Sunday , August 20 2017
Home / ادبی ڈائری / خورشید احمد جامیؔ اجمالی تعارف

خورشید احمد جامیؔ اجمالی تعارف

ڈاکٹر فاروق شکیلؔ

نام : خورشید احمد ، قلمی نام : خورشید احمد جامیؔ، پیدائش 1915 ء (پربھنی) ، وفات : 8 مارچ 1970 ء ، تعلیم : منشی فاضل پنجاب یونیورسٹی (لاہور)، اساتذہ : فصاحت جنگ جلیلؔ، مہدی حسن المؔ ، علی اختر، جوش ملیح آبادی، شعری مجموعے : ’’رخسار سحر‘‘ ، ’’برگ آوارہ‘‘ ، ’’یاد کی خوشبو‘‘۔
خورشید احمد جامیؔ نے حیدرآباد کے ادبی افق پر جدید شاعری کے ستاروں کو روشن کیا ہے ۔ جامیؔ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے حیدر آباد میں  جدیدیت کی بنیاد ڈالی اوراپنی انفرادیت کے چراغ جلاکر اردو کی تمام بستیوں کو نہ صرف متوجہ کیا بلکہ اپنی خوبصورت جدید شاعری کے ارتسامات بھی ثبت کردیئے ۔ خورشید احمد جامیؔ کی شاعری میں استعارات اور پیکر تراشی ہونے کے باوجود قابل فہم جدیدیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار زبانِ زد عوام و خاص ہیں۔ نئی لفظیات نئی تراکیب نے ان کی شاعری میں حسن بھردیا ہے ۔ جامیؔ خوش لباس ، خوش گفتار ، خوش اخلاق اور ملنسار بھی تھے۔ حلقۂ تلامذہ بھی وسیع تھا ۔ حیدرآباد کی ادبی تاریخ میں جدیدیت کے حوالے سے خورشید احمد جامیؔ کا نام سرفہرست ہے اور رہے گا۔
منتخب اشعار
سحر کا حُسن گلوں کا شباب دیتا ہوں
نئی  غزل کو نئی آب و تاب دیتا ہوں
دیارِ شعر میں جامیؔ قبول کر نہ سکا
مرا مذاق روایت کی حکمرانی کو
لے کے پھرتی ہیں آندھیاں جس کو
زندگی ہے وہ برگِ آوارہ
بے خواب دریچوں میں کسی رنگ محل کے
فانوس جلائے ہیں اُمیدوں نے غزل کے
یہ بھی درست ہے کہ تجھے میں بھلا چکا
یہ بھی غلط نہیں کہ مری زندگی ہے تو
کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی
دل کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہے کوئی
جاگتے غم بھی نہیں جھومتے سائے بھی نہیں
ساتھ اپنے بھی نہیں اور پرائے بھی نہیں
اک عمر ساتھ ساتھ مرے زندگی رہی
لیکن کسی بخیل کی دولت بنی رہی
چمکتے خواب ملتے ہیں مہکتے پیار ملتے ہیں
تمہارے شہر میں کتنے حسیں آزار ملتے ہیں
رات کے چیختے اندھیروں میں
میرے فن کا چراغ جلتا ہے
غزل
زمیں پہ چاند اُترتا دکھائی دیتا ہے
ترا خیال بھی تجھ سا دکھائی دیتا ہے
جو ساتھ لے کے چلا تھا ہزار ہنگامے
وہ شحص آج اکیلا دکھائی دیتا ہے
ہوا چلی تو اندھیروں کی آگ تیز ہوئی
ہر ایک خواب پگھلتا دکھائی دیتا ہے
بڑے عجیب  ہیں یہ درد و غم کے رشتے بھی
کہ جس کو دیکھئے اپنا دکھائی دیتا ہے
بدلتے جاتے ہیں الفاظ صورتیں اپنی
چلو تو یہ بھی تماشا دکھائی دیتا ہے
دیارِ شوق ہو یا دشتِ بیکراں جامیؔ
کہاں کہاں کوئی تنہا دکھائی دیتا ہے

TOPPOPULARRECENT