ ان کے سوچنے سمجھنے کی قوت سلب ہوجاتی ہے ۔ بس وہ ایک کٹھ پتلی کی طرح بیوی کے اشاروں پر ناچتے رہتے ہیں ۔ ہمارے جاننے والوں میں کتنے ہی ایسے مرد ہیں جو صرف آفس میں اپنی مرضی سے کام کرسکتے ہیں ۔ آفس سے نکلتے ہی بیوی کا خوف ان کے سر پر سوار ہوجاتا ہے ۔ تیز تیز قدم گھر کی طرف اٹھنے لگتے ہیں ۔ راستہ میں ایک پیالی چائے کے لئے بھی نہیں رک سکتے ۔ بیوی وقت اور پیسہ دونوں کا حساب لیتی ہے ۔ ہمارے ایک پڑوسی ہیں جو بیچارے ہمیشہ اس غم میں مبتلا رہتے ہیں کہ انکا اکلوتا بیٹا ان سے الگ ہوگیا ۔ بہو کو پسند نہیں کہ بیٹا اماں باوا کی خدمت کرے اور بیٹے میں اتنی ہمت نہیں کہ خوبصورت بیوی کی مرضی کے بغیر کچھ کرسکے ۔ والدین پچھتاتے ہیں کہ کاش ہم صورت کو نہ دیکھتے ۔
ایک شادی شدہ جوڑا تھا ۔ بیوی بے حد حسین ، میاں زیرو ۔ جب بھی دعوتوں میں جاتے تو بیوی پہلے ہی کہہ دیتی کہ میرے ساتھ چلنا ہے تو بن سنور کے چلنا ۔ مگر جب اللہ نے صورت شکل ہی نہ دی ہو تو بننے سنورنے سے کیا ہوتا ہے ۔ اچھا خاصا آدمی جوکر بن جاتا ہے ۔ پارٹی میں سارے لوگ ان کی طرف دیکھتے ۔ کوئی حیرت بھری نظروں سے دیکھتا ۔ کوئی پیار بھری نظروں سے دیکھتا کہ کم از کم آنکھیں تو سیراب ہوجائیں ۔ کوئی نیک بندہ اللہ سے سوال کرتا کہ اللہ تونے ایسی جوڑی کیوں بنائی ۔ کیا قصور تھا اس حسینہ کا ۔ایک بار کا ذکر ہے کہ میاں بیوی ایک شادی میں شرکت کے بعد گھر واپس ہورہے تھے ۔ راستہ میں بیوی نے کہا کہ کھانا تو اتنا عمدہ تھا مگر اتنی اچھی بریانی کے بعد پان نہیں کھلوایا ۔ میاں نے نہایت سعادت مندی سے کہا چلئے ہم ابھی آپ کی خواہش پوری کردیتے ہیں اور انہوں نے اسکوٹر  پان کی دکان کے سامنے لاکھڑا کردیا ۔ پان کی دکان کے پاس چند منچلے سگریٹ نوشی میں مصروف تھے ۔ حسینہ کو دیکھتے ہی انکی چھٹی حس پھڑکنے لگی ۔ محترمہ میک اپ اور زیوروں سے لدیں ، بہترین لباس میں تھیں ، انکا بس چلتا تو وہ ان کو اغوا ہی کرلیتے ، لیکن انہوں نے صرف فقرہ بازی پر اکتفا کیا ۔ اور گندے گندے جملے میاں بیوی کے تعلق سے بولنا شروع کردیا ۔ میاں کو غصہ آگیا ۔ انہوں نے گھور کے دیکھا ۔ ابھی ایک جملہ بھی منہ سے نہ نکلا تھا کہ وہ غنڈے میاں پر ٹوٹ پڑے ۔ پان والے نے بڑی مشکل سے بیچ بچاؤ کرکے قصہ رفع دفع کیا اور میاں کو صلاح دی کہ بھائی صاحب اتنی خوبصورت بیوی کو اس طرح اسکوٹر پر لیکر مت گھوما کریئے ۔ بیوی جتنی خوبصورت ہو میاں کے لئے اتنی ہی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں ۔ کہاں چھپا کے رکھے اس خوبصورت خزانے کو !
ہمارے محلے میں ایک کالے گورے خاندان میں چار بچے ہیں ۔ دو لڑکے ، دو لڑکیاں ، لڑکے اماں پر لڑکیاں باوا پر ۔ عمر گذر گئی لیکن لڑکیوں کی شادی نہیں ہوئی ۔ اماں ہمیشہ خون کے آنسو روتی رہی کہ کیوں میں نے شادی کی اس توے سے ۔ ایک اور صاحب ہیں جن کی عمر اب ساٹھ سے بھی تجاوز کرگئی ہے ۔ وہ پچھلے چالیس سے خوبصورت بیوی کی ناز برداریاں اٹھارہے ہیں ۔ آج بھی گھر کا پورا کام وہی کرتے ہیں اور بیوی سے کہتے ہیں تم آرام کرو ۔ ان کی بیوی کی ایک عادت ہے کہ جب وہ محفل میں ہوتی ہیں اور انہیں میاں کی کوئی بات بری لگتی ہے تو وہ جھٹ سے انہیں چٹکی لیتی ہیں ۔ کبھی تو یہ اتنی زوردار ہوتی ہے کہ بیچارے تڑپ جاتے ہیں ۔
اکثر مرد چاہتے ہیں کہ ان کی حسین بیوی ساری عمر بس ایک مجسمہ کی طرح رہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیوی سارے وقت وزن گھٹانے کے نسخے اپناتی رہتی ہے ۔ اگر ایک تولہ وزن بھی بڑھ گیا تو میاں پریشان ہوجاتے ہیں ۔ ایک دعوت میں میزبان نے ایک محترمہ سے کہا کہ یہ گرم گرم پوریاں اور حلوہ کھایئے بہت مزیدار ہے ۔ انہوں نے حسرت سے شوہر کی طرف دیکھا اور کہا کہ پچھلے بیس سالوں سے میں نے روٹی کو ہاتھ نہیں لگایا ۔
اب دیکھئے زیادہ خوبصورت ہونا بھی ایک عذاب جان ہے ۔ خوبصورتی آپ کو قید کردیتی ہے ۔ غلام بنادیتی ہے اپنی مرضی سے نہ جی سکتے ہیں نہ مرسکتے ہیں اور حسین بیوی کا شوہر ! وہ تو ایک ایسے بھنور میں پھنس جاتا ہے جس سے زندگی بھر نہیں نکل سکتا ۔ نہ اگل سکتا ہے نہ نگل سکتا ہے ۔کبھی آپ نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ کتنے ذیلی اثرات ہیں خوبصورت بیوی کے ۔ اللہ ان سے ہمیشہ دور رکھے ۔ آمین ۔

TOPPOPULARRECENT