Monday , July 24 2017
Home / Top Stories / دارجلنگ میں تازہ تشدد ،پولیس چوکی نذرآتش ، فوج تعینات

دارجلنگ میں تازہ تشدد ،پولیس چوکی نذرآتش ، فوج تعینات

گورکھا فرنٹ کارکن کی موت کے بعد مظاہرین بے قابو ۔ پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا

دارجلنگ8جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) دارجلنگ ہلز میں تازہ تشدد بھڑک اٹھنے کے بعد فوج کو دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔ اس علاقہ میں گورکھا لینڈ کے حامیوں نے ایک پولیس چوکی کو نذرآتش کردیا۔ اس کے علاوہ ایک ٹوائے ٹرین اسٹیشن کو بھی آگ لگا دی۔ دو مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات پیش آئے۔ گورکھا جن مکتی مورچہ سارے علاقہ میں اپنے احتجاج کو پھیلا دیا ہے۔ مغربی بنگال سے اس علاقہ کی علحدگی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا جارہا ہے۔ پولیس فائرنگ میں دو نوجوان ہلاک ہوئے ہیں اور چیف منسٹر ممتابنرجی کی بات چیت کی پیشکش کو مسترد کردیا گیا ہے۔ تاہم پولیس نے کہا کہ اسے پولیس فائرنگ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ممتابنرجی نے امن سے رہنے کی اپیل کی۔ گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ (جی این ایل ایف) کے کارکن تسی بوٹیا کی کل رات مبینہ طور پر سیکورٹی فورسیز کی فائرنگ میں موت کے واقعہ کے بعد دارجیلنگ ہلز میں آج تشدد بھڑک اٹھا اور گورکھا مظاہرین نے سونادا تھانہ کا گھیراؤ کرکے سیکورٹی فورسیز پر پتھراؤ کیا۔پولیس نے تشدد پر مُصر بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور ربر کی گولیاں چلائیں۔ رپورٹ ملنے تک تھانہ کا گھیراؤ جاری تھا۔ دوسری طرح علیحدہ گورکھا لینڈ کے مطالبہ پر دارجلنگ ہلز کی مختلف سیاسی پارٹیوں کی گورکھا لینڈ موومنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (جی ایم سی سی) کی اپیل پر غیرمعینہ بند آج 27ویں دن میں داخل ہوگیا۔

جی این ایل ایف کے لیڈر نیرج جمبا نے الزام لگایا کہ تسی کی موت مبینہ طور پر مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی فائرنگ میں کل رات تقریباً 11 بجے اس وقت ہوئی جب وہ دوائیں لینے جا رہا تھا۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز نے اس وقت گولیاں چلائیں، جب کچھ بدمعاش ایک کار میں توڑ پھوڑ کر رہے تھے ۔دارجلنگ ضلع انتظامیہ اور پولیس نے سونادا میں سیکورٹی فورسیز کے ذریعہ فائرنگ کئے جانے کی تردید کی ہے ۔دوسری طرف دارجلنگ ضلع انتظامیہ اور پولیس نے سونادا میں سیکورٹی فورسیز کی جانب سے فائرنگ کئے جانے کی تردید کی ہے ۔ مہلوک کے گھروالوں نے اس معاملے میں سونادا تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ تُسی کی موت کی خبر پھیلتے ہی واقعہ کی مخالفت میں مردوں اور عورتوں کا ہجوم سڑکوں اور گلیوں پر اتر آیا اور ٹریفک جام کردیا۔گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کے معاون سکریٹری ونے تمانگ نے الزام لگایا کہ تسی کی موت کے ساتھ ہی دارجلنگ ہلز میں سیکورٹی فورسیز کی فائرنگ میں اب تک چار گورکھا حامی مارے جا چکے ہیں۔دریں اثنا ریاست کے وزیر سیاحت گوتم دیو نے سلی گوڑی میں نامہ نگاروں سے کہاکہ اس نوجوان کی موت افسوسناک ہے اور وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی موت کیسے ہوئی ہے، لیکن سونادا میں سیکورٹی فورسیز کے ذریعہ فائرنگ نہیں کی گئی۔ دوسری طرف گورکھا جن مکتی مورچہ نے آج الزام عائد کیا کہ نوجوان کارکن کی موت پولیس فائرنگ میں ہوئی اور اس کی نعش پر گولیوں کے نشان پائے گئے۔ اس سے دارجلنگ پہاڑیوں میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT