Saturday , September 23 2017
Home / سیاسیات / دادری ہلاکت واقعہ سے بی جے پی کا کوئی تعلق نہیں، حکومت یو پی جوابدہ

دادری ہلاکت واقعہ سے بی جے پی کا کوئی تعلق نہیں، حکومت یو پی جوابدہ

نتیش کمار اور لالو پرساد پر ذات پات اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے کا الزام، بہار میں امیت شاہ کی پریس کانفرنس

پٹنہ۔19 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) تحفظات کے مسئلہ پر بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار اور آر جے ڈی سربرا لالو پرساد کی سخت تنقیدوں کا سامنا کرنے والی بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے آج کہا کہ ان کی پارٹی درج فہرست طبقات، قبائل دیگر پسماندہ طبقات موجودہ کوٹہ کی پابند ہے۔ اس پر نظرثانی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ ماہ تحفظات پالیسی پر نظرثانی کی حمایت کی تھی جس سے ایک سنگین تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ امیت شاہ نے آج اس تنازعہ پر اخباری نمائندوں کے مختلف سوالات پر جواب دیا کہ ’’بی جے پی، تحفظات پالیسی میں تبدیلی کی حمایت نہیں کرتی اور وہ موجودہ کوٹہ کی بھرپور تائید کرتی ہے۔ ہم دلتوں، قبائل، پسماندہ طبقات اور دیگر کمزور طبقات کو دیئے گئے دستوری حقوق کی برقراری کے پابند ہیں۔‘‘ سکیولر الائنس کے قائدین لالوپرساد اور نتیش کمار نے تحفظات کوٹہ پالیسی پر نظرثانی کے لئے موہن بھاگوت کے مطالبہ کی سخت مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ بی جے پی تحفظات کو منسوخ کرنے پر غور کرسکتی ہے۔ بہار میں دلتوں اور قبائیلی عوام کی کثیر تعداد موجود ہے اور اس مسئلہ پر لالوپرساد اور نتیش کمار تنقیدوں حملوں سے پریشان بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے وضاحت کی کہ وہ اور خود وزیراعظم نریندر مودی بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ کوٹہ کی موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور تحفظات کا موجودہ کوٹہ برقرار رہے گا۔ بی جے پی اس پر نظرثانی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔ امیت شاہ نے ایک قدر آگے بڑھ کر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ آر ایس ایس سربراہ نے تحفظات کی پالیسی پر نظرثانی کا کبھی کوئی مطالبہ ہی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے نتیش کمار اور لالو یادو پر الزام عائد کیا کہ بہار اسمبلی انتخابات کو پسماندہ طبقات اور اعلی ذاتوں کے مابین جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ بی جے پی ایک ایسی جماعت ہے جس میں ایک دلت شخص کے بیٹے کو وزیراعظم بنایا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کئی مصنفین کی جانب سے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کئے جانے کے مسئلہ پر امیت شاہ نے کہا کہ اترپردیش کے گائوں دادری میں ایک شخص کو ہجوم کے ہاتھوں مار مار کر ہلاک کئے جانے کے واقعہ یا پھر ایک معقولیت پسند مصنف ایم ایم کلبرگی کے قتل کے واقعہ میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں ہے۔ یہ دونوں واقعات ایسی ریاستوں میں پیش آئے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور کرناٹک میں کانگریس کی حکومت ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ متعلقہ ریاستی حکومتوں کو ایسے مسائل سے نمٹنا چاہئے کیوں کہ امن و قانون ایک ریاستی موضوع ہے۔ اگر مصنفین ایوارڈس واپس کرتے ہیں تو یہ مسئلہ بھی اترپردیش اور کرناٹک کی حکومتوں سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ دادری واقعہ پر بی جے پی قائدین کی خاموشی کے بارے میں ایک سوال پر بی جے پی کے صدر نے جواب دیا کہ وزیراعظم نریندر مودی گزشتہ ہفتہ نواڈا میں منعقدہ ایک ریالی میں اس مسئلہ پر بیان دے چکے ہیں۔ مودی نے عوام پر زور دیا کہ فرقہ وارانہ امن و ہم آہنگی برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے ہندوئوں اور مسلمانوں کو آپس میں نہ لڑنے بلکہ مشترکہ طور پر غریبی اور فاقہ کشی کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ امیت شاہ نے بیف اور تحفظات جیسے متنازعہ مسائل کو موضوع بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نتیش کمار کے زیر قیادت محاذ کے قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ لالو پرساد جیسے قائدین ذات پات اور مذہب کے نام پر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں اور ان کے پاس ترقی کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ لالوپرساد کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ 1990ء نہیں ہے بلکہ 2015ء ہے۔ گزشتہ 25 سال کے دوران گنگا میں کافی پانی بہہ چکا ہے۔ بہار میں وزیراعظم مودی کی مقررہ انتخابی ریالیوں کی منسوخی سے متعلق ایک سوال پر امیت شاہ نے جواب دیا کہ دوسرے اور تیسرے مرحلہ کے لئے کوئی ریالی مقرر نہیں کی گئی تھی۔ مودی کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ مودی بہار کے مابقی تین انتخابی مرحلوں کے لئے 22 ریالیوں سے خطاب کریں گے۔ امیت شاہ نے الزام عائد کیا کہ نتیش کمار کے بلند بانگ دعوئوں کے برعکس بہار میں غریبی ، بیروزگاری اور ناخواندگی میں اضافہ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT