Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / دادری کے دہشت زدہ مسلمان دیہات کے تخلیہ پر مجبور

دادری کے دہشت زدہ مسلمان دیہات کے تخلیہ پر مجبور

زندگی کو خطرہ لاحق ، حملہ منصوبہ بند ہونے متاثرین کا دعویٰ ، مرکز کی رپورٹ طلبی
دادری / نئی دہلی ۔ یکم اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) نئی دہلی کے مضافات میں دیہات بشاڑا کے مسلمان ایک شخص کو گائے کا گوشت کھانے کی افواہوں پر زدوکوب کرکے ہلاک کردینے کے واقعہ کے بعد صدمہ سے دوچار ہوگئے ہیں اور پوری طرح ہل کر رہ گئے ہیں ۔ دریں اثنا مرکز نے ایک تفصیلی رپورٹ حکومت اترپردیش سے طلب کی ہے اور ہدایت دی ہے کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے ۔ پیر کی رات کو واقعہ کے بعد بھاری تعداد میں صیانتی عملہ کی تعیناتی سے بھی مسلم خاندانوں کا اعتماد بحال نہیں ہوسکا جو 50 سالہ محمد اخلاق کے قتل کے بعد خود کو غیرمحفوظ تصور کررہے ہیں اور 200 افراد کے ہجوم کی جانب سے محمد اخلاق کو کھینچ کر گھر سے باہر نکالنے اور اس کے خاندان کے گائے کا گوشت کھانے کی افواہوں پر یقین کرتے ہوئے اسے زدوکوب کرکے ہلاک کردینے پر شکستہ اعصاب کے شکار ہوگئے ہیں اور دیہات کا تخلیہ کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔

اخلاق کے فرزند سرتاج نے جو ہندوستانی فضائیہ میں ملازم ہے کہا کہ ہماری زندگیاں خطرہ میں ہے اور ہم کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا منصوبہ بنارہے ہیں ۔ 22 سالہ دانش جسے بے رحمی سے مارپیٹ کی گئی تھی ہاسپٹل میں زیرعلاج ہے اور تیزی سے روبہ صحت ہے ۔ ضلع مجسٹریٹ این پی سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ دیہات میں صورتحال قابو میں ہے اور انتظامیہ نظم و قانون برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے ۔ سرتاج نے کہا کہ جن لوگوں نے میرے والد کا قتل کیا ہے اور پولیس کے زیرحراست ہیں انہیں سخت ترین سزا دینی چاہئیے تاکہ مسلمانوں کا نظم و قانون پر اعتماد بحال ہوسکے ۔ محمد اخلاق کی بیوی نے واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راجیش کمار نے مہلوک کے ارکان خاندان اور مسلم طبقہ کے دیگر ارکان سے ملاقات کرکے انہیں تحفظ کا تیقن دیا ۔ مبینہ طور پر اس واقعہ میں ملوث 7 افراد پہلے ہی گرفتار کیا جاچکے ہیں ۔

جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے ۔ مقتول کے خاندان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منصوبہ بند تھا ۔ ایک اور مقامی شہری نے کہا کہ مسلم فرقہ گائے کا گوشت کھاتا ہے یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے تاہم برسرعام گائے کو ذبح نہیں کیا جاتا تاکہ دوسرے طبقہ کے جذبات مجروح نہ ہو ۔ دریں اثناء اس واقعہ سے سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان باہمی الزام تراشی کا آغاز ہوگیا ہے ۔ مقامی بی جے پی رکن پارلیمنٹ مرکزی وزیر مہیش شرما نے کہا کہ یہ واقعہ ایک حادثہ تھا ۔ اسے فرقہ وارانہ رنگ نہیں دیا جانا چاہئیے ۔ ریاستی وزیر اعظم خان نے کہا کہ بی جے پی یو پی میں اسمبلی انتخابات سے قبل بڑے پیمانے پر تشدد برپا کرنا چاہتی ہے ۔ ایسے واقعات مظفر نگر تشدد کے بعد مسلسل ہورہے ہیں ۔ کانگریس نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ یو پی کو ’’فرقہ پرستی کی تجربہ گاہ ‘‘ بنارہی ہے تاکہ انتخابی فوائد حاصل کرسکے ۔ دریں اثناء مرکزی وزارت داخلہ نے حکومت یو پی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس واقعہ کی تفصیلات طلب کی ہیں اور جلد از جلد خاطیوں کو تلاش کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے ۔ پولیس نے کہا کہ مقامی مندر سے مقتول کے ارکان خاندان کے گائے کا گوشت کھانے کا اعلان کرنے پر کشیدگی پھیل گئی ۔ دونوجوانوں نے مندر کے پجاری کو اس اعلان پر مجبور کیا تھا ۔ ان نوجوانوں کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے ۔ منتقل کے پجاری نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔ محمد اخلاق کو 200افراد کے ہجوم نے اس وقت تک زدوکوب کیا جب تک کہ وہ ہلاک نہیں ہوگیا ۔ اس واقعہ کے بعد پجاری کو گرفتار کرلیا گیا تھا جس نے اپنے بیان میں دو نوجوانوں کے اس کو مجبور کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ضلع مجسٹریٹ این پی سنگھ نے کہا کہ عدالتی تحقیقات کا آغاز کیا جاچکا ہے ۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے کیونکہ گائے کا ذبیحہ صرف ایک الزام تھا ۔

 

دادری واقعہ پر مودی کی خاموشی قابل اعتراض:سی پی آئی
دادری واقعہ کی مذمت ، حکومت یو پی سے رپورٹ طلب :نجمہ ہبت اللہ
نئی دہلی ۔ یکم / اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی نے آج دادری واقعہ کو انتہائی غیرانسانی اور غیرمہذب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر مہیش شرما نے کہا ہے کہ دادری کا واقعہ صرف ایک ’’حادثہ ‘‘ تھا ۔ پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کی اس واقعہ پر خاموشی کو نامعقول اور ناقابل برداشت کارروائی قرار دیا ۔ سی پی آئی نے مودی کی خاموشی پر اظہار حیرت کرتے ہوئے کہا کہ بے قصور لوگوں کے ایسے نامعقول اور ناقابل برداشت قتل پروزیراعظم کی خاموشی حیران کن ہے ۔ پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ فوری کارروائی کی جائے تاکہ ایسی غیرانسانی طاقتیں مزید ایسے کارستانیاں نہ کرسکیں ۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہبت اللہ نے دادری واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کا مقصد اقلیتوں کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں بااختیار بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے حکومت یو پی سے اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور ہدایت دی ہے کہ ایسے واقعہ کے اعادہ کا انسداد کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT