Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / خورشید قصوری کو سکیورٹی کی فراہمی ، حکومت پر شیوسینا کی تنقید

خورشید قصوری کو سکیورٹی کی فراہمی ، حکومت پر شیوسینا کی تنقید

ہندوستان کو قصاب سے کہیں زیادہ کلکرنی جیسے افراد سے خطرہ ، سامنا کا اداریہ
ممبئی ۔ 13 اکٹوبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سدھیندر کلکرنی کے چہرہ پر سیاہی پوتنے کے واقعہ پر مختلف گوشوں سے سخت تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر شیوسینا نے آج مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کلکرنی کو 26/11 دہشت گرد حملے سے مربوط کیا جس کے ایک مجرم اجمل قصاب کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا اور کہا کہ ہندوستان کو دہشت گردوں سے اس حد تک سنگین خطرہ نہیں ہے جتنا ان ( کلکرنی ) جیسے افراد سے ہے ۔ شیوسینا نے کہاکہ خواہ اس پر کتنی ہی تنقیدیں کی جائیں وہ پاکستان سے متعلق اپنا موقف تبدیل نہیں کریگی ۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریہ میں لکھا کہ ’’جیسے ہی سدھیندر کلکرنی کے چہرہ پر کالک پوتی گئی انھوں (کلکرنی ) نے اپنی تصویر سوشیل نٹ ورکنگ سائیٹس پر ڈال دی اور الزام عائد کیا کہ اس حملے کے پیچھے شیوسینا ہے ۔ ہم ان الزامات سے اتفاق کرتے ہیں۔ حب الوطن ہونے کے ناطے اپنے ملک کا تحفظ کرنا مہاراشٹرا کا کام ہے اور ہم اپنا کام کررہے ہیں‘‘ ۔ سامنا نے مزید لکھا کہ ’’ہمارے ملک کے اقتدار اعلیٰ کو اصل خطرہ انتہاپسندوں اور دہشت گردوں سے نہیں بلکہ کلکرنی جیسے افراد سے ہے۔ ان ( کلکرنی) جیسے افراد ہمارے ملک کا گلہ کاٹنے کے درپے ہیں۔ جب ان ( کلکرنی) جیسے افراد یہاں موجود ہیں تو دہشت گرد سرگرمیوں کیلئے پاکستان کو یہاں اجمل قصاب جیسے دہشت گرد بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے ‘‘ ۔

سامنا نے اپنے اداریہ میں مزید کہا کہ ’’کیا ہی بہتر ہوتا کہ قصوری کو فراہم کردہ سکیوٹی اگر ممبئی کے شہریوں کے سکیورٹی کے لئے استعمال کی جاتی ۔ انھوں ( حکومت ) نے انھیں (قصوری) بچانے کیلئے فوج طلب کرنا باقی رکھا تھا ۔ قصوری کون ہے ؟ جس نے یہاں الگ لب و لہجہ استعمال کیا ۔ لیکن جب ان ( قصوری ) کی حکومت تھی وہی تمام انتہاپسندوں کو ہندوستان کے خلاف متحد کرنے کے محرک تھے‘‘ ۔ سامنا نے لکھا کہ ’’چند افراد چاہتے ہیں کہ ہندوستانی خود آپس میں لڑتے جھگڑتے رہیں اور کلکرنی جیسے لوگ ان افراد کے ایجنڈہ کی تکمیل کررہے ہیں۔ یہ وہی کلکرنی ہے جس نے بیرسٹر جناح کے بارے میں کہا تھا اور بی جے پی کی قبر کھودی تھی ۔ 2008 ء کے دوران تحریک اعتماد کے موقع پر انھوں نے نوٹ برائے ووٹ اسکام کے ذریعہ بی جے پی کا سر شرم سے جھکادیا تھا ۔ کلکرنی کو جیل جانا چاہئے تھا ۔ جن کی وجہ سے اڈوانی سنگین اُلجھن و پریشانی میں مبتلا ہوگئے تھے ‘‘۔ شیوسینا ترجمان سنجے راوت نے چیف منسٹر فڈنویس کی مذمت کی جنھوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ کلکرنی کے چہرہ پر کالک پوتنے سے مہاراشٹرا بدنام ہوا ہے ۔ راوت نے کہاکہ حقیقت تو یہ ہے کہ قصوری کو فڈنویس کی تائید سے مہاراشٹرا کی بدنامی ہوئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT