Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / دارجلنگ میں فوج کا فلیگ مارچ

دارجلنگ میں فوج کا فلیگ مارچ

دارجلنگ ہل بند کا اعلان، غیر قانونی اقدام : ممتا۔ گرونگا دارجلنگ ہلز کا چیف منسٹر ہونے کا اعلان
دارجلنگ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) فوج نے آج دارجلنگ، سیانگ اور کالم پونگ علاقوں میں فلیگ مارچ کیا جبکہ تشدد زدہ دارجلنگ ٹاؤن میں صورتحال بہتر ہوتی نظر آرہی ہے۔ حکومت مغربی بنگال نے پہاڑی قصبوں کرسیان اور کالنگ پون میں برقراری امن کے لئے احتیاطی اقدام کے طور پر فوج طلب کرلی تھی۔ دارجلنگ میں وسیع پیمانے پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے تھے۔ وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے کہاکہ دارجلنگ ٹاؤن میں 6 کالنگ پون میں دو اور کرسیانگ میں ایک کالم فوج تعینات ہوگئی ہے۔ فوج، سی آر پی ایف اور سیول انتظامیہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے گورکھا جن مکتی مورچہ کے بند کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہاکہ حکومت اُن تمام کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی جو اِس بند میں شرکت کریں گے۔ کل مورچے کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے حکومت کو فوج طلب کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اُنھوں نے کہاکہ گرومکی گورکھا لینڈ علاقائی انتظامیہ پہاڑی قصبوں کو ترقی دینے سے قاصر رہا ہے۔ اِس لئے اُن کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ دریں اثناء مورچے کے صدر بمل گروم نے خود کو پہاڑیوں کا چیف منسٹر قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی کو چیلنج کیاکہ وہ پہاڑی علاقوں میں احتجاج ختم کرکے دکھادیں۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر مغربی بنگال اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں لیکن اُنھیں نہیں بھولنا چاہئے کہ اِس علاقے میں مورچے کا اثر و رسوخ ہے۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب مغربی بنگال کے بایاں محاذ صدرنشین بمن بوس نے آج کہاکہ ترنمول کانگریس حکومت دارجلنگ ہلز کے مسئلہ سے غلط طریقے سے نمٹ رہی ہے۔ اُنھوں نے مطالبہ کیاکہ صورتحال کی یکسوئی کے لئے کل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ 43 سال بعد ترنمول کانگریس حکومت نے ہلز میں کابینی اجلاس منعقد کرنے کے لئے لاکھوں روپئے صرف کئے لیکن پہاڑی قصبوں میں امن قائم کرنے سے قاصر رہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر حکومت کل جماعتی اجلاس طلب کرے تو پہاڑی قصبوں کے مسائل کا حل ممکن ہوسکتا ہے۔ بوس نے جو سی پی آئی ایم کے پولیٹ بیورو رکن بھی ہیں، یاد دہانی کی کہ جیوتی باسو کی زیرقیادت بایاں محاذ کی حکومت کے دوران 1980 ء کی دہائی میں پہاڑی علاقے پرامن تھے۔

آوارہ ہوں ، میرا جوتا ہے جاپانی نغموں کی آستانہ میں گونج
آستانہ ۔ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ایس سی او چوٹی کانفرنس میں شریک قائدین کی جانب سے ہندوستانی کلاسکی موسیقی جیسے آوارہ ہوں اور میرا جوتا ہے جاپانی نغموں کی ستائش کرتے ہوئے سنا ہے۔ ان قائدین نے راجکپور کی فلموں کی یاد دلاتے ہوئے 1951 تا 1955 کی ہندی فلموں کی ستائش کی۔

TOPPOPULARRECENT