Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / مذہب ِاہلِ سنت، تہتر مذہبوں میں ناجی ہے

مذہب ِاہلِ سنت، تہتر مذہبوں میں ناجی ہے

مرسل : ابوزہیر نظامی

حضرت حافظ محمدانواراﷲفاروقی رحمۃ اﷲ بانی
جامعہ نظامیہ حقیقۃالفقہ، حصہ اول میں تحریر فرماتے ہیںکہ:اسلام میں قدیم سے جو مذہب قرناً بعد قرن چلا آ رہا ہے وہ مذہب اہل سنت و جماعت ہے اور اُس کے سوا جتنے مذاہب ہیں ،سب حادث ہیں جن کا موجد ایک ہی ایک شخص ہوا کیا ، مثلاً مذہب قدریہ کا موجد معبد جہنی ہے جو صحابہ کے زمانہ میں تھا اور جس صحابی نے اُس کی یہ بدعت سنی ،اُس سے ابرائے ذمہ کر کے اُس کی مخالفت کا اعلان کیا ،اِسی طرح مذہب اعتزال کا موجد واصل ابن عطا ہے جو تابعین کے زمانہ میں تھا ، اسی طرح کل مذاہب باطلہ کا حال ہے، جو مذہب اہل سنت و جماعت سے علحدہ ہو کر قرآن میں ایسی بدنما تاویلیں کرتے جو صراحۃً تحریف ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق بحسب ضرورت حدیثیں بنا لیتے اور جو حدیثیں اپنے مقصود کے مخالف تھے، اُن کو موضوع قرار دیتے یا تاویلیں کرتے ،کیونکہ نئی بات کا موجد جو تمام امت موجودہ سے علحدگی اختیار کرتا ہے ،جب تک ایسی کارسازیاں نہ کرے ، کوئی شخص اُس کا ہم خیال نہیں بن سکتا، بخلاف اِس کے اہل سنت و جماعت کو جو ہر ایک موجد کے زمانہ میں موجود تھے،ایسی کارروائیوں کی ضرورت ہی نہ تھی ،اس سے ظاہر ہے کہ صرف اہل سنت و جماعت کا مذہب ایسا ہے جس میں کسی کے ایجاد و اختراع کو دخل نہیں ، اور یہ مسلم ہے کہ ہمارا آسمانی دین کسی کے ایجاداور اختراع کو جائز نہیں رکھتا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرما دیا کہ اس دین میں تہتر (۷۳) مذہب بنائے جائیں گے ، مگر وہ کل مذاہب ناری ہیں اور ناجی ایک ہی مذہب ہے ،کسی نے پوچھا وہ کونسا مذہب ہے ؟ فرمایا :جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں  ’’کما فی المشکوٰۃ عن عبد اللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و تفترق امتی علی ثلاثۃ و سبعین ملۃ کلہم فی النار الا ملۃ واحدۃ قالوا من ھی یا رسول قال ما انا علیہ و اصحابی رواہ الترمذی و فی معناہ ما رواہ احمد و ابوداود‘‘ اسی وجہ سے تابعین نے احادیث اور اقوال صحابہ کو محفوظ کرلیا تاکہ وہ ناجی مذہب ہاتھ سے جاتا نہ رہے اور اُن کے بعد کے طبقات میں بھی اُن کی پوری پوری حفاظت ہوتی گئی ۔ ہر چند اہل مذاہب باطلہ نے بہت کچھ فکریں کیں کہ اپنے خیالات باطلہ کو دینی مسائل اور اعتقادات میں مخلوط کر دیں، چنانچہ طلاقت لسانی سے کام لیا، بعضے سلاطین کو اپنے ہم خیال بنا کر مسلمانوں پر دباؤ ڈالا ، جعلسازیاں کیں ،مگر بفضلہ تعالیٰ اُن کی کچھ چل نہ سکی اور اُن کے تراشیدہ خیالات دین میں ایسے ممتاز رہے جیسے دودھ میں مکھی، جن کو مسلمانوں نے نکال کر پھینک دیا اور بفضلہ تعالیٰ وہی خالص دین ہم تک برابر پہنچ گیا ۔ نحمد اﷲ علی ذلک ۔
(حقیقۃ الفقہ ، حصہ اول)

TOPPOPULARRECENT