Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ’’خود پاکستانی ہی اپنے ملک اور اسلام کو بدنام کررہے ہیں‘‘

’’خود پاکستانی ہی اپنے ملک اور اسلام کو بدنام کررہے ہیں‘‘

صبر کے درس اور امن کی تلقین پر مبنی اسلامی تعلیمات فراموش، ملالہ کا ویڈیو پیغام

حیدرآباد ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو مبینہ اہانت اسلام اور گستاخی کے الزام پر جنونی ہجوم کے ہا تھوں زدوکوب میں ہلاک کئے جانے کے واقعہ پر رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے کہاکہ پاکستانی عوام ہی اپنے ملک اور اسلام  کا امیج مسخ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ خیبرپختونخواہ میں واقع خان عبدالولی خاں یونیورسٹی کے شعبہ جرنلزم میں زیرتعلیم ایک طالب علم مشعل خاں کو مذہبی انتہاء پسندوں کے ایک ہجوم نے جن میں خود اس یونیورسٹی کے طلبہ بھی شامل تھے، بے رحمانہ انداز میں مارپیٹ کے ذریعہ ہلاک کردیا تھا۔ حملہ آوروں کو شبہ تھا کہ مشعل خاں آن لائن پر گستاخانہ مواد پیش کررہا تھا اور فرقہ احمدیہ کے عقائد کو فروغ دے رہا تھا۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی تعلیمی جہدکار 19 سالہ ملالہ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’مشعل خاں کی موت کی مجھے آج اطلاع ملی۔ یہ واقعہ دہشت اور تشدد سے بھروپر ہے۔ میں ان (مشعل) کے والد سے بات ی ہوں۔ انہوں نے امن و صبر کا پیغام دیا۔ میں ان کے پیغام امن و صبر کو سلام کرتی ہوں‘‘۔ ملالہ نے کہا کہ ’’یہ محض مشعل خاں کا جنازہ نہیں تھا بلکہ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اسلامی تعلیمات کا بھی جنازہ اٹھ رہا ہے کیونکہ ہم ’’اسلامی تعلیمات کو فراموش کرچکے ہیں جو ہمیں امن و صبر کا درس دیتی ہیں‘‘۔ ملالہ نے کہا کہ ’’ہمیں اسلام سے خوف و نفرت کئے جانے اور ہمارے ملک کو بدنام کئے جانے کی شکایت رہتی ہے لیکن کوئی بھی اسلام یا پاکستان کو بدنام نہیں کررہا ہے۔ ہم خود پاکستان اور اسلام کے امیج کو مسخ و داغدار بنارہے ہیں۔ پاکستان کا امیج مسخ کرنے کے خود ہم ہی ذمہ دار ہیں‘‘۔ ملالہ کو 2014ء میں ہندوستانی جہدکار برائے حقوق اطفال کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبل انعام حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کو ایک محفوظ اور معمول کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے۔ ملالہ نے اپنے پیغام میں مزید کہاکہ ’’ہم اس انداز میں اگر ایک دوسرے کو ہلاک کرتے رہیں گے تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ چنانچہ ہر کسی کیلئے میرا پیغام ہیکہ برائے مہربانی آپ اپنے مذہب، تہذیب اور اقدار کو جانیں جو ہمیشہ ہمیں صبر کا درس دیتے ہیں اور امن کی تلقین کرتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT