Saturday , June 24 2017
Home / Top Stories / دارجلنگ میں تشددکے خاتمہ اور قیام امن کیلئے راجناتھ سنگھ کی اپیل

دارجلنگ میں تشددکے خاتمہ اور قیام امن کیلئے راجناتھ سنگھ کی اپیل

تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ‘ فریقوں کے مابین مذاکرات پرزور‘مرکزی وزیر داخلہ کی ممتابنرجی سے بات چیت
نئی دہلی ۔ 18 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک ایسے وقت جب دارجلنگ علحدہ ریاست کے مطالبہ کے ساتھ تشدد سے بری طرح متاثر ہوچکا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج احتجاجیوں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہ کریں اور اس کے بجائے کسی بھی مسئلہ کی یکسوئی کیلئے مذاکرات شروع کئے جائیں ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ تشدد سے کسی بھی مسئلہ کی یکسوئی میں کبھی بھی کوئی مدد نہیں مل سکی ہے ۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ پُرامن اور پُرسکون رہیں ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’ تمام متعلقہ فریقوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے اختلافات اور غلط فہمیوں کا خوشگوار و دوستانہ ماحول میں بات چیت کے ذریعہ ازالہ کریں ‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان جیسے ایک جمہوری ملک میں تشدد سے کبھی کوئی مسئلہ حل کرنے میں مدد نہیں مل سکتی ‘ اس کے بجائے باہمی مذاکرات کے ذریعہ ہر مسئلہ کی یکسوئی ممکن ہوگی ۔ انہوں نے سلسلہ وار ٹوئیٹس میں کہا کہ ’’ میں دارج لنگ میں رہنے والے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پُرامن اور پُرسکون رہیں ‘ کسی کو بھی تشدد پر نہیں اترنا چاہیئے ‘‘ ۔ راجناتھ سنگھ نے مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی سے بھی آج بات چیت کی اور تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’ انہوں ( بنرجی) نے مجھے دارجلنگ میں پیدا شدہ صورتحال سے باخبر کی ہیں ‘‘ ۔

دارجلنگ میں امن کیلئے ممتا کی دو رخی حکمت عملی
کولکتہ ۔18جون ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس حکومت نے دارجلنگ پہاڑیوں مںی جاری بحران سے نمٹنے اور علحدگی کیلئے ایجی ٹیشن کی قیادتک رنے والی تنظیم تنظیم کورکھا جن مکتی مورچہ کو سب سے الگ تھلگ کرنے کیلئے دو رخی حکمت عملی تیار کی ہے ۔ اس حکمت عملی کا پہلا حصہ پہاڑیوں میں مختلف طقات کیلئے تشکیل شدہ تمام 15ترقیاتی ایجی ٹیشن چلانیوالوں میں اختلافات پیدا کرنے سے متعلق ہے ۔ دوسرے حصہ کے تحت گورکھا جن مکتی مورچہ ایجی ٹیشن کے رواں ایجی ٹیشن کو استعمال کرتیہ وئے پہاڑی علاقوں سے پہنچنے والی رسدات اور راشن سپلائی کو مسدود کردیا جائے تاکہ احتجاجی پسپا ہوجائیں ۔ ممتا بنرجی نے آج اس ضمن میں انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے گفت و شنید کی گذشتہ روز بھی وہ سکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں صورتحال پر غور کرچکی ہیں ۔ دارجلنگ کو علحدہ ریاست کا درجہ دینے کیلئے گورکھالینڈ جن مکتی مورچہ کے پُرتشدد احتجاج کے سبب پہاڑی علاقوں میں گذشتہ کئی دن سے عام زندگی مفلوج ہے۔ امن و قانون کی برقراری کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور مرکزی فورسیس کو بھی چوکسی کی ہدایت کی گئی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT