Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / خوش فہمیاں اچھی نہیں لگتی

خوش فہمیاں اچھی نہیں لگتی

محمد مصطفی علی سروری
گرما کے اس موسم میں ہم درجہ حرارت کو تو کنٹرول نہیں کرسکتے ہیں، لیکن ہم ضرور بار بار موسم کی خبر اور درجہ حرارت کتنا ہے معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپریل کی 17 تاریخ تھی اور پیر کا دن تھا ۔ صبح ہی اخبارات میں ہم نے یہ پڑھ لیا تھا کہ گرمی کی لہر برقرار رہے گی ، اس بات کو ذہن میں رکھ کر جب ہم نے درجہ حرارت کیا ہے معلوم کرنے انٹرنیٹ دیکھا تو وہاں موسم کی خبر اور تازہ ترین درجہ حرارت تو معلوم ہی ہوا مگر ایک ایسی خبر کے بارے میں بھی پتہ چلا جس میں اذان کا ذکر تھا ۔ ہماری نظریں فوری طور پر اس خبر کی تفصیلات تلاش کرنے لگی جس سے پتہ چلا کہ بالی ووڈ کا ایک گانے والا سونو نگم ہے جس نے اذان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں مسلمان نہیں ہوں لیکن مجھے لاوڈ اسپیکر پر ا ذان کے سبب جاگ جانا پڑتا ہے ‘‘۔ اس نے مزید لکھا کہ لاؤڈ اسپیکرس پر اذان ایک طرح کی غنڈہ گردی ہی ہے ۔ سونو نگم کے اس بیان پر جو اس نے ٹوئیٹر پر دیا ہے کافی گرما گرم بحث شرع ہوگئی ۔ صرف مسلمان ہی نہیں بہت سارے غیر مسلم حضرات نے بھی اذان پر تنقید کرنے کیلئے سونو نگم کو برا کہا ۔ سونو نگم پر جب ہندو حضرات نے بھی تنقید کی تو بہت سارے مسلمانوں نے بڑی خوشی کے ساتھ ان کے نقطہ نظر کی تائید کی اور کہا کہ یہ ہے اصل ہندوستان ۔ کسی نے سونو نگم کے بیان کو پاگل کی بڑ کہا تو کسی نے کہا کہ سونو نگم اپنی بیروزگاری سے پریشان ہیں اور شہرت حاصل کرنے کیلئے اس طرح کے متنازعہ بیانات جاری کر رہا ہے۔ سونو نگم نے کیا کہا یہ تو سب جان گئے لیکن جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ سونو نگم نے کب کہا تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سونو نگم نے اپنا یہ متنازعہ بیان 17 اپریل 2017 ء کو صبح 5 بجکر 25 منٹ پر دیا یعنی واقعی نماز فجر کی اذان اور نماز کا وقت تھا ۔ سونو نے اس بات کا خود اعتراف بھی کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہے  اس لئے اذان اس کو غنڈہ گردی لگتی ہے ۔ سونو نگم مسلمان نہیں ہے اور چونکہ اس نے اذان پر اعتراض کیا ہے اس لئے اس کو خوب لعن طعن کا نشانہ بنایا جائے ۔ کیا یہی مسلمان کا فرض ہے ۔ بڑے ہی ادب و احترام کے ساتھ اور دین کے ایک ادنیٰ سے طالب علم ہونے کی حیثیت سے میرا یہ سوال ہے کہ سونو نگم کو ضرور گالی دیجئے برا بھلا کہئے مگر اپنے اطراف و اکناف میں اگر کوئی چھوٹے بچے ہیں یا چھو ٹے بچوں کو جانے دیجئے ۔ کوئی مسلم نوجوان مل جائے تو اس کو پیار سے اپنے پاس بلاکر ذرا یہ دریافت کیجئے کہ ہم مسلمانوںکی مسجدوں سے جو اذانیں بلند ہوتی ہیں اس کے معنیٰ کیا ہیں۔ کتنے مسلم نوجوان ایسے ہیں جو اذ ان کے معنی و مفہوم کو سمجھتے ہیں اور دوسروںکو بتلاسکتے ہیں۔ خود مسلمانوں کی اکثریت اذان کے معنی نہیں بتلاسکتی، یہ تلخ حقیقت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے ہماری مسجدوں سے موذن صاحبان تو ہر روز دن میں پانچ مرتبہ اذان دیتے ہیں ، کیا وہ سارے مسلمان جن کے کانوں میں اذان کی آواز گونجتی ہے ، وہ مسجد کا رخ کرتے ہیں ؟ اور جو پابند نمازی ہے وہ وقت پر مسجد پہونچ ہی جاتے ہیں اور موذن صاحب کو ذرا سی تاخیر ہوجائے تو یاد بھی دلا دیتے کہ صاحب ا ذان کا وقت ہوگیا ہے ۔
نعوذ باللہ میں اذان کی ہرگز مخالفت نہیں کرسکتا ہوں ۔ گنہگار ہی سہی مسلمان ہوں اور اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ میرے دین و دنیا کی کامیابی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی میں ہی ہے ۔ اب جب ملک میں دائیں بازو کے شدت پسند عناصر برسر اقتدار ہیں تو ہم مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ ہم ہر قدم بڑی احتیاط اور دانش مندی کے ساتھ اٹھائیں۔ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو نادانستہ طور پر فرقہ پرست عناصر کے ہاتھ مضبوط کرے۔ آیئے اب ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں اور درج ذیل سوالات کے جوابات ڈھونڈیں؟ کیا اذان کے متعلق اس طرح کا نقطہ نظر سونو نگم سے پہلے کسی نے دیا تھا ؟ کیا سونو نگم ایسا پہلا فرد ہے جس نے لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان پر اعتراض کیا ۔

قارئین اکرام جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں۔ گاؤ کشی کے جس موضوع پر آج بی جے پی اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ 1969 ء میں  ملک کی 15 ریاستوں اور قومی زیر انتظام علاقوں میں کانگریس نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگادی تھی اور آج ہندوستان کے 99.38 فیصدی لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے (بحوالہ اکنامک ٹائمز 14 اپریل 2017 )
ایسے ہی اذان لاوڈ اسپیکر پر دینے کے متعلق پابندی کی بات کریں تو ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ 21 نومبر 1996 ء کو کولکتہ ہائیکورٹ نے عبادت خانوں میں  (بلا کسی مذہبی امتیاز کے) لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی اور اس کا اطلاق مساجد سے اذان دینے پر بھی تھا ۔ 25 ڈسمبر 1996 ء میں میلاد النبیؐ کے پروگرام میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر مغربی بنگال پولیوشن کنٹرول بورڈ نے ڈم ڈم ایرپورٹ کے قریب واقع مسجد کے خلاف ہائی کورٹ میں شکایت درج کروائی جس کے جواب میں کورٹ نے 2500 روپئے کا جرمانہ عائد کیا تھا ۔ صرف مساجد ہی نہیں کولکتہ کے اخبارات کے مطابق درگا پوجا کے تقریباً دو درجن پنڈالوں کو بھی مقررہ حد سے بڑی آواز کے ساتھ لاوڈ اسپیکر استعمال کرنے پر فی کس ایک ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا ۔
3 اگست 2014 ء کو اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ممبئی سے ایک خبر دی تھی کہ نوی ممبئی کے رہنے والے سنتوش نے بمبئی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی کہ ان کے علاقے کی مساجد میں لاوڈ اسپیکرس کا غیر قانونی طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ ہائی کورٹ نے اس عرضی پر پولیس کو حکم دیا کہ وہ علاقے کی مساجد سے غیر قانونی لاوڈ اسپیکرس کو برخواست کریں۔ ممبئی میں ہی نہیں پوری ریاست میں Noise Pollution Rules 2000 کے تحت لاوڈ اسپیکرس کے استعمال کے قواعد وضع کردیئے گئے ہیں ۔
اس سارے پس منظر سے واقف کروانے کا مقصد یہ ہے کہ سونو نگم ہی نہیں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان دینے کو پسند نہیں کرتے ۔ صرف لوگوں کی پسند ہی نہیں بلکہ مختلف ریاستوں اور مختلف عدالتوں نے واضح فیصلے صادر کئے ہیں کہ رات دس بجے تا صبح 6 بجے تک لاوڈ اسپیکرس کا استعمال غیر قانونی ہے اور یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ یہ قوانین جیسے مغربی بنگال میں جس وقت جیوتی باسو چیف منسٹر تھے اس وقت اور مہاراشٹرا میں جس وقت ولاس راؤ دیشمکھ وزیر اعلیٰ تھے اس وقت بنائے گئے تھے ۔ قوانین چاہے جیوتی باسو کے دور کے ہوں یا ولاس راؤ دیشمکھ کے زمانے کے اب ان کی حیثیت قانون کی سی ہوتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اگر کسی قانون پر اعتراض ہو تو وہ ضرور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاسکتے ہیں۔ کانگریس نے یا بائیں بازو کی جماعتوں نے قانون بنایا اور اس پر عمل نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بی جے پی ان پر عمل نہیں کرے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھیں۔ کانگریس ہو یا بی جے پی ان سے نفرت کرنا مسائل کا حل نہیں ہے ۔ سونو نگم پر غصہ کا اظہار مسئلہ کا حل نہیں بلکہ ہمیں ان عوامل کا سدباب کرنا ہوگا اور ایسے ہر کام سے پرہیز کرنا ہوگا جس سے دیگر برادران وطن میں  غلط فہمیاں پھیلتی ہوں یا ان کو تکلیف پہونچتی ہو۔
دین اسلام میں تو یہ تعلیمات ہیں کہ راستہ کا کانٹا ہٹانے ضرورت مند کی مدد کرنے پر ثواب کا بھروسہ دلایا گیا ہے ۔ کیا کہیں پر یہ شرط لگائی گئی صرف اس راستے سے کانٹا ہٹانا چاہئے ۔ جہاں سے مسلمان گزرتے ہوں ، کیا پانی پلاتے، صرف مسلمان کو پانی پلانے کا سبق دیا گیا ہے یا پھر صرف مسلمان ضرورت مند کو مدد کرنے پر ہی ثواب کی بات کی گئی ۔ اگر نہیں تو ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہمارے کسی عمل سے ہمارے پڑوسی کو تکلیف ہوتی ہے تو ہمیںاپنے عمل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے ۔  وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا خود احتساب کریں۔
میں نے ایسے مسلمانوں کو بھی دیکھا ہے جو مسجد میں لاوڈ اسپیکر کے غیر ضروری استعمال سے پریشان ہیں۔ مسجد کی چار صفیں بھی پر نہیں رہتی لیکن مسجد سے چالیس گھر دور تک لاوڈ اسپیکر پر نماز کی آواز سنانا ضرورت سمجھا  جاتا ہے ۔ رمضان کا مہینے اب زیادہ دور نہیں لیکن ہمارے لئے وقت ہے کہ ہم مساجد سے لاوڈ اسپیکر اور سائرنوں کے استعمال کے متعلق سوچ لیں تاکہ ہم خود فیصلہ کرسکیں اگر یہ کام ہم خود نہ کریں تو پھر منتظر رہیں آج نہیں تو کل ہماری خوش فہمیاں ختم ہی ہوں گی۔ یا الٰہی تو ہی رحم فرما۔
چراغ شب کو جیسے آندھیاں اچھی نہیں لگتی
کچھ ایسے ہی ہمیں خوش فہمیاں اچھی نہیں لگتی
[email protected]

TOPPOPULARRECENT