Sunday , August 20 2017
Home / اداریہ / دادری پرمودی کا بیان

دادری پرمودی کا بیان

وزیراعظم مودی کی دادری واقعہ پر لب کشائی کے دوران ان کے بیان پر اعتبار کرنے اور نہ کرنے والوں کے دو گروپ بن گئے ہیں۔ سیاسی میدان کا بالادست گروپ خود کو ہی اعلیٰ متصور کرتا ہے اور اس نے جمہوریت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ گوشت کھانے کی افواہ پر ایک 52 سالہ مسلم شخص کو جنونی ہجوم کی جانب سے زدوکوب کرکے ہلاک کیا جاتا ہے تو اس واقعہ کو بدبختانہ قرار دینے کیلئے وزیراعظم کو کافی وقت درکار ہوا۔ مودی نے دادری اور پاکستانی گلوکار غلام علی کے خلاف احتجاج جیسے واقعات کو حقیقی طور پر افسوسناک اور ناپسندیدہ قرار دیا۔ اپوزیشن نے ان کی خاموشی کو چیلنج کیا تھا۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ دادری جیسے واقعات کانگریس کے دور حکومت میں بھی ہوئے ہیں۔ بی جے پی ہمیشہ نقلی سیکولرازم کی مخالفت کرتی آرہی ہے۔ 28 ستمبر کو رونما ہوئے اس واقعہ نے ساری دنیا کو چونکا دیا تھا۔ گوشت کھانے کے جرم کی سزا موت بن گئی تو ایسے واقعات پر انسانی حقوق کی پامالی اور جمہوری آزادی کے سلب ہوجانے کے الزام عائد ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس واقعہ پر اب تک خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔ گزشتہ ہفتہ بہار میں انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے دادری واقعہ کی جانب اشارہ تک نہیں کیا تھا،

البتہ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں پر زور دیا تھا کہ وہ غربت کا خاتمہ کرنے کے لئے مل جل کر کام کریں۔ سیاست اور حقیر فوائد کے لئے لوگ غیرذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں۔ وزیراعظم مودی کے اندازِ تکلم میں یہ تبدیلی حالیہ واقعات پر کی جانے والی مذمت کے تناظر میں آئی ہے۔ بی جے پی کی حلیف پارٹی شیوسینا کی حرکتوں کے بعد قوم پرستوں پر حملوں کے درمیان ہندوستان میں غیررواداری کے بڑھتے واقعات کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے دادری واقعہ میں راست طور پر مرکز کے ذمہ دار ہونے سے یکسر ہاتھ اُٹھالیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دادری واقعہ کیلئے ریاستی حکومت ذمہ دار ہوتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ 2002ء میں گجرات فرقہ وارانہ فسادات کے وقت کس کی حکومت تھی۔ کیا ان واقعات میں ریاستی حکومت راست طور پر ملوث نہیں تھی؟ بی جے پی سارے ملک میں اپنا اثر رکھتی ہے تو وہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر علاقہ میں فرقہ پرستانہ زہر کے پھیلاؤ کو روکنے اور مخالف جمہوریت کارروائیوں کو ختم کردے۔ جس شہر میں وزیراعظم مودی رہتے ہیں اور جن شہروں میں مودی جیسے بی جے پی کے لیڈر رہتے ہیں، وہاں پر بی جے پی کے ارکان نے مویشیوں کو لانے والے ٹرکوں کو روک دیا تھا۔ ڈرائیور کو زدوکوب کیا اور گوشت کھانے پر قتل کردینے کی دھمکی دی گئی۔ بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی سوم نے برسرعام کہا تھا کہ ان کا ذہن فرقہ پرستانہ ہے اور اس طرح کے افراد بی جے پی میں شامل ہیں تو وہ حکومت کے کاموں میں بھی اپنا رول ادا کرتے ہیں۔

بے گناہ انسانوں کا قتل غیراخلاقی اور غیرقانونی و تکلیف دہ ہے۔ ایسے وقت میں وزیراعظم کی حیثیت سے مودی کو بہت کچھ کام انجام دینے تھے، لیکن واقعات کے بعد نتیجتاً جو حالات سامنے آتے ہیں، وہ سیاسی فائدہ کیلئے ہوتے ہیں۔ بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی رائے دہی کے بعد ابھی چار مرحلے پورے ہونے ہیں۔ بی جے پی کے امکانات کو دھکہ لگ جائے تو مودی کی سیاسی قوت کو صدمہ ہوگا۔ اس صدمہ سے بچنے کیلئے اگر دادری واقعات پر 15 دن بعد صدمہ کا اظہار کیا جاتا ہے تو یہ بھی ایک کامیابی کا ’’فرقہ وارانہ موقع‘‘ ہی ہے۔ اسی طرح مرکز کی حکومت فرقہ پرستی کے واقعات کو نظرانداز کرکے تاریخ کے صفحات کو کم کرتے جارہی ہے۔ ملک میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ سنگین بنتا جارہا ہے۔ مودی کو اپنی سیاسی قوت میں کمی لاحق ہونے کی فکر ہورہی ہے۔ بہار انتخابات کے پیش نظر حکومت کی خرابیوں سے پیدا ہونے والے حالات کا وہ اندازہ کررہے ہیں تو انہیں فوری فرقہ پرست تنظیموں اور خود اپنی پارٹی کے سرکش لیڈروں پر قابو پانا ضروری ہے۔ دادری واقعہ کے ذمہ داروں سے لے کر انہیں گجرات فسادات کے خاطیوں تک یکساں کارروائی کی جاتی ہے تو ان کی خاموشی توڑنے کی وجہ حقیقی سمجھی جائے گی۔ عوام کو اشتعال دلانے والے قائدین پر شکنجہ کسنا ضروری ہے۔ یہ عناصر حکومت کی ذمہ داریوں کو مشکوک بناتے جارہے ہیں لہذا عوام کے اندر حکمراں طبقہ کے تعلق سے اعتماد پیدا کرنے کیلئے نہ صرف خاطیوں کو سزائیں دی جائیں بلکہ ایسے واقعات کے یکسر تدارک کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں۔ اگر عوام سے بیگانگی اختیار کرکے صرف اقتدار کے مزے لینے کو ہی ترجیح دی جائے تو پھر حکومت کو پڑنے والی ضرب بھی شدید ہوگی جو سیاسی پارٹیاں ملک کے قانون، جمہوری کلچر اور آئین سے بیزاری دکھاتی ہیں، اس کی وجہ سے وقت آنے پر نوشتہ دیوار پر جو لکھا ہوتا ہے، اسے پڑھنے کیلئے خواندگی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

TOPPOPULARRECENT