Wednesday , June 28 2017
Home / مضامین / خودی نہ بیچ ۔ غریبی میں نام پیدا کر

خودی نہ بیچ ۔ غریبی میں نام پیدا کر

 

محمد مصطفی علی سروری
جو لوگ غریبی کا رونا روتے رہتے ہیں اور اپنے ہر مسئلہ کیلئے پیسے کی کمی کو ذمہ دار مانتے ہیں ، ان کیلئے اس مرتبہ کے UPSC یونین پبلک سرویس کے نتائج آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہیں ۔ 31 مئی 2017 ء کو UPSC 2016 کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ UPSC کے امتحان میں 50 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ اس مرتبہ جملہ کامیاب امیدواروں کی تعداد (1,099) ایک ہزار ننانوے ریکارڈ کی گئی ۔ ٹاپ 100 امیدواروں میں دس مسلمان شامل ہیں۔ صرف جموں و کشمیر سے UPSC کا امتحان پاس کرنے والے مسلمانوں کی تعداد 14 رہی جبکہ زکواۃ فاؤنڈیشن دہلی کے تربیت یافتہ 16 امیدوار بھی شامل ہیں۔ (بحوالہ ہندوستان ٹائمز 2 جون 2017 )
UPSC کا امتحان کس قدر بڑا اور کس قدر مشکل مانا جاتاہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2016-17 ء میں گیارہ لاکھ سے زائد امیدواروں نے (Prelims) کا امتحان تحریر کیا اوران میں سے صرف (15445) امیدوار ہی کامیاب قرار پائے ۔ انٹرویو تک پہونچنے والے امیدواروں کی تعداد صرف (2961) رہی اورانٹرویوکے بعد کامیاب قرار دیئے جانے والے طلباء صرف (1,099) ہی باقی رہے ۔ ان میں سے بھی صرف (180) امیدواروں کو (IAS) انڈین ایڈمنسٹریٹیو سرویس کا کیڈر الاٹ کیاجائے گا ۔ اس طرح کے سخت مسابقت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ UPSC کا امتحان لکھ کر صف اول کے سرکاری ملازم بننے کی خو اہش مند طلباء کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ لاکھوں درخواست دیئے مگر صرف ایک ہزار کو ہی کامیابی نصیب ہوئی ہے ۔ جسٹس راجندر سچر نے سال 2006 ء میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ہندوستان کی سیول سرویسز میںمسلمانوں کا تناسب صرف 3 فیصد ہے جوکہ ان کی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے ۔ گیارہ برس بعد UPSC کا نتیجہ سامنے آیا تو (50) مسلم امیدواروں نے کامیابی درج کرتے ہوئے ریکارڈ بنایا۔

کامیابی درج کرنے والے (1099) امیدواروں میں سے بیشتر طلباء نے اپنی کامیابی کا راز محنت کو بتلایا ۔ بلال محی الدین بٹ نے UPSC کے امتحان میں 10 واں رینک حاصل کیا ، ان کے مطابق ’’اگر آپ محنت کرنے تیار ہیں تو کوئی چیز ناممکن نہیں اور جب کوئی فرد کسی چیز کو حاصل کرنے کا پکا ارادہ کرلے تو سمجھ لیں کہ وہ چیز حاصل ہوکرہی رہے گی ۔ بشرطیکہ وہ محنت کا راستہ اختیار کرے ۔
کیا محنت صرف امیروں کی رنگ لاتی ہے اور غریبوں کی محنت ضائع ہوجاتی ہے ؟ کیا غریب کی محنت اس کو کامیابی نہیں صرف دو وقت کی روٹی ہی دلاتی ہے ؟ آج کے اس کالم میں ہم انہی سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اپا راؤ اور رکمنی اما آندھراپردیش کے ضلع سریکا کلم میں کھیتوں میں مزدوری کا کام کرتے ہیں۔ ان کا ایک لڑکا ہے جس کا نام گوپال کرشنا جس کی عمر 30 سال ہے۔ گوپال کرشنا نے UPSC کے امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ جی ہاں سریکا کلم کے غریب مزدوروں کے اس بیٹے نے پو رے ہندوستان میں نمایاں کامیابی درج کی اپنی کامیابی کے بعد اخبار ہندوستان ٹائمز کو گوپال نے بتلایا کہ میرے والدین بہت غریب ہیں، میں جب چھوٹا تھا تو ہمارے گھر میں لائیٹ تک نہیں ہوتی تھی ۔ یہی نہیں میرے والدین چاہ کر بھی مجھے کسی اچھے اسکول کو نہیں بھیج سکتے تھے کیونکہ ان کے پاس فیس ادا کرنے کے پیسے نہیں تھے ۔ سرکاری اسکول سے دسویں اور پھر اس کے بعد گورنمنٹ کالج سے گوپال کرشنا نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان کامیاب کیا ۔ گوپال کے لئے سب سے بڑا چیالنج یہ تھا وہ اپنی آگے کی تعلیم کیلئے اپنے اخراجات خود جمع کرے ۔ گوپال نے خلع گوداوری کے کالج سے کسی طرح دو سال کا ٹیچرس ٹریننگ کورس پو را کیا اور سال 2006 ء میں اس کو سرکاری ٹیچر کی نوکری مل گئی ۔ اب گوپال اپنی نوکری کے سہارے اپنی آگے کی تعلیم پوری کرنے میں لگ گیا ۔ سرکاری نوکری کے ساتھ وہ Regular کالج کو تو نہیں جاسکتا تھا ، اس لئے اس نے Distance سے BSc کی ڈگری مکمل کی ۔ اس کے بعد سے گوپال نے IAS کی تیاری شروع کردی ۔ UPSC کے امتحان میں اس نے تلگو لٹریچر ایک مضمون لیا تھا ۔ خاص بات یہ تھی کہ گوپال کی ساری تعلیم تلگو میڈیم سے ہوئی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ UPSC کے انٹرویو کے دوران اس کا انٹرویو بھی تلگو زبان میں ہو ۔ UPSC نے گوپال کیلئے ایک تلگو مترجم کی خدمات حاصل کی۔ گوپال تلگو میں جواب دیتا اور مترجم اس کا ترجمہ کرتے جاتا ۔ HT سے بات کرتے ہوئے گوپال نے اپنی اس کامیابی کیلئے سارا کریڈٹ اپنے والدین کو دیا۔
ریاست بہار سے بھی UPSC کے امتحان میں نرنجن کمار نے کامیابی حاصل کی ۔ 28 سال کے نرنجن کے والد ایک چھوٹی سی کرانہ دکان چلاتے ہیں ، صرف یہی نہیں خود نرنجن بھی دکان چلانے میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتا تھا ۔ نرنجن کے والد اتنے غریب تھے کہ وہ اپنے بچے کے اسکول کی فیس بھی نہیں دے سکتے تھے ۔ اس لئے نرنجن نے جواہر نوا ودیالیہ سے فری میں تعلیم حاصل کی ۔ جب وہ کالج میں پہنچا تو اس کی ٹیوشن فیس (1200) بارہ سو روپئے تھی اور یہ رقم اس کے گھر والے نہیں دے سکتے تھے ، تب نرنجن نے دوسرے بچوں کو ٹیوشن پڑھاکر اپنی فیس جمع کی ۔ اپنی پڑھائی کیلئے اس کو روزانہ 8 تا 10 کیلو میٹر پیدل چل کر جانا پڑتا تھا ، بعد میں جب نرنجن نے پیسے جمع کرلئے تو ایک پرانی سائیکل 600 روپئے میں خریدلی ۔ یوں وہ سائیکل پر جانے لگا تھا ۔ انٹرمیڈیٹ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد نرنجن Mining میں انجنیئرنگ کرنا چاہتا تھا جس کی فیس 4 لاکھ روپئے تھی ۔ نرنجن نے بالآخر بینک سے قرضہ لیکر اپنی انجنیئرنگ کی تعلیم کا خرچہ پورا کیا ۔ انجنیئرنگ کی تکمیل کے بعد نرنجن کو Coal انڈیا لمٹیڈ میں جاب مل گئی ۔ یوں اس کو قرضہ واپس کرنا آسان ہوا اور وہ UPSC کی تیاری میں جٹ گیا۔

اس برس UPSC کے امتحان میں بہار سے جملہ 35 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ نرنجن کو 728 واں رینک ملا ۔ نرنجن اس سے خوش نہیں ہے وہ اگلے برس دوبارہ امتحان لکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اچھا رینک لاکر IAS افسر بن سکے۔
کیرالا کے جوزف میتھیوز کی کہانی اور بھی دلچسپ ہے ۔ یہ ایک ایسے غریب کا لڑکا ہے جو روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ جوزف کیلئے بھی سب سے بڑا مسئلہ اپنے تعلیمی اخراجات خود جمع کرنے کا تھا ۔ جوزف نے ایک Aided اسکول سے تعلیم مکمل کی ۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد کیرالا کے بہت سارے نوجوانوں کی طرح جوزف نے بھی نرسنگ سے گریجویشن مکمل کیا اور آل انڈیا امتحان کامیاب کرنے کے بعد (AIIMS) میں بطور Male نرس نوکری حاصل کرلی ۔ نرس کی نوکری ملنے کے بعد جوزف نے UPSC امتحان کی تیاری شروع کی۔ سال 2012 ء میں پہلی مرتبہ امتحان لکھا لیکن ناکام ہوگیا ۔ دہلی میں جاب ملنے کے بعد وہ دن میں ڈیوٹی ہو تو رات میں پڑھتا تھا اور نائیٹ ڈیوٹی ہو تو دن میں پڑھائی کرتا تھا ۔ جب UPSC 2016 کا نتیجہ آیا تو جوزف کو 574 واں رینک ملا۔ جوزف اس رینک سے خوش نہیں ہے ، اس نے اگلے برس دوبارہ امتحان لکھ کر اچھا رینک لانے اور ایک IAS بننے کے عزم کا اظہار کیا۔ (بحوالہ انڈین اکسپریس 3 جون 2017 )
پنجاب کا 23 سالہ ہرشا بنسل بائیں ہاتھ سے پیدائشی معذور ہے ۔ برنالہ ضلع میں وہ ایک 70گز کے گھر میں رہتا ہے جس میں ایک ہی بیڈروم ہے اور گھر کے سامنے کے حصے میں ایک ملگی ہے جس میں اس کے والد کرانہ کی دکان چلاتے ہیں۔ ہرشا بنسل نے UPSC میں 1070 کا رینک حاصل کیا۔ ہرشا کی ماں نے اخبار انڈین اکسپریس کو بتلایا کہ جب لوگوں کو پتہ چلتا کہ ان کا لڑکا ہرشا UPSC کا امتحان لکھ رہا ہے تو لوگ ان پر ہنستے تھے کہ یہ غریب لوگوں کو دیکھو UPSC کراتے ؟ بنسل کی ماں نے کہا کہ میں اپنے بھگوان کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے میرے بیٹے کو کامیابی دلوائی ۔ ایک غریب کرانہ مالک کا لڑکا آخر کیسے UPSC کا امتحان کامیاب کرلیا ۔ اس سوال کا جواب خود ہرشا بنسل نے انڈین اکسپریس کو بتلایا کہ UPSC کیلئے اس نے صرف Self Study کی۔ کوچنگ لینے کیلئے اس کے پاس پیسے نہیں تھے ، اس لئے جو نوٹس چاہئے تھے وہ online پڑھ لیتا تھا ۔ (بحوالہ انڈین اکسپریس 2 جون 2017 )

