Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / دارجلنگ میں آتشزنی اور تشدد، عام زندگی ٹھپ

دارجلنگ میں آتشزنی اور تشدد، عام زندگی ٹھپ

دارجلنگ / سیلی گوڑی، 14 جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) دارجلنگ ہلس میں مشتبہ گورکھا کارکنوں کے سرکاری اداروں پر حملے اور آتش زنی کے واقعات کے جاری رکھنے سے یہاں اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں تقریباًٹھپ سی گئی ہیں۔کم از کم نصف درجن کام کی جگہ پر آگ لگا دی گئی اور کالی جھورا پن بجلی منصوبے میں بجلی کی پیداوار آج 33 ویں دن بھی بند رہی۔ یہاں دوبارہ کام شروع کرنے کے سلسلے میں متعلقہ فریقوں سے بات چیت کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔یہاں ملنے والی اطلاعات کے مطابق مشتبہ گورکھا کارکنوں نے سرکاری مرک کی پریم چند لائبریری کو آگ لگا دی۔ انہوں نے دارجلنگ میں دھدھیا میں سیاحت لاج کو جلا دیا۔ کچھ اور دفاتر میں بھی آتش زنی کرنے کی اطلاعات ہیں۔سکھیا جانچ چوکی، پھول بازار میں ایک دفتر اور کرسیانگ اور مرک میں ایک سیاحت لاج جلائے جانے کی خبر ہے ۔ جي جے ایم کے اسسٹنٹ سکریٹری ونے تمانگ نے اگرچہ گورکھا لینڈ حامیوں کے ان واقعات میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گورکھا کارکن پر امن تحریک چلا رہے ہیں۔وہ دارجلنگ، دوآرس اور ترائي کو ملا علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تمانگ نے مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر بمان بنرجی کی بات چیت کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علاحدہ گورکھا لینڈ کی مانگ کی کولکتہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت سے ہی علیحدہ ریاست کا مطالبہ حل ہو سکتا ہے ۔گورکھا کارکنوں نے تقریبا چار اہم اور کئی چھوٹی بجلی کی پیداوار یونٹس کو بند کرنے کے بعد آج تیستا کے نچلے حصے میں واقع 160 میگاواٹ والی کالی جھورا پن بجلی پیداواری منصوبے کو بھی بند کرا دیا گیا اور تمام ملازمین کو وہاں سے چلے جانے کو کہا ہے ۔گورکھا لینڈ تحریک رابطہ کمیٹی (جی ایم سی سی) کے ارکان نے سرکاری دفتر کے علاقے کے چاروں طرف گھومنا شروع کر دیا ہے اور وہ ملازمین سے علاقے سے چلے جانے کو کہہ رہے ہیں۔خواتین کی قیادت میں بڑی ریلی کے تئیں سیکورٹی فورسز نے خطرے کو بھانپتے ہوئے کوئی کارروائی نہیں کی۔ جی ایم سی سی کے کنوینرکلیان دیوان کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب کے پیش نظر دارجلنگ میں 15 جولائی سے ہونے والی بھوک ہڑتال کو ٹال دیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT