Sunday , October 22 2017
Home / پاکستان / خیبرپختونخواہ میں ہندو مندر کی دوبارہ تعمیر پر پاکستان سپریم کورٹ کا عدم اطمینان

خیبرپختونخواہ میں ہندو مندر کی دوبارہ تعمیر پر پاکستان سپریم کورٹ کا عدم اطمینان

اسلام آباد ۔ 26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی سپریم کورٹ نے صوبہ خیبرپختونخواہ میں مندر کی تعمیر و بحالی کے کام پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو حکم دیا ہے کہ 1997ء میں جنونیوں کی طرف سے تباہ شدہ اس مندر کی دوبارہ تعیر کیلئے ایک نامور آرکیٹکٹ کی خدمات سے استفادہ کیا جائے۔ چیف جسٹس جواد خواجہ کی قیادت میں تین رکنی بنچ نے ضلع کارک کے موضع تیری میں برم ہمس جی مہاراج سمادھی کی دوبارہ تعمیر کیلئے خیبرپختونخواہ حکام کو ایک منصوبہ تیار کرنے کا حکم بھی دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس حکم کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور ہر قیمت پر عمل آوری کی جائے۔ اس مندر کو جزوی طور پر بحال کیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ ہندو مندر اس مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں 1919 میں برم ہمس جی مہاراج فوت ہوگئے اور وہیں ان کی سمادھی تعمیر کی گئی تھی۔ ہندو بھکت اس مندر میں پوجا کیا کرتے تھے لیکن مقامی مسلم افراد نے اس مندر کو تباہ کردیا تھا اور بااثر مقامی مفتی افتخار الدین نے اراضی پر قبضہ کرلیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT