Friday , May 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / خیرامت کا منصب جلیلہ اوراسکی ذمہ داری

خیرامت کا منصب جلیلہ اوراسکی ذمہ داری

سیدنامحمدرسول اللہ ﷺ خاتم النبیین امام الانبیاء والمرسلین ہیں،اللہ سبحانہ نے محمدرسول اللہ َﷺکے نسبت سے اس امت کو خیرامت بنایا ہے،یعنی یہ امت ساری امتوں سے افضل واعلی ہے۔اللہ سبحانہ نے اپنے محبوب بندوں انبیاء ومرسلین علیہم السلام سے اس دنیا میں پیغام توحیداور تقاضاء توحیدکی اشاعت کا کام لیا ہے ،سلسلہ نبوت ختم ہوجانے کے بعد اس امت کو خیرالام کا منصب عطافرماکر اس اہم کام کی ذمہ داری اس کے نازک کاندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ملت اسلامیہ کے افرادکا فرض ہے کہ وہ اپنے اوراپنے خاندان کیلئے زندہ رہنے کی روش کو ترک کرکے اپنے اوراپنوں کے ساتھ دوسروں کیلئے جینے کا ہنرسیکھیں،منصب جلیلہ کے اس اہم ترین مقصدکی طرف قرآن نے خود’’اخرجت للناس‘‘فرماکر رہبری کی ہے ۔اب یہ امت جہاں ہووہاں توحیدکا پرچم لہرائے، ہدایت کے نورکا خورشید خاورخیرامت کی کوششوں سے ایسے جگمگائے کہ کفروشرک ،ظلم وبربریت کے گھٹاٹوپ اندھیارے ختم ہوجائیں۔امت اجابت (ملت اسلامیہ) کی اصلاح،اسکے غیردینی مزاج کی تربیت اورمسلم سماج میں فروغ پاگئے غیراسلامی رواجات کی بیخ کنی کے ساتھ امت دعوت تک اسلام کا فطری پیغام دعوت پہونچانا اس خیرامت کی ذمہ داری ہے۔’’تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکروتومنون باللہ ‘‘کامربیانہ اندازخطاب ،حیات افزا ذمہ دارانہ احساس تازہ کررہا ہے۔ایمان باللہ کا حیات آفریں جام شیریں نوش کرلینے کے بعد’’ذاق طعم الایمان من رضی باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمدصلی اللہ علیہ وسلم نبیا ورسولا‘‘ یعنی اسکو ایمان کی حلاوت نصیب ہوگئی جو اللہ کو اپنا رب ،اسلام کو اپنا دین اورمحمدﷺ کو اپنا نبی ورسول مان کر جی جان سے راضی ہوجائے کی حقیقت منکشف ہوتی ہے،اورجس کو یہ نعمت نصیب ہوجائے وہ اس نعمت کے پانے پر خودمطمئن ومسروررہنے پر اکتفاء نہیں کرسکتا بلکہ جب تک اس نعمت سے دوسرے سینوں کو شادکام نہ کردے چین وسکون سے نہیں رہ سکتا۔انبیاء کرام ومرسلین عظام علیہم السلام میں یہ کیفیت اعلی واتم درجہ میں ہوتی ہے ،اورنبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کو اللہ سبحانہ کے دریا ء رحمت سے اسکا جو وافرحصہ عطافرمایا گیا اس میں آپ ﷺ فردفریدہیں ،گروہ انبیاء علیہم السلام میں اورکوئی اس میں شریک وسہیم نہیں، اللہ سبحانہ نے خیرامت کا منصب عطافرماکر اس امت کو بھی اس نعمت سے حصہ بخشا ہے اوریہ حصہ پانے میں آپ ﷺ کی نسبت کی برکت سے یہ امت دیگرامتوں میں ممتاز وفائق ہے ۔ خیرالامم کے خطاب سے یہ دل نوازمفہوم مستفادہے ۔تاہم جسکی نسبت نبی رحمت سیدنامحمدرسول اللہ ﷺسے جس قدرمستحکم ہوگی اتنی زیادہ اسکو یہ نعمت نصیب ہوگی۔کفروشرک اورظلم وجورکے تیرہ وتاریک ماحول ،خدا خوفی اورخوف آخرت سے آزادوبے نیاز طرزمعاشرت نے جوسراسیمگی وزہرناکی پھیلارکھی ہے جس نے سارے سماج کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے،اسکی وجہ عالم سے چین وسکون چھن گیا ہے۔اس تناظرمیںاقوام عالم کی نگاہیں کسی کرشمہ کی منتظرہیں ،کسی روح افزانئے انقلاب کی امید میں جی رہی ہیں،اب وقت آگیا ہے کہ امربالمعروف اورنہی عن المنکرکی فرض کی ادائیگی کو تیزسے تیزترکردیا جائے،زندگی کے عظیم وپاکیزہ مقصدکی یاد دہانی کرائی جائے،اسلام کے عالی اخلاق اختیارکرکے انسانی تقاضوں کو بھولی انسانیت کو بھولا ہواسبق یاد دلایا جائے،ایمان کی نعمت سے محروم انسانیت جو تاج شرافت سے محروم ہوچکی ہے اسکواسلام کے سایہ رحمت میں پہونچاکر پھرسے اسکے سر کو تاج شرافت کے قابل بنایا جائے۔یہ تبھی ممکن ہے جب انسانیت کو شرک وکفرکی پستیوں سے نکال کر ایمان واسلام کی رفعتوں تک پہونچایا جائے۔ خیروشرمیں جوفرق وامتیازکرنے کی صلاحیت غیرمومنانہ طرزمعاشرت اختیار کرنے کی وجہ سلب ہوچکی ہے ،عمدہ تعلیم وتربیت سے پھرسے اس صلاحیت کی تجدیدکی جائے ،مختصریہ کہ معروف کوپھیلایا جائے اورمنکرات کو معاشرہ سے دورکرنے کی مخلصانہ جد وجہدجاری رکھی جائے۔ ساری کائنا ت کے مالک وخالق کے آگے ساری کائنات اورکائنات کا ذرہ ذرہ سرتسلیم خم کیا ہواہے

،مخلوقات میں کچھ تو وہ ہیں جو تکوینی طورپراسکی مرضی کے مطابق تعمیل حکم میں اپنی مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہیں،انکی یہ سرافگندگی گوکہ غیرشعوری ہے لیکن یہ نظم بھی قدرت نے  انکی خدمت کیلئے جاری رکھا ہے جن کو شعورکی نعمت بخشی گئی ہے ،ظاہر ہے وہ جن وانس ہیں جن کو عقل سلیم کی نعمت بخشی گئی ہے ان کو شعورکی منزل میں اس حقیقت کو تسلیم کرنا اورایمانیات سے اپنے سینوں کو روشن ومنورکرنا ہے تاکہ ابدی نجات وراحت نصیب ہوسکے ۔حق سبحانہ نے جو ضابطہ حیات انسانیت کو دیا ہے اسکو ماننے اوراس پر عمل کرنے پھراس کو عام کرنے میں زندگی بسرکرنے کی یہ امت پابندہے۔نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرکے قیامت تک آنے والی ساری انسانیت کو اسلام کی حقانیت اوراسکی صداقت کا ابدی وآخری پیغام یوں دیا گیا ہے۔’’اے نبی ﷺ آپ فرما دیجیے ،ہم ایمان لائے اللہ پر اوراس پیغام پر جو ہم پر نازل کیا گیا اوراس پر بھی جوابراہیم ،اسماعیل ،اسحٰق ویعقوب اورانکی اولادپر اورجوکچھ دیا گیا موسی ،عیسی اوردیگرانبیاء (علیہم السلام)کوانکے رب کی طرف سے،ہم فرق نہیں کرتے ان میں سے کسی کے درمیان،اورہم اللہ کے فرماں بردارہیں،اورجواسلام کے سواکسی اوردین کی طلب وتلاش میں رہے گا وہ ہر گزاس سے قبول نہیں کیا جائے گا اوروہ آخرت میں نقصان وخسران میں رہے گا ‘‘۔(آل عمران:۸۴؍۸۵) دین اسلام وہ ہے جو حضرت آدم تا ایں دم جاری وساری ہے یعنی خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے اسکو سب آخرمیں پیش فرمایا ہے ،یہ دین اسلام رب العالمین کا نازل کردہ ہے،اوریہ ساری انسانیت کیلئے ہے ،اسکی پاکیزہ تعلیما ت قومی ،وطنی اورنسلی حدبندیوں سے ماورا ہیں۔اوراس پیغام کو سب سے آخرمیں دنیا تک پہونچانے والے رحمۃ للعالمین ہیں۔’’ان الدین عنداللہ الاسلام‘‘بے شک اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی دین ہے(آل عمران؍۱۹)کا پیغام انسانیت تک پہونچا نے کی یہ امت امین ہے۔روحانی اعتبارسے اس وقت انسانیت تشنہ وپیاسی ہے ، کوئی اور مذہب یا کسی اورتہذیب کا جام انکی روحانی تشنگی کونہیں بجھاسکتا۔جیسے صاف وشفاف پانی انسانی تشنگی کو بجھاکرمادی اعتبارسے سیرابی بخشتا ہے ،آب شیریں کے علاوہ کوئی اورمشروب خواہ وہ کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو تشنگی بجھانے میں آب شیریں کی جگہ نہیں لے سکتا،اس سے کہیں زیادہ روحانی پیاس کا سامان اسلام کے پیغام حیات ہی سے ممکن ہے۔پیاسے انسان کو صاف وشفاف آب شیریں فراہم نہ ہو تو وہ مجبورا گدلے پانی کا سہارالے لیتا ہے ،اورتشنگی کی طلب کو گدلے پانی سے پوری کرلیتا ہے،ظاہر ہے اس سے جسمانی صحت متاثرہوتی ہے ،روحانی اعتبارسے تشنہ انسانیت تک اسلام کا عالم گیرآفاقی پیغام حیات کما حقہ نہ پہونچنے کی وجہ وہ بھی مجبورااپنی پیاس گمراہ اورباطل مذاہب کے مراکز(پنگھٹ)سے بجھارہی ہے،نتیجہ یہ ہے کہ انکی روحانی پیاس بجھنے نہیں پارہی ہے ۔عالم ارواح میں’’الست بربکم‘‘کے جواب میں کئے گئے ’’بلی شہدنا‘‘کیوں نہیں!(تو ہمارا رب ہے)ہم نے گواہی دی ،کے عہدکا تخم ہرانسانی روح میں پیوست ہے،یہ مقالی عہدہے یعنی روحوں نے اسکا اقرارکیاہے ، اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے اس تخم کی آبیاری کرکے اس کو اسلام کی رحمتوں کا شجرسایہ داربنا ناخیرامت کا منصب ہے،تاکہ وہ مومنانہ کرداراوراسلامی اقدارکے برگ وبارسے سرسبز وثمرآورہوجائے۔عقیدئہ توحیدکا شجرپاکیزہ سارے عالم پر سایہ گسترہوجائے ، دوسراحالی عہدہے ،حالی عہدسے مراد فطرت انسانی میں توحیدکی طرف میلان ،آفاق وانفس میں قدرت کے روشن کردہ بے نظیردلائل وبراہین کے روشن چراغ ہیں جو زبان حال سے حق تعالی کی ربوبیت اورکائنا ت میں اسکی قدرت کی جلوہ فرمائی کا’’بلی ‘‘کہہ کر اقرارکر رہے ہیں اورانسانیت کو عالم ارواح میں کیے گئے عہدکی یادتازہ کرارہے ہیں ۔حدیث پاک ’’کل مولود یولد علی الفطرۃ ‘‘کہ ہر پیداہونے والا بچہ فطرت یعنی اسلام پر پیداہوتا ہے ،لیکن  ’’فابواہ یہودانہ وینصرانہ ویمجسانہ ‘‘کی روسے حال وماحول اسکو اس حقیقت سے بے خبرکردیتے ہیں اور  وہ راہ حق گم کردیتا ہے ، اس حقیقت کا سراغ پانا امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ عہدالست کا یادتازہ کرائیں،بے شعوری میں زندگی  کے قیمتی لمحات بتانے والے ، عقیدئہ توحیدسے انحراف اور لایعنی مشاغل میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے والے غافل انسانوں کو بے شعوری کی گہری کھائیوں سے نکال کر شعورکی بلند وبا لامنزل کے آسمان تک پہونچائیں ۔ظاہر ہے امت اجابت تک اصلاحی پیغام اور امت دعوت تک پیغام اسلام  پہونچا کرہی یہ امت اس فریضہ سے سبکدوش ہوسکتی ہے۔مسلسل دعوت اسلامی کا کام واصلاحی جدوجہدگویا بہتے دریا کی طرح ہے جو ہمیشہ جاری وساری رہنے کی وجہ اپنی پاکیزگی وشفافیت برقراررکھتاہے ،یا وہ ایسا کنواں ہے جس میں زمین کے جھروں سے تازہ بہ تازہ پانی ہر آن کنویں کو تازہ وپاکیزہ رکھتا ہے اوراس کنویں سے پانی کا اخراج اسکو مزید شفافیت وپاکیزگی سے ہمکنارکرتا ہے،ٹھیک اسی طرح اسلا م کے فطری،پاکیزہ آفاقی بے آمیزپیغام توحید کا ہے،اسکی اشاعت ہوتی رہے اورگم کردہ راہ انسان اس سے فیضیاب ہوتے رہیں ورنہ دنیا کے انسانی سروں کایہ سمندرکفروشرک ،ظلم وجورکی اتاہ تاریکیوں سے اٹ جائے گا ۔امت مسلمہ کی عقیدئہ توحیدپر استقامت پیغام اسلام کی عملی پاسداری دنیا کے اس سمندرمیں بہتے پانی کی طرح ہے یا کنویں سے نکلنے والے پاکیزہ اورشفاف پانی جیسی ہے جس سے خلق خدااپنی پیاس بجھائے،باطل عقائد گمراہ افکارواعمال سے گدلہ پانی پی کر پیاس بجھانے کی کسی کو حاجت نہ رہے۔دریاء کی روانی اورکنویں میں نئے پانی کی آمداوراس سے پانی کے اخراج کا عمل رک جائے توپھر وہ پانی استعمال میں نہیں آتا ،بس اسی طرح امت مسلمہ نے اسلام کے چشمہ فیضان سے خودکو محروم رکھتے ہوئے گمراہ انسانیت کو بھی محروم رکھنے کی جودانستہ یا نا دانستہ غلطی کی ہے ،اسکا خمیازہ اس وقت اس کو بھگنا پڑرہا ہے۔سارے عالم کے افق پر ظلم وجورکے جو بادل منڈلا رہے ہیں اورخود ہمارے جمہوری ملک کی سیکولرفضاء مسموم وزہرآلودہوگئی ہے اسکی یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT