Tuesday , July 25 2017
Home / ہندوستان / دارجلنگ میں گورکھا جن مکتی مورچہ کا بندجاری

دارجلنگ میں گورکھا جن مکتی مورچہ کا بندجاری

دارجلنگ 22 جون (سیاست ڈاٹ کام) دارجلنگ ہلز میں گورکھا جن مکتی مورچہ کے احتجاج اور غیر معینہ مدت کی ہڑتال 11 ویں دن میں داخل ہوگئی ہے، اس کی وجہ سے ایمبولینس سرویس بُری طرح متاثر ہے اور ٹی وی کیبل کنکشن بھی منقطع کردیا گیا ہے۔ اب تک کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے البتہ گورکھا جن مکتی مورچہ کے کارکنوں اور سکیورٹی فورس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ ایمبولنس آپریٹرس ہراسانی کے خوف سے مریضوں کو لیجانے سے انکار کررہے ہیں۔ صبح سے مقامی کیبل ٹی وی کنکشنس بھی منقطع کردیئے گئے ہیں۔ آج پانچویں دن بھی انٹرنیٹ سرویس معطل رہی۔ حکام نے اِس سرویس کو افواہوں پھیلنے سے روکنے کے لئے معطل کیا ہے۔ تشدد کے لئے اُکسانے والوں کی جانب سے افواہیں پھیلائی جارہی تھیں۔ آج صبح سے ہی پولیس نے پٹرولنگ میں شدت پیدا کردی ہے۔ اگرچیکہ مغربی بنگال حکومت نے آج سلیگوڈی میں کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا لیکن تمام پہاڑی علاقوں کی پارٹیوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔ یہاں کی عام زندگی مفلوج ہے۔ گورکھا جن مکتی مورچہ نے کل 12 گھنٹے کی راحت دینے کا اعلان کیا تھا۔ کیوں کہ اسکول سے طلبہ کو محفوظ طریقے سے نکالا جاسکے۔ گورکھا لینڈ کے لئے احتجاج کرنے والی گورکھا جن مکتی مورچہ کا ساتھ دینے بی جے پی پس و پیش کا شکار ہے۔ ایک حلیف پارٹی کی حیثیت سے بی جے پی شش و پنج میں پڑ گئی ہے کہ آیا وہ علیحدہ ریاست کی تائید کرے یا مخالفت۔ بی جے پی کا دوہرہ معیار دیکھا جارہا ہے۔ 2009 ء اور 2014 ء میں دارجلنگ لوک سبھا نشست سے دو مرتبہ کامیاب ہونے والی بی جے پی کو گورکھا جن مکتی مورچہ کی مدد حاصل تھی، اِس کی مدد سے ہی بی جے پی نے لوک سبھا چناؤ لڑا تھا اور اِس کے ساتھ ہمدردی دکھاتے ہوئے گورکھا لینڈ کے مطالبہ پر غور کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن بی جے پی کو اِس وقت اندرونی طور پر ناراضگی کا سامنا ہے اِسی لئے گورکھا لینڈ کے متعلق اِس کا موقف غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔ بی جے پی ضلع جنرل سکریٹری شانتا کشور گورنگ نے کہاکہ ہماری پارٹی بی جے پی گورکھا لینڈ کے لئے جاری مطالبہ کی تائید یا مخالفت کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ گورکھا لینڈ کے مطالبہ کی تائید کی جاتی ہے تو وہ دیگر رائے دہندوں کی حمایت سے محروم ہوجائے گی اور مغربی بنگال میں بی جے پی کو مخالف بنگالی پارٹی سمجھا جائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT