Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دائرۃ المعارف کو 37 کروڑ کے پراجکٹ کی منظوری

دائرۃ المعارف کو 37 کروڑ کے پراجکٹ کی منظوری

130 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑا پراجکٹ ، ڈائرکٹر ڈاکٹر مصطفی شریف کی مساعی کامیاب
حیدرآباد۔/10ستمبر، ( سیاست نیوز) عالمی شہرت یافتہ دائرۃ المعارف کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے مرکزی حکومت نے 37.7 کروڑ روپئے مالیتی پراجکٹ کو منظوری دی ہے۔ دائرۃ المعارف کے قیام کے 130سال مکمل ہوگئے لیکن کسی بھی حکومت نے اس ادارہ کے تحفظ اور اس میں محفوظ علمی ذخیرہ کو عام کرنے پر توجہ نہیں دی تھی۔ مرکزی وزارت اقلیتی بہبود کے سکریٹری ڈاکٹر مایا رام اس ادارہ کے دورہ کے بعد اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے عہدیداروں کو ترقیاتی پراجکٹ روانہ کرنے کا مشورہ دیا اور قلیل مدت میں پراجکٹ کو منظوری دے دی۔ مرکزی حکومت کی اسکیم ’ ہماری دھرور‘ کے تحت دائرۃ المعارف کے احیاء اور ترقی سے متعلق پراجکٹ کو منظوری دی گئی جس کا 90فیصد مرکزی حکومت ادا کرے گی جبکہ 10فیصد رقم تلنگانہ حکومت کو ادا کرنی ہوگی۔ 5سال میں پراجکٹ کی تکمیل کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور پہلے سال کے بجٹ 6.88 کروڑ روپئے میں سے مرکز نے 2.8کروڑ روپئے جاری کردیئے ہیں جو دائرۃ المعارف کے اکاؤنٹ میں پہنچ چکے ہیں۔ تلنگانہ حکومت کو اب اپنے حصہ کی رقم جاری کرنا ہے۔ اس کے علاوہ پراجکٹ کی تکمیل کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت ماہرین پر مشتمل کمیٹیوں کی تشکیل کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس پراجکٹ کے تحت نادر مخطوطات اور کتابوں کے ڈیجیٹلائزیشن، ٹرانسلیشن اور قدیم کتابوں کی آفسیٹ پر دوبارہ پرنٹنگ کا کام انجام دیا جائے گا۔ اس پراجکٹ میں ریاستی حکومت کو 3کروڑ 5لاکھ روپئے ادا کرنے ہوں گے اور یہ رقم دائرۃ المعارف کی عمارت کی تعمیر و مرمت اور مشنری کی خریدی پر صرف کی جائے گی۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے اس پراجکٹ کی تکمیل میں خصوصی دلچسپی دکھائی ہے تاکہ گزشتہ 130 برسوں سے موجود علمی ذخیرے کو دنیا بھر میں عام کیا جاسکے۔ دائرۃ المعارف کو حکومتوں کی عدم سرپرستی کے نتیجہ میں ہمیشہ بجٹ کی کمی کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ کسی بھی حکومت نے مخطوطات کے تحفظ اور عمارت کو بدحالی سے بچانے کیلئے توجہ نہیں کی تھی۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو موجودہ مخطوطات اور نادر کتابیں ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔ مرکزی وزارت اقلیتی بہبود کے سکریٹری ڈاکٹر مایا رام کی شریک حیات ریسرچ اسکالر ہیں اور انہوں نے کسی تحقیق کے سلسلہ میں اس ادارہ کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے ادارہ میں موجود قیمتی علمی اثاثے کے بارے میں ڈاکٹر مایا رام کو واقف کرایا تھا۔ مرکزی حکومت نے ادارہ کی تاریخ اور وہاں موجود علمی ذخیرے کے بارے میں تفصیلات طلب کی اور ’ ہماری دھرور‘ اسکیم کے تحت اس کے تحفظ کا فیصلہ کیا گیا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے رقم کی پہلی قسط کی اجرائی کے بعد تلنگانہ حکومت پراجکٹ کے کاموں کے آغاز کے بارے میں حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ مرکز نے پہلی قسط کی اجرائی کے ساتھ یہ وضاحت کی ہے کہ جاریہ مالیاتی سال کے بجٹ سے یہ امداد دی گئی اور اس رقم کے خرچ سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کے بعد دوسری قسط جاری کی جائے گی۔ محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ نے حکومت کو اپنے حصہ کا بجٹ جاری کرنے کیلئے نمائندگی کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پراجکٹ کی تکمیل کے سلسلہ میں ماہرین پر مشتمل کمیٹیوں کے قیام کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ قدیم مخطوطات کے ڈیجیٹلائزیشن اور کتابوں کے انگریزی میں ترجمہ سے دنیا بھر میں ان کتابوں کی مانگ میں اضافہ ہوگا اور دائرۃ المعارف ان کتابوں کو دنیا بھر میں فروخت کرسکتا ہے۔ قدیم کتابوں کو آفسیٹ پر دوبارہ پرنٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پرنٹنگ اور بائنڈنگ مشین کی خریدی پر ایک کروڑ روپئے کا خرچ آئے گا جو ریاستی حکومت کو ادا کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ عمارت کی داغ دوزی اور دیگر ضروری مشنری کی خریدی کیلئے بھی تلنگانہ حکومت کو ذمہ داری لینی ہوگی۔ مرکز نے 20اگسٹ کو پہلی قسط کی رقم جاری کردی ہے۔ دائرۃ المعارف کی 130سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس طرح کے پراجکٹ کی منظوری پر ادارہ سے وابستہ افراد اور تلنگانہ کے علمی حلقوں میں مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ریاست حکومت کی جانب سے اس ادارہ کا سالانہ بجٹ 2کروڑ روپئے مختص کیا گیا تھا جو ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ہی کافی ہورہا ہے۔ اس ادارہ میں جملہ 32ملازمین ہیں جن میں صرف 10مستقل ملازمین ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس نامور ادارہ نے آج تک کتابوں کے ترجمہ کا کام انجام نہیں دیا۔ صرف قدیم مخطوطات کی ایڈیٹنگ کا کام انجام دیا جارہا ہے جو دنیا کے مختلف گوشوں سے لائے جاتے ہیں۔ سعودی عرب، مصر، ایران اور دیگر ممالک سے اکثر و بیشتر ریسرچ اسکالرس علمی مواد کے حصول کیلئے اس ادارہ کا دورہ کرتے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں اس پراجکٹ کی تکمیل سے ادارہ کو نئی جہت ملے گی۔ دائرۃ المعارف کے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر مصطفی شریف نے پراجکٹ کی منظوری میں خصوصی دلچسپی لی اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے پراجکٹ کو مرکز سے رجوع کیا۔

TOPPOPULARRECENT