راجستھان کی 28 سالہ ام الخیر نے UPSC کے امتحان میں 420 واں رینک حاصل کیا ۔ اس مسلم لڑکی کی کامیابی پر اردو میڈیا میں بھی کافی کچھ لکھا گیا ۔ اس کے والد معمولی کاروبار کرتے ہیں اور اپنے تعلیمی اخراجات کیلئے اس لڑکی کو خود ٹیوشن کر کے رقم جمع کرنی پڑی ، جسمانی معذورین کے زمرے میں شامل یہ لڑکی JNU سے Ph.D کر رہی تھی ۔ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد والد کی دوسری شادی اور سوتیلی ماں سے شاکی یہ لڑکی اب تو والدین سے بھی رابطہ نہیں رکھتی ہے ، البتہ میڈیا کے پوچھنے پر اس نے بتلایا کہ وہ بہت جلد اپنے والد سے مفاہمت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ (بحوالہ روزنامہ انقلاب) یہ بات مجھے بڑی عجیب لگی۔
خیر بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہندوستانی مسلمان UPSC کے امتحان میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں اور اپنی کامیابی درج کروا رہے ہیں، اس برس 50 مسلم امیدواروں کی کامیابی خود ایک ریکارڈ ہے ۔ مسلم ادارے ، انجمنیں اور اردو اخبارات مسلمانوں کی اس کامیابی پر جشن منارہے ہیں لیکن مجھے تشویش ہے کہ دیگر امیدواروں کی طرح مسلمان امیدوار اپنی جڑوں سے جڑے نظر نہیں آرہے ہیں۔ مجھے یہ بات پریشان کردیتی ہے کہ جن مسلمانوں کے IAS بننے کی میں خوشی مناتا ہوں ، ان کے متعلق جلد ہی ایسی خبریں سامنے آنے لگتی ہیں جس سے میری خوشی کافور ہوجاتی ہے ۔

ام الخیر کی اپنے والدین سے دوری اور مذہب کے متعلق خاموشی کھٹکتی تو ہے مگر میں نے جب سال 2015 ء میں سکنڈر رینک لانے والے اطہر عامر شفیع کے متعلق پڑھا کہ وہ اپنے ہی بیاچ کے فرسٹ رینک ہولڈر ٹینا ڈابی سے شادی کرنے والے ہیں (بحوالہ News18.com ، 23 نومبر 2016 ) تو میری تشویش اور بڑھ جاتی ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ہندوستان کے صف اول کے سرکاری اہلکاروں کے طور پر مسلمان کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ بڑی بات ہے مگر جب یہ اعلیٰ مسلم عہدیدار اسلام کی عملی روشنی سے ہی دور رہیں تو یہ میرے لئے کیا ہر ذی شعور مسلمان کیلئے تکلیف دہ بات ہے جو نوجوان کامیابی کے بعد اپنے مذہب سے ہی بیزار ہوجائیں وہ کیا اپنی قوم کیلئے اثاثہ بن پائیں گے جو لوگ 50 مسلمانوں کے سیول سرویسز میں کامیابی کا جشن منارہے ہیں وہ لوگ بھی دعا کریں۔ یہ مسلمان دنیا ہی میں نہیں آخرت میں بھی سرخرو بنیں اور ان سے کوئی حرکت ایسی نہ سرزد ہو جو ملت کی رسوائی کا سامان بنے ۔ مسلمانوں کو UPSC کیلئے تیار کرنے والے سبھی ادارے ، افراد اور انجمنیں اس بات کا نوٹ لیں کہ جن مسلمانوں کو وہ تربیت فراہم کر رہے ہیں، ان کو مذہب اسلام کی بنیادی اور عام معلومات بھی ہوں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو کہنے اور سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔ بقول اقبال ۔
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
sarwari829@yahoo.com

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT