Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / دادری میں محمد اخلاق کی ہلاکت ،منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ؟

دادری میں محمد اخلاق کی ہلاکت ،منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ؟

ذمہ دار قائدین کے غیر ذمہ دارانہ بیانات افسوسناک، اقلیتوں کے قومی کمیشن کی ٹیم کا دورہ، متاثرین سے بات چیت، اخلاق کے بھائیوں میں ہنوز خوف برقرار

نئی دہلی ۔ 21 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اقلیتوں کے قومی کمیشن (این سی ایم) نے شبہ ظاہر کیا ہیکہ دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہوں پر ایک شخص کو ہجوم کے ہاتھوں مار مار کر ہلاک کرنا ایک منظم و منصوبہ بند واقعہ تھا اور اس کے بعد اس قسم کے واقعات سے فائدہ اٹھانے کیلئے بعض سیاستدانوں کی طرف سے دیئے گئے متنازعہ بیانات انتہائی افسوسناک و تکلیف دہ ہیں۔ بشاڈا میں 52 سالہ محمد اخلاق کو محض گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر اس علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے متنازعہ بیانات دینے والے بی جے پی قائدین کو بالواسطہ طور پر نشانہ بناتے ہوئے این سی ایم نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے عوام کے مختلف طبقات کے تعلقات میں مزید کشیدگی اور ابتری پیدا ہوئی ہے۔ این سی ایم کے صدرنشین نسیم احمد کی قیادت میں تین رکنی وفد کے دورہ دادری کے بعد کمیشن نے کہا کہ اس قسم کے واقعات کو ہر قیمت پر روکا جانا چاہئے ورنہ صورتحال قابو سے باہر ہوجائے گی۔ اس ٹیم نے محسوس کیا کہ ’’یہ ایک منظم و منصوبہ بند واقعہ ہونے کا شبہ ہوتا ہے کیونکہ یہ نقطہ بھی قابل غور ہے کہ مندر کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کے اندرون چند منٹ ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا حالانکہ یہ ایک ایسا وقت تھا کہ اکثر دیہاتیوں نے دعویٰ کیا ہیکہ وہ محوخواب تھے‘‘۔ تین رکنی کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ ’’این سی ایم کو پیش کردہ حقائق سے اس بات کا قوی اشارہ ملتا ہے کہ یہ سارا واقعہ ایک منظم و منصوبہ بند پیمانے پر طئے پایا جس میں ایک بے بس خاندان پر حملے کیلئے ایک طبقہ کے افراد کو اکسانے کیلئے مندر جیسے مقدس مقام کا استعمال کیا گیا‘‘۔ این سی ایم نے کہا کہ ’’یہ کہنا بالکلیہ طور پر نازیبا اور نامناسب ہوگا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا جس کا دعویٰ حتیٰ کہ بعض صاحب مجاز و اختیار افراد بھی کررہے ہیں‘‘۔

 

یہ دراصل مرکزی وزیر مہیش شرما اور چند دوسرے قائدین کی طرف راست اشارہ ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن نے کہا کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر تو یہ تھا کہ اس مقام پر جمع ہونے والے بعض ذمہ دار افراد بھی انتہائی غیرذمہ دارانہ بیانات دے رہے تھے، جس سے مختلف طبقات کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہورہے تھے۔ این سی ایم نے مزید کہا کہ ’’تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ورکرس اور حامیوں کو اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی اجرائی سے باز رہنے کا مشورہ دیں اور ایسے واقعات کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی جائے‘‘۔ ٹیم نے اس احساس کا اظہار بھی کیا کہ ’’اخلاقی پولیس کی لعنت‘‘ تیزی سے پھیل رہی ہے بالخصوص مغربی اترپردیش میں اس میں ہولناک اضافہ ہورہا ہے۔ کمیشن نے اس صورتحال پر کڑی سرکاری نظر رکھنے اور سوشیل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کیلئے اس (سوشیل میڈیا) کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔

تاہم محمد اخلاق کے ارکان خاندان نے کمیشن سے کہا کہ ان کے اور دیگر گاؤں والوں کے درمیان اس واقعہ سے پہلے کوئی کشیدگی یا دشمنی نہیں تھی۔ اقلیتی کمیشن کی ٹیم نے کہا کہ ’’اخلاق کے ارکان خاندان نے کہا کہ یہ حملہ اچانک ہوا بالخصوص مردوں کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ زدوکوب کا نشانہ بنایا گیا اور خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا چند خواتین زخمی بھی ہوئیں۔ تاہم ان افراد خاندان نے بروقت مدد کیلئے مقامی انتظامیہ کی ستائش کی‘‘۔ ٹیم کے مطابق دادری میں اکثریتی طبقہ کے افراد ہندوؤں نے بھی اس شرمناک واقعہ پر سخت افسوس و مذمت کا اظہار کیا اور اخلاق کے خاندان کے علاوہ دیگر مسلم خاندانوں کو سیکوریٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔کمیشن کے چیرمین نسیم احمد نے کہا کہ ایسے وقت اس گاؤں میں تمام مسلم خاندانوں کو تحفظ کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔ نیز پولیس تحقیقات کو تیز رفتار بنانے کیلئے ممکنہ مساعی کی جانی چاہئے تاکہ خاطیوں کو جلد سے جلد سزاء دی جاسکے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو قانونی، مادی اور اخلاقی تائید و حمایت کی فراہمی پر بھی زور دیا۔

TOPPOPULARRECENT