Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / داؤد ابراہیم :ہندوستان کی معلومات میں نمایاں غلطیاں

داؤد ابراہیم :ہندوستان کی معلومات میں نمایاں غلطیاں

سراغ گزشتہ 20 سال سے زیادہ عرصہ سے جمع کئے گئے تھے : وزارت داخلہ ہند

نئی دہلی۔ 27 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت کیلئے ایک پریشان کن تبدیلی میں داؤد ابراہیم کے پاکستان میں پتوں کے بارے میں جو اطلاعات ہندوستان کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو گزشتہ ہفتہ فراہم کی گئی ہیں، ان میں نمایاں غلطیاں نظر آتی ہیں۔ یہ معلومات مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں۔ مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کے اپنے پاکستانی منصب سرتاج عزیز سے بات چیت سے پہلے معلومات کی یہ فائیل مرکزی وزارت داخلہ نے تیار کیا تھا۔ پاکستانی اخبارات کی اطلاع کے بموجب اس میں جو پتے شامل کئے گئے ہیں، ان میں پاکستانی سفارت کار ملیحہ لودھی کی قیام گاہ کا پتہ بھی شامل ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو جو فہرست فراہم کی گئی ہے، وہ سرکاری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنا کہ یہ دستاویز سرکاری ہے، بالکل غلط ہے اور ہندوستان کے مشیر قومی سلامتی یہ فہرست سرتاج عزیز کے حوالے کرنے والے تھے۔ یہ اطلاع بھی بے بنیاد ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے عہدیداروں کے بموجب داؤد ابراہیم کے بارے میں معلومات سرتاج عزیز کو دی جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ہندوستانی محکموں نے ابتداء میں پاکستان میں داؤد ابراہیم کے 9 خفیہ ٹھکانوں کی ایک فہرست ایک ہی صفحہ پر تحریر کی تھی جن میں سے 7 کراچی میں اور اسلام آباد میں تھے۔ اس کے بعد کے صفحہ پر اس کی نئی رہائش گاہوں کی تفصیلات درج تھیں جن میں داؤد ابراہیم کی خریدی ہوئی جائیدادوں کے پتے بھی درج تھے۔ انہوں نے مرگلا روڈ F-6/2 مکان نمبر 7 اسلام آباد کا بھی تذکرہ ہے۔ یہ مکان اسلام آباد کے انتہائی مشہور پتوں میں سے ایک ہے اور پاکستان کی نامور سفارت کار کی ملکیت ہے۔ سابق سفیر برائے امریکہ اور موجودہ پاکستانی سفیر برائے اقوام متحدہ ملیحہ لودھی اس مکان میں مقیم تھیں۔

پاکستانی اخبارات میں وسیع پیمانے پر یہ خبر شائع کی گئی ہے جس میں غلط پتہ مکان کی تصویر کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ روزنامہ ’’دی نیشن‘‘ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکان اب دفتر کے ارکان عملہ میں سے ایک کے زیراستعمال ہے، کیونکہ ملیحہ لودھی اقوام متحدہ میں برسرکار ہیں۔ ہندوستان نے جو معلومات فراہم کی ہیں، وہ قطعی بے بنیاد ہیں۔ پاکستان کی صحافی میریانہ ببر نے کہا کہ یہ برسوں سے لودھی خاندان کی ملکیت تھا۔ اسے 1970ء کی دہائی کے اوائل میں ان کے والدین نے تعمیر کروایا تھا۔ ایک اور پتہ بھی جو اسلام آباد کا ہے ، غلط معلوم ہوتا ہے۔ داؤد ابراہیم کئی بار اپنی قیام گاہ تبدیل کرچکا ہے لیکن وہ ان مکانوں میں سے کسی میں بھی مقیم نہیں تھا۔

TOPPOPULARRECENT