Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / دادری قتل تحقیقات میں متضاد پہلو

دادری قتل تحقیقات میں متضاد پہلو

LUCKNOW, JULY 25 (UNI):- Counsel of Akhlq's family Asad Hayat (R) and National President of Rashtriya Ulama Council Maulana Amir Rashadi Madni (L) adressing a press conference in Lucknow on Tuesday. UNI PHOTO-162U

محمد اخلاق کے گھر سے 2 کیلوگوشت ضبط اور دادری فارنسک لیاب رپورٹ میں 4 کیلو کا تذکرہ

لکھنؤ۔ 26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے دادری میں گزشتہ سال محمد اخلاق سیفی کے خاندان نے جسے محض گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں پڑوسیوں نے نشانہ بنایا تھا، جسے گرفتاری کے حکم پر التواء کیلئے الہ آباد ہائیکورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریٹر نوئیڈا پولیس نے ارکان خاندان کے خلاف گائے ذبح کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا اور سورج پور کی عدالت نے گرفتاری کے احکامات جاری کئے۔ اخلاق اور ان کے ارکان خاندان کے وکیل اسد حیات نے بتایا کہ گرفتاری پر التواء اور ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کے لئے ہم ہائیکورٹ سے رجوع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سے اس معاملے کی مزید تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا جائے گا کیونکہ شواہد کو کافی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑا اور اہم نقص یہ ہے کہ فارنسک لیاب رپورٹ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ پر بھروسہ کرنا مشکل ہے کیونکہ 28 اور 29 ستمبر کی درمیانی شب ضبط کردہ گوشت کو مہر بند کئے بغیر دادری اور متھرا کے لیاب روانہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں جو ایف آئی آر درج ہے ، اس کے مطابق 2 کیلو گوشت ضبط کیا گیا جبکہ دادری لیاب کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 4 تا 5 کیلو گوشت نمونے کے طور پر موصول ہوا۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ آخر گوشت کی مقدار میں اضافہ کس نے کیا۔ وکیل اسد حیات نے کہا کہ اس سارے معاملے کے پس پردہ سازش کارفرما ہے۔ نوئیڈا کے حکام نے جو گوشت ضبط کیا گیا تھا، اس معاملے میں انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے۔

محمد اخلاق کے فرزند سرتاج نے بھی پولیس کی جانب سے ضبط کئے گئے گوشت اور متھرا فارنسک لیاب کو فراہم کئے جانے والے گوشت کے صحیح ہونے کے بارے میں شبہات ظاہر کئے۔ انہوں نے کہا کہ آخر گوشت کہاں سے دستیاب ہوا اور کہاں بھیجا گیا؟ کس فارنسک لیاب کو کونسا گوشت بھیجا گیا۔ اس کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں کیونکہ پولیس نے یہ سارا گوشت باہر ہی سے برآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ساری سازش کے پس پردہ محرکات کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سازش میں کون ملوث ہیں، تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پولیس تحقیقات سے تعلق رکھتا ہے۔ پولیس کو جامع تحقیقات کرتے ہوئے حقیقی مجرمین کا پتہ چلانا چاہئے۔ جب ان سے پولیس تحقیقات کی غیرجانبداری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے برہم ہوکر جواب دیا کہ پولیس تحقیقات ہی کی وجہ سے 18 افراد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ واضح رہے کہ 50 سال محمد اخلاق کو گزشتہ سال ستمبر میں عید کے موقع پر گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں پڑوسیوں نے حملہ کرتے ہوئے ہلاک کردیا اور ان کے 22 سالہ فرزند دانش کو بری طرح زخمی کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT