Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / دائیں بازو کی ڈھٹائی، اب دلت مصنف پر حملہ

دائیں بازو کی ڈھٹائی، اب دلت مصنف پر حملہ

مخالف ہندو تحریریں موقوف نہ کرنے پر انگلیاں کاٹ دینے کی دھمکی، 23 سالہ پرساد کا بیان
بنگلورو ، 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ’’بڑھتی عدم رواداری‘‘ پر مصنفین کی جانب سے جاری ملک گیر احتجاجوں کے درمیان ایک نوجوان دلت جہدکار اور مصنف کو مبینہ طور پر بعض نامعلوم اشخاص نے حملے کا نشانہ بنایا، جن کے بارے میں انھیں دائیں بازو کے کارکنان ہونے کا شبہ ہے۔ یہ حملہ وسطی کرناٹک میں مبینہ طور پر دلت مصنف کی ’’مخالف ہندو‘‘ تحریروں پر کیا گیا اور انھیں متنبہ کیا گیا کہ اگر وہ اپنی روش ترک نہ کرے تو ان کی انگلیاں کاٹ دی جائیں گی۔ 23 سالہ طالب علم اور ذات پات کے نظام کے خلاف رائے ظاہر کرنے والی کتاب ’اوڈالا کیچو‘ کے مصنف ہوچانگی پرساد نے الزام عائد کیا کہ انھیں چہارشنبہ کو داونگیری میں زدوکوب کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ ہندومت کے خلاف لکھنے پر ان کی انگلیاں کاٹ دی جائیں گی۔ پرساد نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا: ’’21 اکٹوبر کو رات دیر گئے آٹھ تا نو افراد کا گروپ ایس سی؍ ایس ٹی ہاسٹل آیا جہاں وہ رہتے ہیں اور مجھ سے کہا کہ میری ماں کی طبیعت ناساز ہے۔ میں پریشان ہوکر اُن کے ساتھ چلنے لگا۔ وہ مجھے کسی مقام پر لے گئے

 

اور مجھے دھمکانا اور مارپیٹ کرنا شروع کردیا کہ میں ’ہندوازم‘ اور ’کاسٹ سسٹم‘ کے خلاف لکھتا ہوں۔‘‘ جرنلزم کے اسٹوڈنٹ پرساد نے الزام لگایا، ’’انھوں نے میرے چہرہ پر ’کم کم‘ بھی لگا دیا اور میری تحریروں پر میری انگلیاں کاٹ دینے کی دھمکی دی‘‘۔ پرساد نے کہا کہ اسے اس حملے میں بعض معمولی زخم آئے، نیز یہ کہ ’’ان لوگوں (حملہ آوروں) نے کہا، میں دلت پیدا ہوا، جس کی وجہ میرے گناہ ہیں جو مجھ سے پچھلے جنم میں ہوئے‘‘۔ یہ پوچھنے پر آیا وہ لوگوں کا کوئی مخصوص گروپ سے تعلق ہے، پرساد نے کہا، ’’ان لوگوں کے الفاظ سے یہ لگ بھگ واضح ہوگیا کہ وہ دائیں بازو کے کسی گروپ سے ہیں لیکن مجھے مکمل یقین نہیں۔‘‘ اس ضمن میں ایک کیس آر ایم سی یارڈ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم اشخاص کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ وہ مشتبہ ملزمین کے متلاشی ہیں۔ انکوائری سے وابستہ ایک پولیس عہدہ دار نے کہا کہ پرساد نے گزشتہ روز شکایت درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آٹھ تا دس اشخاص نے اُس پر حملہ کیا اور اس کے قتل کی کوشش کی۔ یہ کیس تعزیرات ہند کی مختلف دفعات بشمول 307 کے علاوہ قانون انسداد مظالم بہ متعلق ایس سی ؍ ایس ٹی کے تحت بھی درج ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT