Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / دارالقضاء کا قیام اوراسکی ضرورت واہمیت

دارالقضاء کا قیام اوراسکی ضرورت واہمیت

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے ،جواعتقادات ،عبادات ،معاملات،معاشرت واخلاق سب کو شامل ہے۔اسلام نے ان سب کی اہمیت کو واضح کیا ہے اوراسکے لئے روشن ہدایات دی ہیں جوانسانی زندگی کوراحت ورحمت کا گہوارہ بناتے ہیں ،اورانکی آخرت کوکامیابی کی شاہراہ پر لے جاتے ہیں ۔ اسلام کا ایک اہم شعبہ معاشرت سے متعلق ہے ، سماجی ومعاشرتی سطح پرجواختلافات رونماہوتے ہیں یا جومسائل نزاع کا باعث بنتے ہیں اسکی اصلاح کیلئے اسلام نے زرین ہدایات دی ہیں ۔اسلام کا قانون جس وقت کرئہ ارض کے اکثرحصوں پر نافذتھا، وہ حصے امن وامان کا گہوارہ بنے رہے،تاریخ کے اوراق میںاسکے روشن ابواب آج بھی رقم ہیں ۔اسلامی ملک کی عدالتیں اوراسکے مسلم ججس (قضاۃ اسلامی)معاشرتی مسائل کوکتاب وسنت کی روشنی میں حل کرتے ،جہاںمظلوموں کی دادرسی کی جاتی تھی ،کمزورں کو انصاف ملتا ،تحقیق وتفتیش کے بعد مبنی برانصاف فیصلہ صادرہوتے ، الغرض بحیثیت انسان انسانوں کے درمیان برابری ومساوات مظلوموں کی مدد،محتاجوں کی اعانت زندگی کے ہر شعبہ میںعدل وانصاف اسلامی سماج کا روشن آئین ہے۔غیراسلامی ممالک میں انصاف کے تقاضوں کے تکمیل کیلئے عدالتیں قائم ہیں ،ہندوستان بھی ایک جمہوری ملک ہے ان عدالتوں کو اسلام کے قوانین میں دراندازی کی اجازت نہیں ہے ،خاص طورپر وہ معاشرتی مسائل جومسلم معاشرت سے تعلق رکھتے ہیں جیسے نکاح،خلع،طلاق،انفساخ نکاح ، نان ونفقہ ،ہبہ ،مسائل میراث وغیرہ ۔ہندوستان کے دستورمیں ان کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے ،ان جیسے مسائل میں ملک کی عدالتیںدستوری نقطہ نظر سے بھی اسلامی قانون کے مطابق فیصلہ صادرکرنے کی پابندہیں ،لیکن عدالتوں پر مقدمات کی کثرت کا بوجھ اورملک کی آبادی کے تناسب سے ججس کے عدم انتظام کی وجہ بروقت انصاف ناممکن ہے ۔اگراسکی اصلاح بھی کرلی جائے تومعاشی کمزوری کی وجہ عدالتوں سے رجوع ہونا ہرایک کے بس کی بات نہیں ، ملک کی اکثریت اورخاص طورمسلم اقلیت کی ایک بڑی تعدادسطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہے، اسلئے عدالتوں کے اخرجات کا بوجھ اٹھانے کے وہ متحمل نہیں ۔ادھرچنددنوں سے قانون کے اداروں اورحکومت کے ذمہ داروں کی طرف سے اسلامی عائلی قوانین میں تبدیلی اورہندوستان کے سارے باسیوں کیلئے یکساں قانون کے نفاذکی صدائے بازگشت سارے ملک میں گونج رہی ہے ۔میڈیا اس پر اپنا سارا زورصرف کررہا ہے ایسے میں اجتماعی طورپر سارے ملک میں ملت اسلامیہ مسلک ومشرب کے اختلاف سے اونچے اٹھکر اتحادویگانگت کاثبوت دے۔ اور’’مسلم پرسنل لا ء بورڈ‘‘جوملک کے سارے مسلمانوں کا ایک نمائندہ ادارہ ہے ،اسکا بھرپورتعاون کرے ،یہ ادارہ ۱۹۷۲؁ء سے قائم ہے ۱۹۷۳؁ء میں شہرحیدرآباد میں اس کی باضابطہ بنیادرکھی گئی ،مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کی جوکوششیں ہوتی رہتی ہیں اسکے خلاف یہ ادارہ ہمیشہ نبردآزما رہتا ہے۔ مسلمان اسلام کے قانون پر یقین رکھتے ہیں اورانکا ایمان ان سے اس بات کا تقاضہ بھی کرتاہے جیسا کہ ارشادباری ہے ’’کسی مومن اورمومنہ کیلئے سزاوار نہیں ہے کہ وہ اللہ اوراسکے رسول ﷺکے فیصلہ کے بعد اپنے کسی معاملہ میں اپنا کوئی اختیارباقی رکھے ‘‘۔(الاحزاب:۳۶)اس آیت پاک کا ایک خاص پس منظرہے لیکن اسکا حکم قیامت تک آنے والے ایمان والوں کیلئے ہے ،ملک کا ایک فردیا پوری قوم ،حکومت اورقانون سازادارے کوئی بھی اس بات اختیارنہیں رکھتے کہ اللہ سبحانہ کے نازل کردہ احکامات اورنبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کی بیان فرمودہ توضیحات وتشریحات کی روشنی میںمدون اسلامی قانون کے خلاف کوئی اورقانون نافذکریں ،اورمسلمانوں کیلئے کوئی اورنئی راہ ِعمل تجویزکریں ۔ غیراسلامی ممالک کی عدالتیں بسااوقات ایسے فیصلے صادرکرتی ہیں جواسلامی مزاج سے متصادم ہوتے ہیں ،ظاہرہے ملت اسلامیہ کبھی اس طرح کے خلاف اسلام فیصلوںکو قبول نہیں کرسکتی ۔ہمارے ملک کی عدالتو ں نے بھی بعض ایسے فیصلے دئیے ہیں جوراست طورپر اسلام کے قانون سے ٹکراتے ہیں ،جیسے مطلقہ کے نفقہ کا مسئلہ ہے کہ کسی اورسے دوسرا نکاح کرنے تک یا مطلقہ کو تادم زیست نفقہ ملے ،اس فیصلہ کی بنیادپر بظاہرمطلقہ کوفائدہ مل رہا ہے لیکن یہ قانون اسلامی کے مغائرہے ،اسلامی قانون مطلقہ کواسکی عدت تک نفقہ دینے کی حمایت کرتا ہے۔ایسے میں مطلقہ جوفریق ثانی ہے آیا ملکی قانون کے فیصلہ کو قبول کرتی ہے یا اسلامی قانون پرعمل کیلئے دل وجان سے اپنے آپ کوراضی رکھتی اورمعمولی وحقیرمالی منفعت کو ٹھکرادیتی ہے اس میں اسکے ایمان کا امتحان ہے۔ظاہرہے انتقام کے جذبہ سے روح اسلام کے منافی ملکی عدالتوں کے فیصلوں کو قبول کیا جائے تویہ عمل اسلام کے چشمہ فیضان سے بڑی محرومی کا باعث ہوگا،اوراقوام عالم میں رسوائی کا سبب بنے گا ۔ اللہ سبحانہ کا ارشادہے ’’اے ایمان والو!اللہ کی اوراللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرواورانکی جوتمہارے الوالامرہیں ،پھراگرکسی امرمیں تم اختلاف کرو تواسکواللہ سبحانہ اوراسکے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرو ،اگرتم اللہ سبحانہ پر اورقیامت کے دن پرایما ن رکھتے ہو،کیا آپ نے ان کونہیں دیکھا جواس بات کا دعوی تو رکھتے ہیں کہ جوکچھ آپ پر اورجوکچھ آپ سے پہلے(انبیاء )پر اتاراگیا ہے اس پر ان کا ایمان ضرورہے لیکن وہ اپنے معاملات طاغوت یعنی غیراللہ کی طرف لیجانا چاہتے ہیں حالانکہ انکوحکم دیا گیا ہے کہ وہ اسکا انکارکریں اورشیطان تو چاہتاہے کہ انہیں بھٹکاکر دورکی گمراہی میں ڈال دے‘‘۔(النساء :۵۹/۶۰)  ایسے میں ملت اسلامیہ کے ان افراد کواپنے گریبان میں جھانک کراپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے جوشرعی احکام کے مطابق فیصلہ کیلئے اس وقت اصرارکرتے ہیں جب اسمیں انکو اپنی منفعت دکھائی دیتی ہے ،جب اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ شریعت کے فیصلہ کے روسے وہ نقصان میں رہیں گے تو پھروہ خلاف اسلام۔ غیراسلامی عدالتوں کے ایسے منفعت بخش فیصلہ کا سہارالیتے ہیں ۔ ملت اسلامیہ کا فرض ہے کہ آپسی اختلاف ہوںتو اسکے حل کیلئے قوانین اسلامی کے ماہرین سے رجوع کریں ۔ اس وقت ملک بھرمیں دارالقضاء قائم ہیں جن کا مقصداسلامی نقطہ نظرسے نزاعی امورکوحل کرناہے ،کم وقت اورکم خرچ میں جہاں مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ جمعیت علماء ہند،امارت شرعیہ بہاروغیرہ کے زیرنگرانی ملک بھرمیں دارالقضاء قائم ہیں ،حیدرآبادمیں امارت ملت اسلامیہ پنجہ شاہ ،بنڈلہ گوڑہ ہاشم آباد میں دارالقضاء والافتاء قائم ہیں۔جوبفضل تعالی کتاب وسنت کی روشنی میں ملی مسائل کوحل کررہے ہیں۔حکومت تلنگانہ کے وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد  نائب وزیراعلیٰ  اور اُن کے رفقاء نے  ’’میریج کونسلنگ سنٹرگورنمنٹ آف تلنگانہ ‘‘کے قیام کی منظوری حاصل کی ،یہ ادارہ حج ہاوزچوتھی منزل پر تقریبا دوسال سے کا رگزارہے ۔ہفتہ میں دودن چہارشنبہ اورہفتہ تین بجے تا ساڑھے پانچ بجے شام یہ ادارہ کام کررہا ہے ،میاں بیوی کے درمیان کوئی اختلاف رونما ہوجائے یا اوربھی معاملات میں خواہ وہ تجارت وکاروبارکے اختلاف ہوںیا میراث کے تقسیم سے متعلق ہرطرح کے معاشرتی ومعاملاتی نزاعات کے بآسانی حل کیلئے اس ادارہ سے رجو ع ہوکرشرعی نقطہ نظرسے اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں ،اوربہت سے افراداس ادارہ سے فائدہ اٹھاچکے ہیں اوراٹھا رہے ہیں ۔ بڑی کم مدت میں اس ادارہ کوقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔اپنے مسائل کے حل کیلئے پولیس یا عدالت سے رجوع ہونا موجود ہ حالات میں غیردانشمندانہ اقدام ہے،اول توجھوٹ کا سہارالئے بغیرمقدمات آگے نہیں بڑھائے جاسکتے ،دوسرے فیصلہ ہوتے ہوتے برسوں نکل جاتے ہیں پھربھی کوئی مسئلہ صحیح معنی میں حل نہیں ہوپاتا،ندامت کے سواکچھ ہاتھ نہیں آتا ،ایک دانشمندمفکرکا کہنا ہے’’ عدالت میں جس نے ہارااسکا ہارنا تومسلم ہے لیکن جسکی جیت ہوئی ہے اسکا جیتنا بھی ہارنے کے مترادف ہے ‘‘۔الغرض اسلام کا مبنی برانصاف نظام ہی سکون وراحت اورعافیت کا باعث ہے ،اسلئے غیراسلامی ملک کی عدالتوں سے رجوع کرنے کے بجائے دارالقضاء سے رجوع کرنا چا ہیے ۔اس سلسلہ میں شعوربیداری مہم کی ضرورت ہے ،ذرائع ابلاغ جس کا عام طورپراسلام کے خلاف پروپگنڈہ نصب العین بن گیا ہے اسکی اصلاحی عملی کوششوں کے ساتھ دارالقضا ء کی افادیت واہمیت کا پروگرام بھی اس سے نشرہونا چاہیے ،اوراخبارات میں ایسے تمام دارالقضاء کی فہرست بھی محلہ وشہرکی نشاندہی کے ساتھ شائع ہونی چاہیے تاکہ ملت اس سے واقف ہوسکے اوربھرپوراستفادہ کرسکے ۔

TOPPOPULARRECENT