Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / دادری کا سنسنی خیز اعادہ محمد اخلاق کے بعد عثمان انصاری

دادری کا سنسنی خیز اعادہ محمد اخلاق کے بعد عثمان انصاری

 

ہر ش مندر
میں نے عثمان انصاری کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا کہ میں ان کا درد بانٹنے آیا ہوں۔ میں نے ہم سب کی طرف سے ان سے معذرت خواہی کی ۔ اپنا ایک ٹوٹا ہوا ہاتھ چھپاتے ہوئے یہ بزرگ شخص پوری طرح ٹوٹا ہوا تھا ۔ وہ صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ جذبہ کے اعتبار سے بھی ٹوٹ گیا تھا ۔ جب وہ ہم سے بات کر رہے تھے وہ کئی مرتبہ جذبات سے مغلوب ہوگئے ۔ جب انہوں نے اپنے پڑوسیوںکے ہجوم کی جانب سے ان پر حملے کی بات بتائی ۔ پڑوسیوں نے ان پر اپنی گائیں ہلاک کردینے کا الزام عائد کیا تھا ۔ جب انہوں نے ہم سے کہا کہ وہ اپنی گائیوں سے کتنی محبت کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنے خاندان کے بارے میں بھی بتایا جو ان کے طبی اور کھانے کے اخراجات پورے کرنے بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان کا ایک بیٹا بھی ہے جو ہجوم کے حملے کے بعد اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے ۔عثمان انصاری نے اپنے گاوں واپس ہونے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ۔ وہ جانتے ہیں کہ وہاں کوئی بھی انہیں خوش آمدید کہنے والا نہیں ہوگا لیکن ان کیلئے کوئی دوسرا مقام ایسا نہیں ہے جسے وہ گھر کہہ سکیں۔ ہم نے عثمان انصاری سے اپنے کاروان محبت پروگرام کے تیسرے دن ملاقات کی تھی ۔

کاروان محبت کا سفر ہم نے کفارہ کے طور پر ان افراد سے اظہار یگانگت کیلئے شروع کیا تھا جو ملک بھر میں نفرت پر مبنی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ہم نے اس سفر کا 4 ستمبر کو آسام سے آغاز کیا تھا ۔ جھارکھنڈ میں ہماری پہلی مصروفیت عثمان انصاری سے ملاقات تھی ۔ لیکن انہیں ایک اور حملے کا اندیشہ تھا ۔ انصاری کے افراد خاندان نے ہمیں ان کی پناہ گاہ کے تعلق سے کچھ نہیں بتایا ۔ لوگوں نے ہم سے مین روڈ پر ملاقات کی ۔ وہاں سے ہم میں سے صرف چند ہی ایک جیپ میں روانہ ہوئے ۔ کئی گاووں سے گذرنے کے بعد ہم ان کی خفیہ پناہ گاہ پہونچے ۔ ان کی جو سنسنی پیدا کرنے والی کہانی ہے وہ دادری میں اخلاق کے ساتھ پیش آئے واقعہ سے مشابہہ ہے ۔ گریڈیہہ ضلع کے بروادہ گاوں کی ہندو آبادی میں عثمان انصاری کا گھر واحد مسلم گھرانہ تھا ۔ وہ 10 گائیں رکھتے تھے اور اس کا دودھ ہندووں اور مسلمانوں دونوں کو فروخت کرتے تھے ۔ حملے سے 10 دن قبل ان کی ایک جرسی گائے بیمار ہوکر فوت ہوگئی ۔ گاوں کی روایت یہ ہے کہ مردہ گائے کو دفنایا نہیں جاتا بلکہ ایک مقررہ مقام پر پھینک دیا جاتا ہے ۔ عثمان انصاری نے بھی ایک پچھڑی ذات کے شخص سے رابطہ کیا جو عموما مردہ مویشی ٹھکانے لگاتا ہے ۔ تاہم اس سے قیمت پر اتفاق نہ ہوسکا ۔

اسلئے انصاری نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ گائے کو اس مقام تک گھسیٹنے کا فیصلہ کیا جہاں وہ دو دن تک پڑی رہی تھی ۔ حملے کے دن ‘ جو عید سے دو دن بعد 27 جون کو ہوا پر اسرار طور پر مردہ گائے کا سر اور ایک پیر غائب پایا گیا ۔ یہ افواہ پھیل گئی کہ انصاری نے خود اپنی گائے کو عید کے دن گوشت کھانے مار دیا ہے ۔ ایک ہجوم انصاری کے گھر کے باہر جمع ہوگیا ۔ خوفزدہ انصاری نے بتایا کہ گائے بیماری سے مری ہے ۔ اگر وہ واقعی اس کا گوشت استعمال کرنا چاہتے تو صرف سر اور پیر کیوں لیجاتے اور سارا جسم وہاں کیوں چھوڑ دیتے جبکہ اسی میں گوشت ہوتا ہے ۔ لیکن ہجوم نے انہیں گھسیٹ کر باہر نکالا ‘ انہیں برہنہ کیا اور اس وقت تک انہیں مارتے رہے جب تک وہ بیہوش نہ ہوگئے ۔ ہجوم نے ان کے بیٹے اور بہو کو ایک کمرے میں بند کردیا اور اسے نذر اتش کردیا ۔ اس ہجوم نے معمر عثمان انصاری کے جسم پر پٹرول چھڑک دیا اور اسے نذر آتش ہی کردیتے اگر نوجوان ڈپٹی کمشنر اور ان کی پولیس فورس نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی ۔ فورس نے بیہوش شخص کو بچالیا لیکن ہجوم نے اپنی برہمی پولیس پر نکالی اور ان کی گاڑیوں پر حملے کردئے ۔ پولیس نے فائرنگ کردی جس میں ایک شخص زخمی ہوگیا ۔ انصاری کے فرزند اور بہو کرشماتی طور پر بچ گئے کیونکہ گاوں کے چوکیدار نے اس کمرے کا دروازہ توڑ دیا تھا جس میں انہیں بند کرکے ان کے گھر کو آگ لگادی گئی تھی ۔ انصاری کو آٹھ دن بعد ہوش آیا ۔ انہیں دو ماہ بعد دواخانہ سے ڈسچارچ کیا گیا اور وہ ہنوز روپوشی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ انہیں پولیس کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے اور وہ اب بھی خوفزدہ ہیں کہ ان کے پڑوسی انہیں ہلاک کرکے ہی دم لیں گے ۔

یہ معمر شخص انصاف کیلئے لڑنے کیلئے پرعزم ہے ۔ وہ نہیں جانتے کہ اس طرح کی شدید نفرت میں وہ کس طرح لڑ پائیں گے ۔ تاہم بے امیدی میں بھی امید رکھتے ہیںکہ وہ ایک دن اپنے گاوں واپس ہونگے۔ کاروان امن کے طور پر ہم جہاں کہیں گئے ہم نے مقامی آر گنائزرس سے درخواست کی کہ ایک امن اجلاس منعقد کیا جائے ۔ ہماری حوصلہ افزائی ہوئی کہ ایک ایسا اجلاس عثمان انصاری سے ملاقات کے بعد منعقد ہوا ۔ ہماری خوش بختی کہ سینکڑوں افراد بشمول عہدیداروں نے اس میں شرکت کی ۔ تاہم ہماری خوش فہمی دیرپا نہیں رہی ۔ ہر مقرر کے بعد دوسرے مقرر نے اعلان کیا کہ یہ حملہ افسوسناک حادثہ تھا اور اسے فراموش کردیا گیا ہے ۔ ان کے بموجب امن اسی وقت بحال ہوسکتا ہے جب انصاری پولیس سے یہ کہے کہ انہوں نے جن افراد کو گرفتار کیا ہے وہ بے گناہ ہیں اور وہ ان لوگوں کو نہیں پہچانتا جنہوں نے اسے ہلاک کرنے کی کوشش کی ہے ۔

جب ان حملہ آوروں کو رہا کردیا جائیگا تب ہی انصاری کو اپنے گاوں واپسی کی اجازت دی جائیگی ۔ کاروان میں شامل جان دیال اور میں نے ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ آیا یہ ان کے اپنے والد ہوتے جنہیں برہنہ کیا گیا اور ان کے پڑوسیوں نے ہی جھوٹی افواہ پر اسے تقریبا ہلاک کردیا تھا تو کیا وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ چھوٹا واقعہ ہے اور اسے فراموش کردیا جانا چاہئے ؟ ۔ ہم نے ان سے اپیل کی کہ وہ انصاری سے ملاقات کریں ۔ ان سے معافی چاہیں ‘ انہیں کسی شرط کے بغیر حفاظت کا تیقن دیں اور ان کا گھر بنانے کیلئے پیسے جمع کریں۔ اس وقت برہمی پیدا ہوگئی ۔ مقررین نے ہم سے سوال کیا کہ ہم کیوں نہیں اس ہندو شخص سے بھی اتنی ہی ہمدردی جتاتے جو پولیس کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا تھا ۔ ان کا دعوی تھا کہ انصاری ایک برا شخص ہے اور قاتل ہے ۔ ( ہم نے تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ جائیداد کے مسئلہ پر ایک پر تشدد جھگڑے میں شامل رہا ہے ) ۔ ہجوم کا کہنا تھا کہ ہم اس بات پر توجہ نہیں دے رہے ہیں کہ انصاری نے ہی اپنی گائے کو ہلاک کرکے ہندووں کی برہمی کو اشتعال دلایا ہے ۔ پروگرام کے منتظمین ایک بائیں بازو کی تنظیم کے ارکان تھے ۔ تاہم یہ لوگ بھی یہی کہتے تھے کہ انہیں بھی ہمارے دورے سے مایوسی ہوئی ہے ۔ انہیں امید تھی کہ ہم ہندووں کو رہائی دلانے والا کوئی سمجھوتہ کرواتے ہوئے امن بحال کرینگے ۔ اس کی بجائے ہم صرف مسلمانوں کی تائید کر رہے ہیں۔ ہم دادری بھی جاسکتے تھے ۔ ہم کہیں اور بھی جاسکتے تھے ۔ سب جگہ دلائل ایک جیسے ہیں۔ مسلمان ہمیشہ اشتعال دلاتے ہیں۔ یہی لوگ ہمیشہ قصوروار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب انہیں قتل بھی کیا جاتا ہے تو ذمہ دار وہی ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف ہندو بے گناہ اور امن پسند ہیں ‘ انہیں مسلمان ہی تشدد کا حصہ بناتے ہیں۔ کاروان محبت ان ہندووں کے دلوں میں محبت کو جگا نہیں سکا جو یہاں گاؤں میں جمع ہوئے تھے ۔ ایسی محبت جو انصاف سے علیحدہ نہیں ہوسکتی ۔ ایسی محبت جو ہندووں کی مشکلات اور مسلمانوں کی پریشانیوں میں فرق نہیں کرسکتی ۔ دلوں میں بوجھ لئے ہم نے محسوس کیا کہ محبت کو پروان چڑھانے کیلئے ایسے کئی سفر کرنے کی ضرورت ہوگی اور اس وقت تک ہم کو اپنا سفر جاری رکھنا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT