Wednesday , June 28 2017
Home / مذہبی صفحہ / خوشگوارازدواجی زندگی کے پرازحکمت راز

خوشگوارازدواجی زندگی کے پرازحکمت راز

نکاح ایک پاکیزہ بندھن ہے جودواجنبی عورت ومردکے درمیان شرعی احکام کی بنیادو ں پر قائم ہوتاہے ،دنیامیں سب سے پہلے وجودمیں آنے والا رشتہ زوجین بیوی وشوہر کاہے،اورسب سے آخرمیں یہی رشتہ انشاء اللہ قائم ودائم رہنے والاہے۔اللہ سبحانہ ایمان واعمال صالحہ قبول فرماکر اپنے بے پناہ فضل وکرم سے جنت کا فیصلہ فرمائیں گے تو وہاں بیوی وشوہرہی کا رشتہ باقی رہیگا۔اس دنیا میں نکاح کی بنیادپر قائم ہونے والے سارے چھوٹے بڑے رشتے وہاں(آخرت میں)زوجین کی صورت ہی میں رہیں گے۔نکاح کا رشتہ ایک ایسا عظیم رشتہ ہے جس سے خاندان تشکیل پاتاہے اورسارے رشتے جیسے ماں ،باپ ،بھائی ،بہن،دادا،دادی،نانا، نانی،چچا تایا ،خالہ ماموںوغیرہ اسی سے وجودمیں آتے ہیں ،اس لئے اسلام میں اس رشتہ کی بڑی اہمیت ہے،اس رشتہ کو تادم زیست نبھانے کی کوشش اسلام میں عین مقصودہے،اسلئے ہردو(بیوی شوہر)کواہم ہدایات دی گئی ہیں، انکا پاس ولحاظ رشتہ کے قیام ودوام میں ممدومعاون ثابت ہوسکتاہے۔زوجین کے ایک دوسرے پر جوحقوق شریعت نے عائد کئے ہیں اسکا مفصل ذکرقرآن پا ک کی آیات واحادیث میں ملتاہے،لیکن مجمل ذکرقرآن پاک میں اللہ سبحانہ نے اس طرح فرمایا ہے کہ اس اجمال میں تفصیل کی ایک عظیم دنیا سموئی ہوئی ہے۔ ارشاد باری ہے ’’ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف وللرجال علیہن درجۃ واللّٰہ عزیزحکیم‘‘(البقر:۲۲۸)’’اوران عورتوں کے بھی مردوں پر حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان(عورتوں) پر ہیں عرف اوردستورکے مطابق، البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اوراللہ سبحانہ غالب اورحکمت والاہے‘‘یعنی اللہ سبحانہ وتعالی نے ان دونوں کے حقوق میں بڑی حد تک مماثل ومساوات رکھی ہے اسلئے وہ حقوق تقریبا ایک جیسے ہیں خوشدلی کے ساتھ جسکی ادائیگی کے ہر دو پابندہیں،لیکن اللہ سبحانہ وتعالی نے مردکی فطری ساخت کی وجہ اسکو ایک درجہ فضیلت بخشی ہے گویا اللہ سبحانہ نے ازدواجی زندگی کے گوشے میں انتظامی مصالح کا لحاظ رکھتے ہوئے مردکو قیادت کا منصب بخشا ہے ،اس فضیلت کا حق یہ ہے کہ مردعورتوں کے حقوق کی رعایت کا زیادہ لحاظ رکھیں،اپنا حق اداکرنے میں نہ صرف کشادہ دل رہیں بلکہ انکے حق سے زیادہ حسن سلوک کو پوری بشاشت کے ساتھ اداکرنے کی کوشش کریں، اوربیویوں پر جو حقوق فرض ہیں انکے اداکرنے میں ان سے کمی یا کوتاہی رہ جاتی ہوتو اس سے صرف نظرکرلیں۔اللہ سبحانہ کے اس ارشاد پاک سے اسکی ترغیب ملتی ہے’’ تم اچھے بھلے طریقہ سے زندگی گزارو اگر تم انہیں ناپسندکرو(یعنی کبھی ایسا ہوسکتا ہے)لیکن بہت ممکن ہے کسی چیزکو تم براسمجھواوراللہ سبحانہ اس میں بہت زیادہ بھلائی وخیرکا معاملہ فرمادے‘‘(النساء:۱۹) اللہ سبحانہ عورت ومرددونوں کے خالق ہیں لیکن صنفی اعتبارسے عورت میں جوفطری نزاکت رکھی گئی ہے اس آیت پاک میں حق سبحانہ نے مردکو اسکی رعایت رکھنے کی تلقین کی ہے، حسن معاشرت کی اس جیسی تعلیم اسلام کے سوا کسی اورمذہب میں نہیں ملتی۔ نبی رحمت سیدنامحمدرسول اللہ ﷺنباض فطرت ہیں آپ ﷺ نے بیویوں کے حقوق اداکرنے اورانکے ساتھ حسن سلوک کا خاص لحاظ رکھنے کی کئی ایک مواقع پر بڑی دلنوازہدایات دی ہیں ۔ اس خصوص میںآپ ﷺ کا یہ ایک ارشاد پاک کافی ہے اگراسکو سرمہ بصیرت بنالیا جائے توازدواج زندگی بلاوجہ ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہ سکتی ہے ۔’’لا یفرک مومن مومنۃ ان سخط منہا خلقا رضی منہا آخر‘‘(صحیح مسلم کتاب الرضاع)مومن مرد یعنی شوہر مومنہ عورت یعنی بیوی سے اپنے دل میں کوئی بغض ونفرت نہ رکھے اگرکوئی اسکی ایک آدھ خصلت نا گوارخاطرہو تو اسکی کوئی دوسری عادت وخصلت باعث فرحت وانبساط ہوگی‘‘ ۔الغرض بیوی میں حیاء وشرم کی اعلی قدرپائی جاتی ہو،نشوز وعصیان اسکی عادت ثانیہ نہ ہوتو پھر ہرطرح کی کوتاہیاں قابل عفوہیں،اس رازکو پالیا جائے توازدواجی زندگی کا گلستان ہمیشہ مہکتا رہے گا۔ایسا ممکن نہیں ہے کہ زندگی کے نشیب وفرازمیں زوجین کے درمیان کوئی اختلاف رائے نہ ہو لیکن ایسا موقع شوہر کی قوامیت کے امتحان کا ہ۔ازدواجی زندگی کی کامیابی کا جو فطری راز ہے اس کو پا لینے سے ایک شوہر اس امتحان میں کامیاب ہوسکتا ہے،

جب کبھی کمزوراوربرترفریق کے درمیان رائے کا اختلاف ہو تو دانشمندانہ نقطہ ء نظر یہ ہے کہ کمزورفریق کو دلی جذبات کے اظہار کا پورا موقع دیا جائے،اسکے دلائل کو سنجیدگی سے سنا جائے اورہر پہلوسے اسکو اہمیت دی جائے، اسکے نقطہء نظر کو ہمددردانہ انداز میں سننے اورسمجھنے کی کوشش کی جائے ،جس حد تک اسکی رائے سے اتفاق کا پہلوابھررہا ہو اسکو نمایاں کیا جائے اوربڑی حد تک اتفاق کی راہ نکال لی جائے،اورجس بارے میں اختلاف ہواس کو رفع کرنے کی برموقع گنجائش محسوس ہو تو اسکو مثبت ڈھنگ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے ورنہ اختلافی پہلوکوکسی اورمناسب موقع پر سمجھانے کیلئے اٹھارکھا جائے،اپنے نقطہء نظر کو اس پر مسلط کرنے کی ہرگزکوشش نہ کی جائے اوراسکے نقطہ ء نظرکو توجہ سے سننے کے ساتھ منا سب ہوتو اسکو اہمیت دی جائے ۔اپنے والدین اوراپنے خاندان کے ساتھ جس برتاؤکی تمنا وتوقع بیوی سے رکھی جاتی ہے بیوی کے والدین اوراسکے افراد خاندان کے ساتھ اپنے رویہ وبرتاؤمیں بیوی کی توقعات سے کہیں زیادہ اپنے آپ کو عملا ثابت کیا جائے ،یہ ایسی کسوٹی ہے جس پر کھرے ثابت ہونے والے شوہر حقیقی معنی میں’’ قوام‘‘ کہے جا سکتے ہیں۔نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کے ارشادگرامی ’’خیرکم خیرکم لاہلہ وانا خیرکم لاہلی‘‘تم میں سب سے اچھے وہ ہیں جو اپنے اہل بیوی بچوں کے ساتھ اچھے ہیں اورمیں تم میں اپنی بیویوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوںاورفرمایا ’’خیارکم خیارکم لنسائہم‘‘تم میں اچھے وہ ہیں جواپنی بیویوں سے اچھے ہیں،ان ارشادات کی روح کو سمجھا جائے تومعاشرہ کی تصویرہی کچھ اورہوگی۔الغرض اسلامی تعلیمات کی روح یہ ہے کہ رفیق زندگی کے جذبات واحساسات کو حتی المقدورملحوظ رکھے جانے کی کوشش کی جائے ،لیکن تعلیم وتربیت کے فقدان کی وجہ اکثر شوہر ان حقائق سے ناآشناہیں، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سماجی زندگی میںظاہری رکھ رکھاؤسے عالی ظرف ، انسان دوست ،ملنسار،خوش طبع،خوش اخلاق خندہ رو،مہذب وشائستہ دکھائی دینے والے کچھ شوہر ازدواجی زندگی میںخودسر،پیچیدہ مزاج، تندخو،تلخ کلام،غیض وغضب کے پیکر،فحش گو ثابت ہورہے ہیں۔ کیا کیا جائے ظاہری چولہ تو بڑاخوبصورت ہے لیکن اسکا اندرون اسکے بالکل برعکس ہے، گھریلوزندگی سماجی زندگی سے یکسرمختلف ہے، اکثر تعلیم یافتہ شریف خاندان لڑکی والے اس تجربہ سے گزررہے ہیں ۔ اس تحریرمیں احقرنے اپنے جن جذبات واحساسات کا اظہارکیا ہے وہ کتاب وسنت اوررسول رحمت سیدنا محمدرسول اللہﷺ کی مبارک وپاکیزہ ازدواجی زندگی کے پرنورگوشوں کا خلاصہ ہے ۔اس لئے اس کو یکطرفہ بیویوں کی تائیدوحمایت نہ سمجھا جائے گوکہ اسکے ذریعہ سماج کے ایک سلگتے موضوع کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ،تاہم اسکا دوسرارخ بھی کوئی بہت زیادہ قابل تحسین نہیں ہے ،اسلامی نہج سے تعلیم وتربیت سے محروم اکثرلڑکیاں اورانکے ناعاقبت اندیش والدین بھی ازدواجی زندگی کی ناکامی کے ذمہ دارہیںاسلئے بیویو ں کا بھی فرض ہے کہ وہ شوہروں کے منصب قوامیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے فطری جذبات واحساسات کی رعایت رکھیںاورانکے ساتھ اپنے رویہ اوربرتاؤ میں اسلامی ہدایات کو ملحوظ رکھیں۔اس خصوص میں نبی رحمت سیدعالم ﷺ کا یہ فرمان ذیشان کافی ہے جو اس واقعہ کے ضمن میں آپ ﷺ نے ارشادفرمایا ۔واقعہ یہ ہے کہ مقام ’’حیرہ‘‘سے حضرات صحابہ کرام   رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت واپس لوٹی اورنبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ خدمت اقدس میں حاضرہوکر یوں معروضہ کی کہ مقام حیرہ کی رعایہ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتی ہے یا رسول اللہ ! آپ اسکے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے اس لئے اسکی اجازت مرحمت فرمائیں ۔فرمایا: ’’ اگرمیری امت کیلئے یہ سجدہ جائزہوتا تو میں بیویوں کو حکم کرتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں‘‘آپ ﷺ نے اس موقع سے جو ارشاد فرمایا اس میں بڑا بصیرت آمیز پیغام ہے ،آپ ﷺ چاہتے تو یہ فرمادیتے کہ پچھلی امتوں کواس سجدہ کی اجازت تھی لیکن یہ سجدہ میری امت میں جائزنہیں ۔بس اتنا جواب تو بالکل کافی تھا لیکن آپ ﷺ نے مردوں کے مقام اورانکی مرتبت اورانکے منصب قوامیت کی اہمیت جتا نے اوریہ بات قیامت تک آنے والی عورتوں کے دل نشین کرنے کیلئے پر ازحکمت جواب مرحمت فرمایا۔ اس واقعہ میں اجازت جومانگی جارہی تھی وہ سجدئہ تعظیم کی تھی جوکہ پچھلی امتوں میں رواتھا آپ ﷺ نے اسکی بھی اجازت نہیں دی،اب رہا سجدئہ عبادت وہ توبالاتفاق شرک ہے ،سابقہ شریعتوں میں بھی اسکی اجازت نہیں تھی۔الغرض ملت کی خواتین نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کے پرازحکمت ارشادپاک کی روح کو پالیں توان کیلئے شوہرکے مقام ومرتبہ کو سمجھ لینا اوراسکی قدرومنزلت جو اسلام نے بتائی ہے اسکا لحاظ رکھنا آسان ہوجائیگا۔سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکا ایک اوراشادپاک سرمہ بصیرت بنالئے جانے کے قابل ہے’’ایما امرأۃ ماتت وزوجہا عنہا راض دخلت الجنۃ‘‘ جس کسی عورت کا انتقال ہواوراسکا شوہر اس سے راضی رہے تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔بعض خواتین اورانکے سرپرستوں کی طرف سے ازدواجی تنازعات گھرکی چہاردیواری سے باہر نکل کر پولیس تھانوں اورمہیلا منڈلوں میں پہونچ رہے ہیں پھروہ ڈوری کیسس میں تبدیل ہورہے ہیں اس طرح کے ناخوشگوارواقعات جو مسلم سماج کی تصویر پیش کررہے ہیں وہ بڑے کربنا ک ہیں،دشمنان اسلام کو اسکی وجہ استحصال کا موقع مل رہا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT