Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / دارجلنگ میں سیاسی پارٹیوں کے جلوس، مرکزپر تنقید

دارجلنگ میں سیاسی پارٹیوں کے جلوس، مرکزپر تنقید

دارجلنگ (مغربی بنگال) ۔ 26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) گورکھا جن شکتی مورچہ اور دیگر سیاسی پارٹیوں نے غیرمعینہ مدت کے بند کے 42 ویں دن جلوس نکالے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں جلوس نکالے گئے جن میں مرکز پر عوام کی امنگوں ’’علحدہ ریاست گورکھالینڈ‘‘ کو نظرانداز کرنے پر تنقید کی۔ پہاڑی علاقہ کی کئی سیاسی پارٹیوں نے مورچے اور گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ کی زیرقیادت جلوس نکالے۔ تاہم کسی بھی تشدد یا آتشزنی کی واردات کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ مورچہ جنرل سکریٹری روشن گری نے بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پہاڑی عوام کی امنگوں اور علحدہ ریاست گورکھالینڈ کے مطالبہ کو نظرانداز کررہی ہے۔ ایک دن قبل مرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ ہنس راج گنگارام اہیر نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ علحدہ ریاست گورکھالینڈ کا مطالبہ اور دارجلنگ کے دیگر احتجاج عوام پر اپنی گرفت کھو رہے ہیں۔ فرنٹ کے ایک اور سینئر قائد نے کہا کہ بی جے پی ایسے بیانات دیتے ہوئے ہمارا مذاق اڑا رہی ہے۔ 42 دن سے جاری بند دوسرا سب سے طویل بند پہاڑی ریاست میں بن کر ابھرا ہے۔ قبل ازیں 1988ء میں 40 دن کا بند گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ اور 2013ء میں 44 دن کا بند گورکھا جن مکتی مورچہ کی زیرقیادت چلائے گئے تھے۔ انٹرنیٹ خدمات پر 18 جون سے امتناع عائد ہے۔ ضلع انتظامیہ نے اس کی 4اگست تک توسیع کردی ہے۔ سوائے ادویہ کی دکانوں کے تمام کاروباری ادارے، ریسٹورنٹس ، ہوٹلس، اسکولس اور کالجس بند کے آغاز سے اب تک کام نہیں کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT