Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / دائرۃ المعارف کیلئے مرکزی حکومت سے 37.7کروڑ کی رقمی منظوری

دائرۃ المعارف کیلئے مرکزی حکومت سے 37.7کروڑ کی رقمی منظوری

پراجکٹ پر عمل کے لیے کمیٹیوں کی تشکیل ، پراجکٹ کے آغاز پر ریاستی حکومت کی عدم دلچسپی
حیدرآباد ۔ 14۔ اکتوبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے دائرۃ المعارف کیلئے 37.7 کروڑ کا جو پراجکٹ منظور کیا ہے ، اس پر عمل آوری کیلئے ادارہ کو کمیٹیوں کی تشکیل اور مرکزی حکومت سے مشنری کی خریدی کی اجازت کا  انتظار ہے۔ مرکزی وزارت اقلیتی امور نے ہماری دھروہر اسکیم کے تحت دائرۃ المعارف میں موجود قیمتی و قدیم کتابوں اور مخطوطات کے ترجمے ، ڈیجٹلائیزیشن اور ری پرنٹنگ کے پراجکٹ کو منظوری دی ہے۔ ادارہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے اس قدر بڑے پراجکٹ کو منظوری دی لیکن پراجکٹ کے آغاز کیلئے ادارہ کو ریاستی حکومت سے کمیٹیوں کی منظوری کا انتظار ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عہدیداروں کو پراجکٹ کے آغاز میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ 21 ستمبر کو حیدرآباد کے دورہ کے موقع پر سکریٹری اقلیتی امور حکومت ہند ڈاکٹر اروند مایا رام نے پراجکٹ کی پیشرفت کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے ریاستی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ پراجکٹ کے آغاز میں تاخیر نہ کریں اور زیادہ کمیٹیوں کی تشکیل کے ذریعہ کام کو پیچیدہ نہ بنائیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس پراجکٹ کیلئے 7 مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ کیا تھا لیکن اروند مایا رام نے اس کی مخالفت کی اور پراجکٹ پر عمل آوری اور نگرانی کیلئے دو کمیٹیوں کے قیام کی سفارش کی۔ ان کی ہدایت کے مطابق ماہرین پر مشتمل دو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے ان کی منظوری کا انتظار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 18 اکتوبر کو سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کی بہار الیکشن ڈیوٹی سے واپسی کے بعد کمیٹیوں کو منظوری دی جائے گی۔ مرکزی حکو مت نے پراجکٹ کی پہلی قسط 6 کروڑ 93 لاکھ 24 ہزار 800 روپئے میں 40 فیصد رقم دو کروڑ 77 لاکھ 29 ہزار 920 روپئے دائرۃ المعارف کے اکاؤنٹ میں جمع کردیئے ہیں  لیکن ابھی تک پراجکٹ کا آ غاز نہیں ہوپایا۔ بتایا جاتاہے کہ ریاستی حکومت نے مشنری کی خریدی کے سلسلہ میں مرکز سے اجازت طلب کی ہے جس کے جواب کا انتظار ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ڈیجٹلائیزیشن اور ری پرنٹنگ کا کام مشنری کی خریدی کے بعد 2 تا 3 ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ عربی کتابوں کے انگریزی میں ترجمہ کیلئے 50 ماہر مترجمین کا انتخاب کیا گیا ہے جن کا تعلق ملک کے مختلف علاقوں سے ہے۔ پہلے مرحلہ میں میڈیکل سائنس ، انجنئرنگ اور دیگر عصری علوم سے متعلق کتابوں کا ترجمہ کیا جائے گا۔ ان ماہرین میں 10 کا حیدرآباد سے تعلق ہے ۔ مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق آئندہ سال مارچ تک پہلی قسط کی مکمل رقم خرچ کردی جائے جس کے بعد ہی دوسری قسط جاری کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT