Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / دادری قتل اور عدم رواداری کیخلاف احتجاج جاری

دادری قتل اور عدم رواداری کیخلاف احتجاج جاری

نامور مصنفین سارہ جوزف اور رحمن عباس نے بھی ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ واپس کردیئے
تیرواننتاپورم۔ 10 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) نامور ملیالم مصنفہ سارہ جوزف اور اُردو ناول نگار رحمن عباس نے آج بالترتیب ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ اور مہاراشٹرا ریاستی اُردو ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ واپس کردینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دو ادبی شخصیتیں بھی ملک میں بڑھتی عدم رواداری کے خلاف جاری احتجاج میں شامل ہوگئی ہیں۔ دادری میں ایک بے قصور شخص کے بے رحمانہ قتل کے خلاف کئی معروف شخصیتوں نے صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ آج ان دو ادبی شخصیتوں نے یہ اعلان اس وقت کیا جبکہ ایک دن قبل ملیالم شاعر کے سچدانندن نے کنڑ قلمکار اور سماجی کارکن ایم کلبرگی کے دھارواڑ میں قتل کے خلاف اکیڈیمی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ سارہ جوزف کو ان کی ناول ’’آلا ہائیوڈ پینمکل‘‘ پر یہ باوقار اعزاز عطا کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد نقد انعام اور توصیفی سند ذریعہ کوریئر اکیڈیمی کو روانہ کردیں گی۔ انہوں نے تھریسور سے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ملک میں مودی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد تمام شعبہ حیات میں خوف کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے۔ ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور سکیولرازم کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تین ادیبوں کو پہلے ہی ہلاک کیا جاچکا ہے اور کے ایس بھگوان کو بھی فرقہ پرست طاقتوں کی دھمکیوں کا سامنا ہے، اس کے باوجود قلمکاروں اور سماجی کارکنوں اور سماج کے مختلف طبقات میں پائے جانے والے اندیشوں و خوف کو دُور کرنے کیلئے مرکز نے کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں۔ ناول نگار رحمن عباس نے کہا کہ دادری قتل کے بعد اُردو ادبی حلقوں میں مایوسی پائی جاتی ہے چنانچہ انہوں نے یہ ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر کئی اُردو ادیب بھی اس احتجاج میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اب وقت آچکا ہے کہ ہمارے اطراف ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آج ہی ایوارڈ واپس کرنے والے تھے لیکن اکیڈیمی کے عہدیداروں نے مطلع کیا کہ دفتر آج بند ہے چنانچہ وہ پیر کو یہ ایوارڈ واپس کردیں گے۔ رحمن عباس کو تیسری ناول ’’خدا کے سایہ میں آنکھ مچولی‘‘ کیلئے 2011ء میں یہ ایوارڈ دیا گیا تھا۔ قبل ازیں نامور قلمکار نین تارا سہگل اور سابق للت کلا اکیڈیمی صدرنشین اشوک واجپائی نے بھی زندگی اور اظہار خیال کی حق آزادی پر حملہ اور ملک میں بڑھتی عدم رواداری کے خلاف بطور احتجاج ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کردیئے تھے۔ مشہور ہندی ادیب اُدئے پرکاش نے سب سے پہلے سماجی کارکن کلبرگی کے قتل کے خلاف بطور احتجاج ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ واپس کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT